• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home پاکستان

اسلام آباد میں دن دہاڑے گروپ کیپٹن عاصم طارق کا قتل :: کراچی، لاہور کوئٹہ،پشاور اور اسلام آباد کے حالات مختلف نہیں ہیں -؟؟؟؟؟؟

تحریر: نیاز احمد کھوسہ

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جولائی 7, 2026
in پاکستان, کالمز
0
اسلام آباد میں دن دہاڑے گروپ کیپٹن عاصم طارق کا قتل   ::    کراچی، لاہور کوئٹہ،پشاور اور اسلام آباد کے حالات مختلف نہیں ہیں -؟؟؟؟؟؟
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد میں دن دہاڑے گروپ کیپٹن عاصم طارق کا قتل ظاہر کرتا ہے کہ کراچی، لاہور کوئٹہ،پشاور اور اسلام آباد کے حالات مختلف نہیں ہیں -اسلام آباد کو کراچی اور لاہور پر یہ فوقعیت حاصل ہے کہ اسلام آباد وفاقی حکومت کے زیرانتظام ایک شھر کا یونٹ ہے جہاں ایک ایس ایچ او سے لیکر آئی جی پولیس کی ذمیداری صرف ایک شھر کے لا اینڈ کو دیکھنا ہےمگر اس کے باوجود کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور کی طرح ایک عام لڑکا جو ایک الیکٹرانک کی دکان پر 15 ہزار روپیہ ماہانہ پر کام کرتا ہے وہ اپنے ساتھ پسٹل لیکر اسلام آباد کی سڑکوں پر دندناتا پہر رہا اور معلوم نہیں کتنے عرصے سے پہر رہا ہے اسلام آباد میں شھر میں چپے چپے پر پولیس ناکوں پر موجود بھاری نفری اور پیٹرولنگ کاروں سے بچتا چلا آرہا تھا اور بالآخر اس خنزیر نے معمولی سی بات پر ایک ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا اور وقعوے کے بعد پولیس پکٹوں اور پیٹرولنگ کرنے گاڑیوں کی موجودگی اور وائر لیس پر چلنے والے میسجز کے باوجود سب کی نظروں سے اوجھل ہوکر فرار بھی ہوگیا!!!

یہ تو اچھا ہوا کہ قتل کی وجہ بننے والی لڑکی گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کے بعد پولیس کے آنے تکُ موقعے پر موجود رہی اور قتل کے صرف پانچ منٹ بعد وقعوے پر پولیس کو ملزم کا نام، سعد عباسی فون نمبر، گھر کا پتہ اور دیگر ڈیٹیلز فراہم کردیں ورنہ کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور کی طرح یہ قتل بھی داخل دفتر ہوجاتا !!!جب ملزم کے سارے کوائف ڈیٹیلز لڑکی کی وجہ مل جائیں تو اتنے بڑے ہائی پروفائل قتل کے ملزم کو پکڑا ہی جانا تھا کیپٹن کے قتل کے بعد اسلام آباد پولیس کے ساتھ سارے انٹلیجنس ایجسیز متحرک ہو گئیں اور ملزم چند گھنٹوں میں اپنی بیوقوفی کی وجہ سے پکڑا گیا !!! یہ کوئی Blind Murder نہیں تھا لڑکی نے قتل کے پانچ منٹ کے اندر پہلی پولیس ٹیم کو بتادیا تھا کہ ملزم کون ہے !!! گرفتار ملزم کا نام سعد عباسی ہےسب سے بڑا اور اہم سوال یہ کہ ہے اسلام آباد جیسے چھوٹے اور محفوظ شھر میں کراچی کی طرح موٹر سائیکل سوار کیسے اپنے ساتھ پسٹل لیکر گھوم رہے ہیں اور پولیس پکٹسز اور پولیس پیٹرولنگ کارز کیا کررہی ہیں ؟؟؟؟؟ ان کا ناکے لگا کر شریف عوام کو روک اُن کا وقت ضائع کرنے کا کیا فاعدہ جب اُن کو موٹر سائیکل سوار ہتھیاربند نظر نہیں آرہے !!!!

اسلام آباد پولیس کو شہید گروپ کیپٹن کے لواحقین، فیملی، پاک فضایہ اور وفاقی حکومت کو یہ جواب دینا چاہیئے کہ ملزم قاتل کس طرح پسٹل لیکر اسلام آباد جیسے محفوظ شھر کی سڑکوں پر بے خوف پہر رہا تھا ؟؟؟ اور پولیس کیوں بے خبر رہی ؟؟؟ اور قتل کے بعد کس طرح کامیابی سے بس پر سوار ہوکر اسلام آباد سے نکل گیا ؟؟؟؟ یہ تو لڑکے کی بدقسمتی تھی اور شہید کا ناحق خون رائگاں نہیں جانا تھا کہ ملزم بھیرہ سے واپس اسلام آباد آگیا اور پکڑا گیا ورنہ ہوسکتا تھا کہ یہ گرفتار ہی نہ ہوتا یا انٹیلیجنس ایجنسیز کی وجہ سے کچھ دنوں بعد گرفتار ہوتا ؟؟یہ کوئی عام گھریلو یا سوچا سمجھا منصوبہ نہیں ہے کہ پہلے جھگڑا ہوا اور ملزم تیش میں گھر چلاگیا اور گھر سے ہتھیار بند ہوکر واپس آکر قتل کردیا !!! ملزم جرم کرنے کے ارادے سے روزانہ پسٹل لیکر گھر سے نکلتا ہوگا !!! ملزم اتنا نڈر اور مستی میں تھا کہ بغیر کسی وجہ سے ایک نوجوان افسر پر گولیاں چلا دیںملزم قاتل کا ہاتھ اس طرح پسٹل چلانے پر کھلا ہوا تھا کہ کیپٹن صاحب کے تعارف کروانے کے باوجود قاتل لڑکا ایک سرونگ کیپٹن پر گولیاں چلانے میں دیر نہیں لگاتا اور کوئی خوف بھی نہیں کھاتا !!! کیپٹن صاحب اپنی گاڑی میں ہی موجود تھا !!! ملزم کو کیپٹن صاحب سے کوئی خوف خطرہ بھی نہیں تھا اس کے باوجود اس قاتل لڑکے نے خوامخواہ کیپٹن صاحب پر گولیاں برسا دیں !!! یہ کوئی عام قاتل نہیں ہے !!! یہ ایک پیشہ ور قاتل اور جرائم پیشہ لڑکا ہے اس کو ہلکا نہ لیا جائے !!!

یہ failure اسلام آباد پولیس کا ہے اتنے بڑے Infrastructure ہونے کے باوجود اور اتنی اہم ذمیداری ہونے کے باوجود اسلحہ بردار کرمنل موٹر سائیکل سواروں کو اسلام آباد میں آزادی سے چلنے دے رہی ہے ؟؟؟ آگر قاتل کسی کار میں ہوتا تو سمجھ میں آتا کہ ملزم نے پسٹل کار میں کہیں چُھپا رکھا تھا اور پولیس کو پسٹل تلاش کرنے دقت اور وقت لگتا مگر حیرت ہے ہم پولیس والوں کو پتہ ہے ٹارگٹ کلنگ اور Street Crime کی %95 وارداتیں موٹر سائیکلوں پر ہوتے ہیں کیونکہ واردات کے بعد موٹر سائیکل سے فرار ہونا آسان ہوتا ہے، جرائم پیشہ افراد کبھی بھی پکڑے جانے کے خوف سے ایسے جرائم کیلئے بڑی گاڑی استعمال نہیں کرتے !!!یہ پتہ ہونے کے باوجود کہ کرمنل موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں مگر جب بھی ہم ناکے پر ڈیوٹی کررہے ہوتے تو ہماری نظر صرف کالے شیشوں والی گاڑیوں اور فینسی نمبر پلیٹ پر ہوتی اور اپنے اصل ہدف موٹر سائیکل سے غافل ہوتے ہیں ہیں اور تلاشی کے دوران موٹر سائیکل والوں کو ignore کررہے ہوتے ہیں ہیں اور اُن کو بغیر تلاشی کے جانے دے رہے ہوتے ہیں !!!!یہ صرف اس لیئے ہوتا ہے کہ ہمارے سینئر افسران کی طرف سے کرائیم ختم کرنے میں عدم دلچپسپی کو وجہ سے Meetings میں صرف کالے شیشے والی اور فینسی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو پکڑنے پر زور ہوتا ہے اور دوسرے طرف پولیس کے سینئر افسران کی طرف سے ٹاسک نہ دینے کی وجہ سے آدھے موٹر سائیکل والے بغیر نمبر پلیٹ اور پڑھی نہ جا سکنی والی نمبر پلیٹ سے موٹر سائیکل شھروں میں چلا رہے ہیں !!!! زیادہ سے زیادہ ٹریفک پولیس کو یہ ہدف دیا جاتا ہے کہ ہیلمٹ نہ پہنے والے موٹر سائیکلوں کو روکیں اور اُن کا چلان کریں !!!!! اور جرائم پیشہ افراد ویسے ہی چھرہ چھپانے کی وجہ ہیلمٹ استعمال کرتے ہیں !!! اور وہ ویسے ہی بچ نکلنے میں کامیاب اور ماہر ہوتے ہیں –

اصل سوال یہ کہ موٹر سائیکلوں سواروں کیلئے پورے ملک میں تلاشی کے نظام کو موثر کیا جائے اور موٹر سائیکل کیلئے M Tag یا E Tag کا نظام سختی سے متعارف کیا جائے اور قانون سازی کے ذریعے بغیر M Tag یا E Tag کے موٹر سائیکل کو ضبط کرنا چاہیئے اور موٹر سائیکل چلانے والے کو ایک سال سزا دینے چاہیئے یہ کرنے سے آپ کو یہ نیا law لانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی اور کرائیم ختم کرنے میں آسانی ہوگی

پچھلی پوسٹ

پیپلز پارٹی کے عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں ، بلاول بھٹو زرداری

اگلی پوسٹ

کمانڈر ایف سی این اے کا حوالدار لالک جان شہید (نشانِ حیدر) کے 27ویں یومِ شہادت پر شاندار خراجِ عقیدت

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
کمانڈر ایف سی این اے کا حوالدار لالک جان شہید (نشانِ حیدر) کے 27ویں یومِ شہادت پر شاندار خراجِ عقیدت

کمانڈر ایف سی این اے کا حوالدار لالک جان شہید (نشانِ حیدر) کے 27ویں یومِ شہادت پر شاندار خراجِ عقیدت

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper