بعض کتابیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ ایک قوم کی تاریخ، تہذیب، ہجرت، قربانیوں اور اجتماعی یادداشت کی امین بن جاتی ہیں۔ "شہرِ محبت، لال منیر ہاٹ” بھی ایسی ہی ایک منفرد، معلوماتی اور تاریخی اہمیت کی حامل کتاب ہے، جس کے مصنف جناب سید اقبال حسین ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک انجینئر ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ امریکہ منتقل ہونے سے قبل وہ پاکستان میں اہم سرکاری و انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے باوجود تاریخ سے ان کی گہری وابستگی، تحقیق کا ذوق اور سماجی و ادبی سرگرمیوں سے دلچسپی نے انہیں اپنی یادوں، مشاہدات اور تاریخی حقائق کو ایک مستند کتابی شکل دینے پر آمادہ کیا۔
حال ہی میں اس کتاب کی پروقار تقریبِ رونمائی کراچی پریس کلب میں منعقد ہوئی، جس کا اہتمام مصنف کے دیرینہ اسکول کے دوست، کراچی پریس کلب کے رکن اور ممتاز سماجی و ادبی شخصیت حسن امام صدیقی کی دعوت پر کیا گیا۔ اس موقع پر سید اقبال حسین نے اپنے خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ان کے آباؤ اجداد نے تحریکِ پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 1946ء کے بہار فسادات میں ان کے متعدد قریبی عزیز اور رشتہ دار شہید ہوئے، جبکہ 1947ء میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کا خاندان شمال مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے معروف سرحدی شہر لال منیر ہاٹ منتقل ہوا۔ یہ ہجرت صرف ایک مقام سے دوسرے مقام تک کا سفر نہیں تھی بلکہ قربانیوں، جدائی، دکھ اور آزمائشوں سے بھرا ایک ایسا سفر تھا جس میں انہیں اپنے کئی پیاروں کی شہادت کا غم بھی سہنا پڑا۔ انہی تلخ یادوں اور تاریخی حقائق کو مصنف نے نہایت درد مندی اور سچائی کے ساتھ اس کتاب میں قلم بند کیا ہے۔
سید اقبال حسین نے اپنی ابتدائی تعلیم لال منیر ہاٹ ریلوے ہائی اسکول سے حاصل کی، بعدازاں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پھر کراچی یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کیا۔ کتاب میں انہوں نے نہ صرف اپنی تعلیمی زندگی بلکہ ہجرت کے بعد پیش آنے والی مشکلات، معاشرتی تبدیلیوں، ذاتی تجربات اور جدوجہد کا بھی نہایت مؤثر انداز میں ذکر کیا ہے۔مصنف نے اپنے ماموں، استاد اور برصغیر کے نامور شاعر و ادیب پروفیسر ڈاکٹر کلیم عاجز کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، جنہیں حکومتِ ہند نے "پدم شری” جیسے اعلیٰ سول اعزاز سے نوازا، جبکہ ان کی وفات پر سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ یہ تذکرہ کتاب کی ادبی اہمیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
یہ کتاب صرف ذاتی یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اہم تاریخی دستاویز بھی ہے۔ سید اقبال حسین نے گہرے مطالعے اور تحقیق کی بنیاد پر برصغیر کی تاریخ، تحریکِ پاکستان، بہار کے مسلمانوں، ہجرت اور متعدد تاریخی واقعات کو مستند حوالوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی پیش کیا ہے کہ بہار میں مسلمانوں کی آمد غزنی اور افغانستان کے علاقوں سے ہوئی، جس کے حق میں تاریخی شواہد بھی پیش کیے گئے ہیں۔
کتاب میں عمرکوٹ، بہاولپور، خیرپور، لسبیلہ، نگر، ہنزہ، سوات، مکران، ژوب، فاران اور گوادر سمیت متعدد تاریخی ریاستوں اور علاقوں کا ذکر موجود ہے۔ اس کے علاوہ مصنف نے پاکستان کی سیاسی تاریخ پر بھی ایک جامع اور غیر جانب دار طائرانہ نظر ڈالی ہے، جس کے ساتھ تاریخی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔اس کتاب کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں لال منیر ہاٹ میں 69 ہجری کے دور سے منسوب صحابۂ کرامؓ کے زمانے میں تعمیر ہونے والی تاریخی مسجد اور دیگر آثار کا ذکر اور نادر تصاویر شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، رنگین صفحات، لال منیر ہاٹ ریلوے ہائی اسکول کے اساتذہ اور طلبہ کی یادگار تصاویر، تاریخی نقشے اور دیگر نایاب مواد اس کتاب کو مزید منفرد بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ، ہجرت، تہذیب اور برصغیر کے ماضی سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب کسی قیمتی تحفے سے کم نہیں۔”شہرِ محبت، لال منیر ہاٹ” کو امت فاطمہ (شہید) اکیڈمی، کراچی نے شائع کیا ہے۔ کتاب پاکستان میں 2500 روپے جبکہ بیرونِ ملک 10 امریکی ڈالر (بغیر ڈاک خرچ) میں دستیاب ہے۔ مصنف سے iqbal57@hotmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ کتاب کے حصول کے لیے 0321-2511060 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔تقریبِ رونمائی میں ڈاکٹر توصیف احمد خان، حسن امام صدیقی، وصی قریشی، فاروق عرشی، سرفراز احمد، شائستہ بخاری، ابو خورشید عارف، نعیم اختر، شاہد علی خان، کے زیڈ صدیقی، ریحان محمود خان، احمد حسن، آصف احمد خان اور دیگر اہلِ علم و ادب نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر توصیف احمد خان کی جانب سے مصنف کو سندھ کی ثقافتی روایت کے مطابق اجرک بھی پیش کی گئی۔
"شہرِ محبت، لال منیر ہاٹ” صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ہجرت، تاریخ، تہذیب، تحقیق، قومی شناخت اور اجتماعی یادداشت کا ایک زندہ دستاویز ہے۔ یہ ماضی کے ان اوراق کو محفوظ کرتی ہے جو وقت کے ساتھ دھندلا رہے ہیں، اور نئی نسل کو اپنی جڑوں، اپنی قربانیوں اور اپنی تاریخ سے جوڑنے کا اہم ذریعہ بنتی ہے۔ بلا شبہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے ہر قاری کے لیے یہ ایک قابلِ مطالعہ، مستند اور قیمتی تصنیف ہے۔
