• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

یورپ و امریکا میں شدید گرمی کی اصل وجہ حصہ اول

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جولائی 12, 2026
in کالمز
0
یورپ و امریکا میں شدید گرمی کی  اصل وجہ  حصہ اول
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مغربی یورپ اور شمالی امریکا آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں ۔ شدید گرمی کی تباہ کاری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک صرف جرمنی میں گرمی کی وجہ سے پانچ ہزار 120 افراد موت کا شکار ہوچکے ہیں ۔ فرانس ، بلجیم اور نیدرلینڈ میں یہ تعداد مجموعی طور پر چار ہزار کے قریب ہے ۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس یورپ میں گرمی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد پونے دو لاکھ سے زائد تھی ۔ فرانسیسی میڈیا فرانس 24 کے مطابق صرف فرانس تا اسپین کے علاقے میں 10 کروڑ سے زاید افراد گرمی کے متاثرین میں شامل ہیں ۔ لوگ صرف گرمی سے نہیں مر رہے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے جگہ جگہ جنگلات میں آگ بھڑک رہی ہے ۔ اس کی وجہ سے شدید آندھی کے ساتھ تیز بارشیں ہورہی ہیں جو سیلاب کا موجب بن رہی ہیں ۔ یعنی شمالی امریکا اور مغربی یورپ کے باشندے آج کل قدرت کی قہر سامانی کا سامنا کررہے ہیں ۔ اٹلی میں عدالتوں نے عام مقدمات کی سماعت روک دی ہے ۔ جرمنی اور دیگر ممالک میں کھلے میدانوں میں ہونے والے کھیل کے ایونٹ منسوخ کردیے گئے ہیں ۔ لوگوں اور حکومت دونوں کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ آخر اس قدرتی آفت سے کس طرح نمٹیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یورپ اور امریکا میں یہ سب کچھ پہلی مرتبہ ہورہا ہے ۔ ایسا ہی کچھ گزشتہ برس بھی ہوا تھا بلکہ یوں کہیے کہ اس سب کا آغاز بہت پہلے ہوا تھا تاہم اس میں شدت 2023 سے آنا شروع ہوئی اور سال بہ سال یہ مزید شدید ہوتا جارہا ہے ۔

اتنا تو یورپ میں جنگوں اور دہشت گردی سے بھی اموات نہیں ہوئیں جتنی قدرت کے بپھرنے سے ہورہی ہیں ۔ سوال تو بنتا ہے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے ۔ اس سوال کا جواب ہر طرف موجود ہے ۔ سب کی تان ایک ہی طرف آ کر ٹوٹتی ہے کہ یہ سب کچھ حضرت انسان کا خود کیا دھرا ہے ۔ کاربن کا اخراج روز بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے قدرتی معاملات میں مداخلت ہوئی ۔ اس کا خمیازہ اب سب کے سامنے ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ ایل نینو ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے وجود میں آیا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ انسان نے قدرتی جنگل ختم کرکے ہر طرف کنکریٹ کا جنگل بسا دیا ہے جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایک ایسا شخص جو کارپوریٹ میڈیا کے پروپیگنڈے کے ٹرانس میں نہیں ہے ، اس کے ذہن میں ضرور یہ سوال اٹھے گا کہ کیا ایسا ہی ہے ۔

آئیے اس کا جواب ڈھونڈتے ہیں ۔ یہاں تک تو کسی اختلاف تو کیا تبصرہ کی بھی گنجائش نہیں ہے کہ یہ سب کچھ جو بھی ہورہا ہے کاربن کے بے انتہا اخراج کی بناء پر ہو رہا ہے ۔ مگر یہ آدھا سچ ہے ۔ اس سے آگے جھوٹ ہے کہ صنعتی ترقی ، بڑھتے شہر اور توانائی کے لیے پٹرولیم کے استعمال سے ہی یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔ ٹھیک ہے کہ یہ سب بھی کاربن کے اخراج کا ذریعہ ہیں مگر یہ ذریعہ اتنا بڑا نہیں کہ اس کی وجہ سے پوری دنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں اتنی تیز ہوجائیں کہ ہر سُو تباہی پھیلا دیں ۔ تو پھر کیا وجہ ہے ؟ آئیے سچ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

یہ 24 دسمبر 1979 کا دن تھا جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تھا ۔ ا س دن سے لے کر آج تک یہ دنیا حالت جنگ میں ہے ۔ روس کے افغانستان پر حملے کے بعد میزائیل حملے یا بمباری اتنی زیادہ نہیں تھی مگر امریکا اور اس کے اتحادیوں جس میں پورا یورپ اور آسٹریلیا بھی شامل تھا ، کے افغانستان پر حملے کے بعد اس میں بے پناہ شدت آگئی یا یوں کہیے کہ آسمان سے زمین پر شب و روز بارود کی برسات ہونے لگی ۔ امریکا اور اتحادیوں نے افغانستان میں ڈیزی کٹر بم بھی استعمال کیے جو نیوکلیئر وار ہیڈز کے حامل تھے ، امریکا نے افغانستان میں Mother of All bomb بھی برسایا ۔ امریکا نے افغانستا ن میں کارپٹ بمباری بھی کی ۔ کارپٹ بمباری کا مطلب ہے کہ کسی علاقے میں بمباری اس طرح کی جائے جیسے فرش پر قالین بچھا دیا جاتا ہے یعنی پوری زمین ادھیڑ کر رکھ دی جائے ۔ میزائیل اور دیگر بم تو دن رات ہی برستے رہے ۔ افغانستان پر روسی حملے کے فوری بعد ہی پہلی خلیجی جنگ بھی شروع ہوئی ۔ یہ جنگ ستمبر 1980 میں شروع ہوئی اور اگست 1988 میں اختتام پذیر ہوئی ۔ اس میں بھی لاکھوں ٹن بارود زمین پر برسا دیا گیا ۔ایک سال دوسری خلیجی جنگ بھی جاری رہی ۔ افغانستا ن پر قبضے کے دوران ہی امریکا اور اس کے اتحادیوں نے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کردی ۔ اس مہم میں وہ اس پورے خطہ کو ہی جنگ کی لپیٹ میں لے آیا۔

روس نے افغانستان پر تقریبا 7 لاکھ 80 ہزار ٹن بارود برسایا ۔ امریکا اور یورپ نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں کتنا بارود برسایا ۔ اس کے درست اعداد و شمار تو کلاسیفائی کردیے گئے ہیں تاہم ہم اس کا ایک اندازہ ضرور لگا سکتے ہیں ۔ اس جنگ کے دوران امریکی فوج کو ہر برس چھوٹے ہتھیار اور گولیاں ایک ارب 80 کروڑ کی تعداد میں فراہم کی گئیں ۔ یعنی 20 برسوں میں 36 ارب گولیاں اور چھوٹا اسلحہ ۔ امریکی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی فوج نے ہر سال افغانستان پر تقریبا آٹھ ہزار چھوٹے بڑے بم گرائے ۔ یہ بم ڈھائی سو سے ایک ہزار پاؤنڈ بارود کے حامل تھے ۔ اگر فی بم اوسط پانچ سو پاؤنڈ بھی لیا جائے تو امریکا اور یورپ نے بیس برسوں میں افغانستان پر 40 لاکھ پاؤنڈ بارود برسایا ۔ اسی طرح دونوں خلیجی جنگوں ، عراق ، لیبیا ، سوڈان وغیرہ میں بارود برسانے کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ یمن و شام جیسی بے شمار علاقائی جنگیں ہیں جو مسلسل جاری رہیں ۔ ان سب نے موسم پر زبردست اثر ڈالا اور یہاں سے ایل نینو کا اصل آغاز ہوا ۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی ۔ غزہ پر اسرائیلی بمباری نے تو ساری ہی حدوں کو پار کردیا ۔ایک آزاد اندازے کے مطابق اسرائیل اب تک غزہ پر تقریبا 2 لاکھ 23 ہزار ٹن بارود برسا چکا ہے ۔ اس عدد کا آپ دیگر ممالک سے تقابل نہیں کرسکتے ۔ کہاں غزہ کی چند کلومیٹر کی پٹی اور کہاں بڑے بڑے رقبوں کے حامل ممالک ۔ افغانستان میں امریکا نے بیس برسوں میں جو تباہ کاری کی ہے ، اس سے زیادہ تو اسرائیل نے تین برسوں میں غزہ میں کردی ۔ ان میں وہ ہائی تھرمل بم بھی شامل ہیں جس کی زد میں آنے والی ہر چیز بھاپ بن کر اڑ جاتی ہے اور ان میں نیوکلیئر وارہیڈز والے ڈیزی کٹر بم بھی شامل ہیں ۔ اسرائیل کو یہ سب کرنے میں امریکا کی اعلانیہ بھرپور حمایت حاصل رہی تو یورپی ممالک خاص طور سے فرانس ، جرمنی اور برطانیہ بھی خاموشی سے اس کا ساتھ دیتے رہے ۔ روس اور یوکرین جنگ کی تباہ کاری کا تو یورپ براہ راست شکار ہے ہی ۔ایسا نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی کو پتا نہیں تھا ۔ بین الاقوامی ماہرین مسلسل کئی برسوں سے اس بارے میں خبردار کرتے رہے ۔ اس بارے میں آئندہ آرٹیکل میں مزید بات کرتے ہیں ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اور وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کے مابین اہم ملاقات

اگلی پوسٹ

اسرائیل کے لئے امریکی شہریوں کی حمایت میں تیزی سے کمی آئی ہے، سروے رپورٹ

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
اسرائیل کے لئے امریکی شہریوں کی حمایت میں تیزی سے کمی آئی ہے، سروے رپورٹ

اسرائیل کے لئے امریکی شہریوں کی حمایت میں تیزی سے کمی آئی ہے، سروے رپورٹ

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper