تحرير رفعت سعيد
پاسبان نامی ايک سماجی تنظيم کے سربراہ برادر الطاف شکور صاحب کو اس بات پر غصہ ہے کہ کراچی يونيورسٹی ميں قائم مقام وائس چانسلر ، باہر يعنی پڑوس کی يونيورسٹی NED سے کيوں لگايا گيا ، اور يہ جامعہ کراچی کے "قابل متحرک "اساتذہ کی توہين ہے ،مجھے الطاف شکور جيسے شخص سے يہ اميد ہر گز نہيں تھی کہ وہ بھی کسی وائس چانسلر کی لسانی شناخت کو ليکر پروپکنڈے کا شکار ہونگے ،جامعہ کراچی کو اس نہج پر سابق وائس چانسلر خالد
عراقی اور انکی "خواتين برگيڈ "نے پہنچايا ہے ۔اگر موصوف خود اور انکے بعض ساتھی اور کچھ مفاد پرست پروفيسر ز گندی سياست نہ کرتے تو قائم مقام وائس چانسلر ، ڈاکٹر حارث شعيب کو بنانے کا فيصلہ ہو چکا تھا ،مگر جب آپ کی سابق درسگاہ اين ای ڈی کے ايک سابق وائس چانسلر نے کچھ عرصہ قبل تحقيقات کا آغاز کيا تو ، مالی اور اخلاقی نوعيت کے ہوشربا انکشافات ہوئے ، جس کے بعد کسی غير جانب دار شخصيت مقرر کرنے کا فيصلہ کيا گيا ،برادر اب آتے
ہيں مستقل وائس چانسلر کے تين اميد واروں کی طرف ، شاٹ لسٹ معظم علی خان اس يونيورسٹی کے رجسٹرار رہے ، موصوف سابق وائس چانسلر ڈاکٹر قيصر کے ساتھ مل کر گيٹ نمبر ٹو پر پی ايس او کا پيٹرول پمپ کوڑيوں کے مول الاٹ کرواکر مٹھائی وصول کر چکے ہيں ، پھر معظم علی خان نے سپريم کورٹ ميں جواب جمع کروايا کہ پيٹرول پمپ کی الاٹ منٹ درست ہے، کيونکہ سنڈيکيٹ سے منظور ی کروائی گئی ہے، مگر يونيورسٹی کی زمين ليز پر بغير بڈنگ
کے دينا غير قانونی ہے ،نئے وائس چانسلر کے اميد وار معظم علی خان کے اس کارنامہ کی وجہ سے کراچی يونيورسٹی کے فيڈ ر پر انڈسٹريل کمرشل ٹيرف کا اطلاق ہوا اور اب يونيورسٹی کو اضافی طور پر 70 لاکھ روپے کے اليکٹرک کو ادا کرنے پڑتے ہيں ، کيا جامعہ کراچی کو پے درپے نقصان پہنچانے والا اب پھر وائس چانسلر کے لئے شاٹ لسٹ ہوا ہے ، خالد عراقی کی مافيا اسی لئے معظم علی خان کے لئے مہم چلا رہی ہے ، تا کہ جامعہ کراچی ميں لگے شہد کو کھا سکيں ، برادر يہ صرف جھلک ہے ،برادر آپ اس وقت کہاں تھے ؟ جب اسی يونيورسٹی کے وائس چانسلر اور اساتذہ کا ايک
گروپ غنڈہ گردی، اقربا پروری ، فنڈز ميں خرد برد، امتحانی نتائج ميں بھاری رقوم ليکر تبديلياں ہو رہی تھيں ، جب ايم بی بی ايس کے امتحان ميں فيل اميد وار کو پاس کيا جاتا تھا ،اگر صرف ميڈيکل کالج کے وہ نتائج جسے عراقی کے منظور نظر کنٹرولر نے تبديل کيا سامنے لائے گئے تو پی آئی اے کے پائلٹس پر پابندی کی طرح دنيا بھر ميں ينگ پاکستانی ڈاکٹروں
کے داخلوں پر بھی پابندی لگ سکتی ہے ؟جب اس ادارے کے ملازمين اور بعض پروفيسرز مادر علمی کی زمين پر قبضہ کرواکر ، نئی گاڑياں وصول کر رہے تھے ؟ اور سب سے بھيانک کام ايک سابق ڈين سوشل سائنسز کی وہ تقرير ہے جو خالد عراقی کے اعزاز ميں دی گئی دعوت ميں کی گئی ، جس ميں کھل کر لسانی عصبيت پر مبنی تقارير کی گئيں ، کيا کسی استاد کو يہ زيب ديتا ہے ،افسوس کہ آپ نے اس قبل کبھی جامعہ کراچی کے ايک انسٹيوٹ کبجی ميں منعقدہ محفلوں اور اس ميں شريک بعض اساتذہ کی شرکت کی کبھی مزمت نہيں کی ، آپ تو ايک سماجی اور اسلامی تحريک کے داعی بھی ہيں




