میں نے کراچی میں نوکری کی ہے وہاں کی آبادی اور پولیس نفری کے حساب سے پولیسنگ کرنا بہت مشکل کام ہے ڈھائی سے تین کروڑ کی آبادی کو سنبھالنے کیلئے صرف 42542 ہزار کی نفری ہے کراچی کے علاوہ لیاری/ سہراب گوٹھ/ کٹی پھاڑی / شرین جناح / لالو کھیت جیسے درد سر والے علائقے پورے مُلک میں کہیں نہیں ہیں !!! لیاری میں بلوچ اتنا مضبوط اور متحد ہے !!! اُتنا وہ بلوچستان میں نہیں ہے !!!! سہراب گھوٹھ، کٹی پھاڑی اور شرین جناح میں پٹھان اتنا مضبوط ہے اتنا وہ پشاور و کابل میں بھی نہیں ہے ان علائقوں میں پولیس اور رینجرز کوئی بھی آپریشن آسانی سے نہیں کرسکتی !!!مگر اسلام آباد کی20 لاکھ کی آبادی کیلئے جدید قسم کی پولیس کی 12625 نفری کام کررہی ہے 2026 میں1934 مزید افرادی قوت اسلام آباد پولیس میں شامل کی جائے گی !!!
اسلام آباد کی عوام اور پولیس کو لیاری، کٹی پھاڑی شیرین جناح اور سہراب گوٹھ جیسے مستقل چلینجز کا سامنہ نہیں ہے اور نہ ہی حکومت پنجاب کے سیاسی لوگ اسلام آباد پولیس کے کام میں کوئی مداخلت کرسکتے ہیں ! ٹرانسفر پوسٹنگ میں بھی پنجاب حکومت بھی کوئی مداخلت نہیں کرسکتی !!!! اسلام آباد کے صرف ایک شھر کی پولیس دوسرے صوبوں کی پولیس سے نسبتن آزاد فضا میں میں کام کرنے کی پوزیشن میں ہے !!!مگر اس کے باوجود وہ کیا وجوہات ہیں کہ جن پر 2025 میں 15 اور پولیس ہیلپ لائین پر 71482 جرائم کی شکایات موصول ہوئیں مگر حیرت انگیز طور پر ملزمان کے خلاف صرف 25324 ایف آئی آر درج کی گئیں اور گھر بیٹے 46158 لاوارث مدعان اور Victims کے بااثر ملزمان کو پولیس کی طرف سے کلین چٹ دے دی گئی !!! 46158 کیسز جن کو ہم پولیس کی زبان میں Burking of Crime کہتے ہیں ان میں کم از کم ایک لاکھ ملزمان تو ملوث ہوں گے ؟؟؟ جن ایک لاکھ ملزمان کو اسلام آباد پولیس نے Clean Chit دی وہ ملزمان تو Encourage ہوئے !!! ان ملزمان کے دوبارہ جرم کرنے کیلئے حوصلے تو بڑھے ؟؟؟؟
سال 2026 کے اعداد شمار کے مطابق جنوری سے جون تک صرف 2600 وارداتوں کی ایف آئی آرز درج ہوئی ہیں مگر ان چھ ماہ میں 15 اور پکار ہیلپ لائین پر 50 ہزار سے زائد جرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں باقی جرائم کے ملزمان کو کھلی چھوٹ دے دی گئی اور اُن کو جرم کرنے کا لائیسنس دے دیا گیا !!! لگتا ہے اسلام آباد پولیس جرائم پیشہ افراد کو Clean Chit دیکر تمغہ شجاعت حاصل کرنے کے چکر میں ہے !!!!اسلام آباد میں ناکوں کے علاوہ : پٹرولنگ کے لیے 24 گاڑیاں (فالکن اسکواڈ) اور 149 موٹر سائیکلیں (ایگل اسکواڈ) میں ۔· نئی اضافی گاڑیاں: حال ہی میں 8 نئی پٹرولنگ گاڑیاں تھانوں کو دی گئیں ، اور 10 ڈبل کیبن گاڑیاں (جیسے ٹویوٹا ریوو) سینئر افسران کے لیے منظور ہوئی ہیں ۔
· ڈولفن اسکواڈ کے پاس 195 موٹر سائیکلیں اور ابابیل اسکواڈ کے پاس 35 موٹر سائیکلیں ہیں، جبکہ 6 PERU اور 14 سمارٹ کاریں بھی ہیں اس کے باوجود گروپ کیپٹن عاصم جیسے واقعات کو نہ روک پانا اور اسلام آباد جیسے محفوظ شھر کو کراچی، کوئٹہ، لاہور اور پشاور کی طرح ڈیل کرنا وفاقی دارالحکومت اور وہاں کی عوام کے ساتھ زیادتی ہے !!!!
میرے خیال میں پولینگ کے حساب سے کراچی شھر کا Face ضلع ساوتھ ہے اور سندھ صوبے کی پولیس کا Face کراچی پولیس ہے اسی طرح پاکستان کا Face اور Image اسلام آباد شھر کا امن اور اسلام آباد پولیس ہے میرے ذاتی خیال کے مطابق اسلام آباد پولیس کا Face بھی باقی صوبوں کی پولیس سے مختلف نہیں ہے-ڈی آئی آپریشن جناب طارق جاوید صاحب کا Statement سن کر مجھے افسوس ہوا کہ “ چونکہ ملزم کے ساتھ ایک عورت سوار تھیں اسلئے عورت کے تقدس کی خاطر ملزم کا بیگ چیک نہیں کیا گیا !!!! ملزم اپنے گھر سے لڑکی کے ساتھ تو نہیں نکلا تھا !!! مگر بیگ میں پسٹل لیکر ضرور نکلا تھا !!! اور نہ قتل کرنے کے بعد لڑکی کے ساتھ تھا !!! وہ اپنی موٹر سائیکل اور بائیکے پر قتل کے بعد سفر کرتا رہا مگر پہر بھی پولیس کی غفلت کی وجہ سے بے خوفی سے اسلحہ کو محفوظ ٹھکانے تک لے جانے میں کامیاب رہا !!!!
آگر ملزم سعود عباسی کو یہ قوی یقین ہوتا کہ پولیس چیک پوائنٹس پر یا لاتعداد پیٹرولنگ اسکواڈ رز کی تلاشی کی زد سے وہ بچ نہیں سکتا وہ کبھی بھی اپنے گھر سے اسلحہ کے ساتھ نہ نکلتا!!!! یہ اسلام آباد میں پہلی بار 9MM کا پسٹل لیکر تھوڑی نکلا ہوگا ؟؟؟؟؟آگر وزیر داخلہ جناب مُحسن نقوی صاحب ایک کام کریں وہ 2025 اور 2026 تک 15 اور “ پکار “ ہیلپ لائین کا ڈیٹا منگوا لیں اور کسی رٹائرڈ آئی جی یا کسی رٹارڈ جسٹس کو انکوائری کیلئے مقرر کردیں اور اُن کا TOR یہ ہونا چاہیئے کہ 2025 میں 46156 جرائم کی وارداتوں کی ایف آئی آرز درج کیوں نہیں ہوئیں ؟ / کس کے حکم سے Burking of Crime کی گئی ؟ / 15 اور پکار ہیلپ لائین کے Deta میں شکایت کندہ کا فون نمبر ہوتا ہے ان سب کو فردن فردن فون پر یا واٹس آپ پر یا دفتر بلواکر پوچھا جاسکتا ہے کہ پولیس نے آپ کو کیسے اور کیوں ٹرخا دیا ؟؟؟؟ اسی طرح 2026 کے Deta بھی منگواکر انکوائری کروائی جائے اور انکوائری کے بعد ایف آئی آر درج کرواکر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے !!! دیکھیں اسلام آباد کا کرائم کیسے ختم نہیں ہوتا ؟؟؟؟اسلام آباد پولیس کا حیرت انگیز گاردگی یہ ہے کہ 2025 میں 1603 موٹر سائیکل چوری اور چھنی گئیں مگر 2026 میں جنوری سے جون تک صرف 100 موٹر سائیکل چوری ہوئی ہیں !!! اسلام آباد کی موٹر سائیکل والی عوام کیلئے خوشخبری ہے کہ اس سال اُن کے 1400 موٹر
سائیکل چوری اور چھیننے سے بچ جائیں گے کیونکہ موٹر سائیکل چوری کرنے والوں نے کاریں چوری کرنا شروع کردی ہیں !!!جیساکہ 2025 میں 205 کاریں اسلام آباد سے چوری ہوئی ہیں اور 2026 کے چھ ماہ میں 792 کاریں چوری اور چھینی گئی ہیں اسلام آباد کے کار سواروں کیلئے یہ بُری خبر ہے کہ اس سال اُن کو 1500 کاروں کی قربانی دینی پڑے گی !!!!
لگتا ہے کہ اسلام آباد پولیس گزشتہ سال کے Burking شدہ کرائم فگر 25324 کو صرف 5000 ہزار تک لانا چاہتی ہے اور یہ illegal and Unethical کام کرکے جرائم پیشہ افراد کو Free Hand دینا چاہتی ہے کہ آپ اپنا کام کرتے رہو اور پولیس آپ کے خلاف کوئی پرچہ نہیں کرے گئ !!!! اور ان ہی وجوہات کی بنیاد پر جرائم پیشہ عناصر کے اتنے حوصلے بلند ہیں کہ ایک کرمنل مائینڈ لڑکے نے ایک آرمی افسر پر گولی چلانے میں دیر نہیں لگائی !!!! بیچارے گروپ کیپٹن عاصم کے قتل اصل ذمیداری Burking کرنے والی پالیسی دینے والے افسرانُ ہی ہیں !!!!
جس طرح بینظیر بھٹو صاحبہ کے قتل کیس دو پولیس افسران سعود عزیز (سابق ایڈیشنل آئی جی، راولپنڈی پولیس چیف) اور· خرم شہزاد (سابق ایس ایس پی، راولپنڈی) کو غفلت برتنے پر دونون افسران کو ATC عدالت راولپنڈی نے 17/17 سال قید 10/10 لاکھ جرمانہ کی سزا سنائی تھی: ان دونوں پولیس افسران کو UN Commission کی رپورٹ پر غفلت اور نااہلی دکھانے پر گرفتار کیا تھا بعد ازان ATC عدالت میں کیس ثابت ہونے پر دونوں افسران کو سزا ہوئی تھیایک بار پہر حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ شہد عاصم طارق کے قتل کیس کی Probe میں نااہلی اور غفلت کرنے والے سینئر افسران کو تلاش کیا جائے !!!! اور اُن کو انصاف کے کٹھڑے میں لایا جائے !!!

