اسلام آباد۔(نمائندہ خصوصی ):ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتہ کرنے کے وقت کا انتخاب طویل المدتی صحت، بڑھاپے اور مجموعی عمر پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم جس کی قیادت ڈاکٹر حسن دشتی (میساچوسٹس جنرل اسپتال
اور ہارورڈ میڈیکل اسکول) نے کی ، انہوں نے 42 سے 94 سال کی عمر کے افراد کے کھانے کے اوقات، صحت کے حالات، جینیاتی عوامل اور اموات کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ یہ ڈیٹا یونیورسٹی آف مانچسٹر سے حاصل کیا گیا۔یہ تحقیق رواں ماہ جریدہ "کمیونیکیشنز میڈیسن” میں شائع ہوئی، جس سے معلوم ہوا کہ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے لوگ ناشتہ اور رات کا کھانا دونوں تاخیر سے کرنے
لگتے ہیں اور ان کا کھانے کا مجموعی وقت کم ہوتا جاتا ہے۔تجزیے سے پتہ چلا کہ جو افراد باقاعدگی سے دیر سے ناشتہ کرتے ہیں اُنہیں ڈپریشن، تھکاوٹ، دانتوں کے مسائل اور یہاں تک کہ وقت سے پہلے موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ ناشتہ جلدی کرتے ہیں، مثلاً صبح 7 بج کر 50 منٹ پر، اُن میں موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم پایا گیا۔ماہرین نے بتایا کہ ناشتہ کرنے کے وقت میں ہر ایک گھنٹے کی تاخیر سے موت کا خطرہ 8 سے 11 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر
دیر سے ناشتہ کرنا معمول بن جائے تو یہ ڈپریشن، نیند کی خرابی اور جسمانی کمزوری جیسے صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔انہوں نے تجویز دی ہے کہ ناشتہ کے وقت کو بھی صحت کا ایک اہم اشارہ جیسے کہ خوراک کا معیار اور طرز زندگی کی عادات سمجھا جائے۔
