• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

سندھ پولیس سیاسی غلام ….. ڈاکو آقا بن گئے روشنیوں کا شہر خون سے رنگین  …..؟ آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف اب بھی کراچی بچا سکتے ہیں

تحریر : راؤ محمد جمیل

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جولائی 3, 2026
in کالمز
0
سندھ پولیس سیاسی غلام ….. ڈاکو آقا بن گئے روشنیوں کا شہر خون سے رنگین  …..؟ آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف اب بھی کراچی بچا سکتے ہیں
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

 شہر قائد کبھی روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا پاکستان بھر سے لوگ حصول رزق کیلئے اس شہر کی آغوش میں پناہ لینے پر فخر محسوس کرتے تھے اس شہر کی راتیں جاگتی اور روشنیوں سےجگمگاتی تھیں ….. ملک بھر سے آئے محنت کش دن میں مزدوری کے بعد پارکوں اور شہر کی فٹ پاتھوں پر اپنے ساز و سامان کے ساتھ بے خوف اپنی نیند پوری کرتے تھے پھر نجانے اس شہر کو کس ظالم کی نظر لگ گئی قتل و غارت گردی اور مافیاز اس خوبصورت اور دلفریب شہر کی پہچان بن گئے …. اس دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس کی کاوشوں سے اس شہر کا امن کسی حد تک بحال ہوگیا …. اس شہر کے امن کی قیمت قانون نافذ کرنے والے اداروں ، دلیر پولیس افسران اور اہلکاروں نے خون دیکر

چکائی …. وقت گزرتا گیا شہر میں سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ سندھ پولیس بھی تبدیل ہوگئی پولیس میں بھرتیوں کا عمل ہو یا تبادلے اور تقرریاں سب سیاسی پنڈتوں کی نظر ہوتا گیا …. آئی جی سندھ اور دیگر افسران بھی میرٹ کی بجائے سیاسی اسیر ہو کر رہ گئے جس آئی جی نے محکمہ پولیس میں اصلاحات، مورل کی بلندی ، میرٹ پر انصاف کی فراہمی یا قابل اور با کردار ایس ایچ اوز کی تعیناتیوں کی کوشش کی تو اسے سیاسی رسیوں سے جکڑ دیا گیا حالانکہ کبھی اس شہر میں ایس ایچ اوز اور دیگر پولیس افسران کو انکی کارکردگی … اہلیت اور دلیری کے ساتھ میرٹ پر تعینات کیا جاتا تھا اگر کسی تھانے کی حدود میں قتل یا ڈکیتی کی واردات ہوتی تھی تو متعلقہ ایس ایچ او اسے اپنی بے عزتی اور نااہلی تصوّر کرتاتھا اور جب تک اصل ملزمان کو گرفتار نہ کرلیتا سکون کی نیند نہیں سوتاتھا مجھے یاد ہے آج سے کم و بیش 30 سال قبل ڈکیتی راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا تو اس وقت کے آئی جی سندھ نے حکم جاری کیا کہ اگر کسی تھانے کی حدود میں ڈکیتی مزاحمت پر قتل ہوا یا کوئی شہری زخمی ہوا تو متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کردیا جائے گا ماضی گواه ہے که چند ایس ایچ اوز کے خلاف ہی کاروائی ہوئی تھی کہ ڈکیتی راہزنی کی وارداتوں کو بریک لگ گئی…. اب ایس ایچ اوز اور دیگر افسران کی زیادہ ترتعیناتی سیاسی پنڈتوں کی پرچیوں اور … ٹینڈرز …. کی محتاج ہے اچھے اور قابل پولیس افسران اعلیٰ سیاسی شخصیات کی پشت پناہی اور …. ٹینڈرز …. کی ادائیگی کی سکت نہ رکھنے کے باعث میرٹ اور اچھی کارگردگی کے باوجود ایس ایچ او ز کے عہدے حاصل کرنے میں ناصرف محروم ہیں بلکہ سخت مایوسی کے عالم میں گوشه نشینی کی زندگیاں گزار رہے ہیں دوسری جانب نااہل اور منفی شہرت کے علمبردار پولیس کے کئی افسران میرٹ کو پاؤں تلے روند کر شاہانہ انداز میں ایس ایچ او اور دیگر عہدوں کو انجوائے کررہے ہیں موٹر سائیکلوں پر گھومنے والے تھانیدار کروڑوں روپے کی قیمتی گاڑیوں اور اعلیٰ شان بنگلوں کے مالک ہیں بعض ایس ایچ او ز تو اتنے طاقتور تصوّر کیے جاتے ہیں کہ ایس ایس پی اور ڈی آئی جی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے …. اس وقت شہر قائد کا ایک بھی تھانہ ایسا نہیں جہاں منشیات … جوئے سٹے …. گٹکے ماوے …. یا کوئی بدترین اور گھناونے جرم کا اڈہ نہ ہو … پہلے جرائم پیشہ عناصر اور مافیاز پولیس سے خوف کھاتے تھے اب تھانوں میں محفلیں سجاتے اور دعوتے اُڑاتے ہیں پہلے جرائم پیشہ عناصر تھانے کے قریب سے نہیں گزرتے تھے اب نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز اور دیگر افسران کو پھولوں کے ہار اور ٹوپیاں پہناتے ہیں مٹھائیوں کے ٹوکروں کے ساتھ تھانوں میں جا کر پولیس مبارکباد دیتے ہیں یہاں تک کہ مذکوره ” جشن ” کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر انتہائی فخر سے وائرل کر کے عام شہریوں کو انکی اوقات بھی یاد کرواتے ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ افسران بالا جانتے بوجھتے ہوئے بھی ایسے تھانیداروں اور افسران کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کی بجائے خود بھی انجوائے کرتے ہیں پہلے تھانوں میں قابل پولیس اہلکاروں پر مشتمل اسپیشل پارٹیاں ہوتی تھیں جو امن و امان اور جرائم کےخاتمے کیلئے بہترین کردار ادا کرتی تھیں اب با اثر ایس ایچ اوز نے سنگین جرائم میں ملوث منفی شہرت کے حامل درجنوں پرائیوٹ افراد پر مشتمل اسپیشل پارٹیاں قائم کررکھی ہیں ان میں سے بعض کو تو مبینہ طور پر پولیس وردی اور پولیس موبائل کی دستیابی کے علاوہ چھاپے مارنے اور شہریوں کو حراست میں لینے کے خصوصی اختیارات بھی حاصل ہیں کیونکہ یہ افراد تھانیداروں کی دولت میں دن رات بھاری اضافے کیلئے دبنگ کردار ادا کرنے کی خوبیوں سے لبریز ہیں پہلے ایس ایچ اوز ایس ایس پیز اور ڈی آئی جیز سے خوفزدہ رہتے تھے کہ کوئی شکایت نہ کردے کوئی غفلت اور لاپرواہی نہ ہو جائے …. اب تو ایس ایچ اوز عہدہ سنبھالتے سے پہلے شراکت داری طے کرتے ہیں کماؤ پوت ایس ایچ اوز کے علاقے میں کوئی جرم ہو یا ڈاکو راج…. ڈکیتی مزاحمت پر کسی گھر کا چراغ بجھا دیا جائے یا درنده صف ڈاکو کسی لوٹ مار کے دوران زخمی کردیں نہ ہی ایس ایچ اوز کو پرواہ ہے اور ناہی اعلیٰ پولیس افسران کو کوئی مطلب … پولیس کی نوکری اشرافیہ اور سیاسی پنڈتوں کو کامیاب پروٹوکول اور انکے خاندانوں کی خدمت اور سیکورٹی تک محدود نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ شہر بھر میں ایک بار پھر ڈاکو راج قائم ہے مسلح درندے آئے دن چند ٹکوں کی خاطر شہریوں کی زندگیوں کی ہولی کھیل رہے ہیں دوسری جانب پولیس اصل ڈاکوؤں کی گرفتاری اور انکو انجام تک پہنچانے کی بجائے مبینہ مقابلے کرکے ڈکیتی راہزنی کا خاتمہ قرار دیتی نظر آتی ہے شہریوں کا کہنا ہے که پولیس اکثر و بیشتر ڈکیتی راہزنی کی وارداتوں کے مقدمات ہی درج نہیں کرتی بلکہ بعض اوقات تو متاثرین سے ہی ہتھک آمیز سلوک کیا جاتا ہے … کورنگی کے علاقے الله والا ٹاون میں ڈاکوؤں نے ایک خوبصورت 25 سالہ نوجوان عباس کو بیدردی سے قتل کردیا گیا مقتول محنت کش نوجوان کا قصور اتنا تھا کہ اُس نے چند یوم قبل محنت مشقت کرکے حلال کمائی سے خریدی گئی اپنی موٹر سائیکل مسلح ڈاکوؤں کو دینے سے انکار کردیا تھا اس جرم میں مسلح درندوں نے فائرنگ کرکے اُسے اتنہائی سفاکی سے قتل کردیا حال ہی میں ضلع ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں مسلح ڈاکوؤں نے مزاحمت پر ایک محنت کش نوجوان شاہ زیب عباسی کو دن دیہاڑے گھر کی دہلیز پر قتل کردیا گیا مذکوره واقعہ کی المناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں ملزمان کے چہرے بھی نمایاں تھے لیکن ہماری ببر شیر پولیس تا حال مرکزی ملزم یعنی قاتل کو گرفتار نہ کرسکی آئے روز مسلح ڈکیتی راہزنی اور شہریوں کے خون کی ہوئی کھیلتے درندوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اچھی شہرت کے حامل پولیس افسر ہیں جبکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان تنولی میرٹ ، دیانت داری اور درد دل رکھنے والے افسر کے طور پر شناخت کیئے جاتے ہیں دونوں افسران کبھی کبھی انتہائی جذباتی ہو کر کمال بیانات کے ذریعے شہریوں کی خوشی کا سبب بھی بنتے رہتے ہیں تاہم اگر مذکوره افسران اپنی ماضی کی روایت دہراتے ہوئے عملی اقدامات کا مظاہرہ کریں کرپٹ اور نااہل تھانیداروں کا محاسبه کرتے ہوئے قابل اور دلیر تھانیداروں اور ابلکاروں کی حوصلہ افزائی کریں تو محکمہ پولیس کو ایک بار پھر مثالی اور خودمختار اداره بنایا جاسکتا ہے کیونکہ محکمہ پولیس کو مراعات کی نہیں بے رحم اور انصاف پر مبنی کڑے احتساب کی اشد ضرورت ہے اگر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان تنولی ثابت کردیں کہ پولیس سیاسی پنڈتوں اور بااثر شخصیات کے زیر اثر نہیں بلکہ سپہ سالار پولیس کی قیادت میں خود مختار اداره ہے تو انکا نام تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا بصورت دیگر آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی تو کئی آئے اور چلے بھی گئے

پچھلی پوسٹ

ٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی ایف بی آر اصلاحات کی اولین ترجیحات ہیں، ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper