افسانوی مجموعےکو میں نے فقط دیکھا نہیں پڑھا ہے۔ اس نے مجھ سے اپنا آپ پڑھوایا ہے۔ کیا ہے اس میں؟
میں کس باغ کی پروائی؟کس کھیت کی مولی ہوں۔ اس موہنی کتاب کا پہلا ایڈیشن آیا تو خالد مجید صاحب نے پبلش کیا اس کا دیباچہ لکھنے والی شخصیت محترمہ بانو قدسیہ تھیں۔وہ لکھتی ہیں،”یہاں ہوا چلتی ہے تو پوچھتی ہے، کیا خدا محبت اور سچ ایک مقام پر ہی ہوتے ہیں؟”دراصل اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ لکھنے والے اور پڑھنے والی کی ذہنی تربیت ، دور، زمانے اور مکانے میں کچھ مماثلت ہے۔۔۔۔ دیہی زندگی کے رنگ جو میری روح کے رنگ ہیں ایک تو وجہ تسکین اس بنیاد پہ ہے ۔۔ دلیل یہ ہے کہ فریم سے باہر’ میں میری ایک کہانی ہے بھوری۔۔ جس میں صنفی امتیاز کی بات ہے۔۔ سوچ دالان میں پہلی کہانی کا عنوان بھورا’ ہے۔۔کہانی کے من بہیتر میں بات چھپی ہے کہ کس طرح کمتر طبقہ خود سے مضبوط طبقے کی روایات سے متاثر ہو کر ماڈلنگ کے اصول پر رسوم کو کاپی کرتا ہے۔مصنف کی شاندار حسِ مشاہدہ کو داد ہے۔ ایک تو فضا میری من مرضی کی ۔۔ پھر مناظر کی تصویر کشی جیسے میں پنجاب کے گاؤں میں گھوم رہی ہوں۔۔ کردار میرے من میں بسنے والے ہیں۔۔ سوال وہی جن کا جواب نہ ان کو ملا نہ مجھے نہ کسی اور کو پورے طور ملے گا۔
پورا سچ۔۔۔ کیا ہے؟ جب کچھ پتہ نہیں چلتا تو سعید ملک کی کہانی کا ہیرو بڑے آرام سے گاڑی کا سٹیرنگ ہی موڑ لیتا ہے۔ اسے کون پوچھنے والا ہے۔شہرِ محبت’۔۔۔ میں محبت کے فلسفے۔۔۔بڑے دلنشین ہیں۔
شال نظریں’۔۔۔ ایک بزرگ کس طرح نئی نسل کو دیکھتے ہیں مگر آخر میں کس طرح دھڑام سے ان کا اپنا کردار زمین بوس ہو جاتا ہے۔خوف عقیدت میں مذہب کی اندھی عقیدت پر بات ہے۔
آہٹ ۔۔۔ بھی دلچسپ۔۔۔ایک معصوم سی نصیحت کہ اگر محبت چاہتی ہو تو مکمل توجہ دینی ہو گی ۔ وہ الگ بات کہ آج کے
فیمنیسٹ دور میں پڑھنے والی یہی بات اپنے شریکِ سفر سے کہے گی کہ تمہیں محبت چاہیے تو تم گھر میں انتظار کرو اور میری گاڑی رات کے کسی پچھلے پہر موڑ کاٹتی گلی میں داخل ہو تو تم پورا کان بن جانا اور بھاگ کر میرا استقبال کرنا۔
اظہارِ محبت کا حاصل جملہ "ہم اپنی محبتوں کے اظہار میں۔۔۔ کتنی دیر کر دیتے ہیں”شاندار افسانوی اسلوب ہے۔ کچھ افسانے ہیں کچھ نثرانے ہیں۔میری نظر میں ایسی تمام کہانیاں معتبر ہیں کیونکہ ان کا ہر جملہ ایک کہانی ہے۔ کہانی کی شکل بدلی ہوئی ہے ۔ جدید رنگ ہے۔ممدو نائی۔۔۔ میں کہانی کار انسانیت اور روحانیت کا فلسفہ وضاحت سے کردار کی مدد سے بیان کرتا ہے
آخری سطر
"مجھ سے اس زندگی کی ساری جھوٹی کامیابیوں کا غرور لے کر اس کا فقط کچھ حصہ ہی مجھے دے دو۔۔”شرعی رضامندی کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔غبار۔۔۔۔ میں سماجی رویے کی دکھتی رگ کو پکڑا ہے کس طرح بچے جب جوان ہو جاتے ہیں اپنے ماں باپ پر قدغن لگاتے ہیں۔۔انہیں پیشے سے کمتری کی بو آنے لگتی ہے اور اس کا اثر والدین پر کیسے پڑتا ہے۔۔ اتنا فطری منظر کھینچتے ہیں کہ لگتا ہے سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ ماسی جنتاں ممدو نائی۔۔ سارے کردار میرے دیکھے بھالے یہاں باتیں کرتے ہیں۔بلاعنوان میں۔۔۔ رقابت کے جذبے کو کس حساسیت سے پینٹ کیا ہے۔اسے وہی ایسے مصور کر سکتا ہے جس کی قوتِ مشاہدہ تیز ہو اور جو نفسیات کی گہرائیوں کو سمجھ سکے۔اسلوب دیکھیے پیش لفظ میں موجود یہ سطور
اسی طرح شہر کی چندھیا دینے والی روشنی سے جب آنکھیں موند کے پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں
تو خانہ دل کی خستہ ہوتی دیوار پہ کچھ نقش ابھرنے لگتے ہیں, جن میں صبح صبح خاکستری چڑیوں کی چونچوں میں رکھے دعائیہ نغمے،کیکر اور پھلاہی کا چھلنی چھلنی ٹھنڈا سایہ اور اس کے
بور کی مستی بھری مخمور مہک اور بے خانماں شریہنہ درخت کے سرخ خوشنما پھولوں کی نازک صراحیوں میں بھرا میٹھا خوش ذائقہ رس , گھڑونجی پہ رکھے گھڑے کے پیندے سے رستے اور نیچے بچھی ریت پہ دائرہ بناتے , شفاف موتی جیسے پانی کے قطرے اور منمناتی بکریوں کی چھاگل میں تازہ میٹھے دودھ کی مہکار، شامل ہیں۔
سوچ دالان کا یہ دوسرا اور نیا ایڈیشن یاسر پبلیکشنز سے حال ہی میں شائع ہواہے۔

