• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

امریکا نے ایران پر حملہ کیوں کیا ؟ حصہ سوم

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جون 30, 2026
in کالمز
0
امریکا نے  ایران پر حملہ کیوں کیا ؟  حصہ  سوم
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملے پر گفتگو کو یہیں روک کر تھوڑی دیر کے لیے ماضی میں چلتے ہیں ۔ یہ اپریل 1990 کی بات ہے جب ٹرمپ نے اٹلانٹک سٹی میں اپنا تیسرا بڑا کیسینو تاج محل کھولا ۔ اس وقت ٹرمپ اٹلانٹک سٹی کے جوئے کے کاروبار میں ایک چوتھائی کا مالک تھا۔ اتنے بڑے پروجیکٹ کے لیے ٹرمپ کو بھاری سرمایہ کی ضرورت تھی ۔ کیسینو میں ٹرمپ کو زبردست کمائی نظر آرہی تھی اس لیے اس نے بھاری سود پر مارکیٹ سے سرمایہ اکٹھا کرنے کا جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا ۔ اس مقصد کے لیے ٹرمپ نے 14 فیصد سود پر سرمایہ کاری بانڈز جاری کردیے ۔ سود کی یہ شرح مارکیٹ میں موجود سود کی شرح سے دگنی تھی ۔ ٹرمپ کا کیسینو اس کی توقعات کے مطابق نہیں چل سکا اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا۔ ابھی ٹرمپ شدید مالی دباؤ کا شکار ہی تھا اور تقریبا ڈوب چکا تھا کہ اچانک اس کے پاس غیبی مدد پہنچ گئی ۔ غیبی مدد لانے والے اس فرشتہ کا نام تھا Wilber Rose ۔ یہ ولبر روز Rothschild Inc’s bankruptcy advising team کا سربراہ تھا ۔ اس نے ٹرمپ کی مالی مدد کی اور اسے اس بحران سے نکال لیا ۔ اب ولبر اور روز کے تعلقات قربت میں ڈھل گئے اور وہ یکے بعد دیگرے ٹرمپ کے تمام ناکام منصوبوں کو کامیاب منصوبوں میں تبدیل کرتا چلا گیا ۔ یہاں تک کہ ٹرمپ دوبارہ سے فوربز میگزین کی کامیاب کاروباری شخصیات کی فہرست میں شامل ہوگیا ۔ ٹرمپ کی پہلی کابینہ میں ولبر روز بطور سیکریٹری تجارت شامل تھا ۔

اس کہانی سے ہر شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ ولبر روز نہیں تھا بلکہ روتھس شیلڈ کا ایک کارندہ تھا جس نے روتھس شیلڈ کی ہدایت پر ٹرمپ پر سرمایہ کاری کی ۔ ٹرمپ کی بڑی سرمایہ کاری دو ہی پورٹ فولیوز میں ہے۔ ایک پراپرٹی اور دوسری اسٹاک مارکیٹ ۔ یہ دونوں ہی وہ میدان ہیں جہاں پر بڑے کھلاڑی کسی کو بھی راتوں رات بلندیوں پر بھی لے جاسکتے ہیں اور کسی کو بھی راتوں رات تارے بھی دکھا سکتے ہیں ۔ بعد ازاں ولبر روز کی شراکت داری ٹرمپ سے بڑھ کر اس کے داماد جیرڈ کشنر تک پہنچ گئی ۔

اب کہانی کچھ کچھ سمجھ میں آنی شروع ہوتی ہے کہ ٹرمپ روتھس شیلڈ کی کٹھ پتلی 1990 میں ہی بن چکا تھا ۔ اب ضروری تھا کہ اس کٹھ پتلی کو کسی مقام پر پہنچایا جائے اور اس سے کام لیے جائیں ۔ سو ٹرمپ کو اقتدار میں بھی لایا گیا اور اپنا بندہ اس کی کابینہ میں کلیدی پوسٹ پر بھی بٹھایا گیا اور زبردست مالی فوائد حاصل کیے گئے ۔ ٹرمپ کو دوسری مرتبہ لانے کے لیے بھی اس پر بھرپور سرمایہ کاری کی گئی ۔
اسی برس جنوری 2026 کے آخر میں "مادورو کے اغوا ” کے نام سے دو آرٹیکل میں نے سپرد قلم کیے تھے ۔ یہ آرٹیکل میری ویب سائیٹ کی جنوری 2026 کی آرکائیوز میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں ۔ ان آرٹیکلز کے حصہ اول سے ایک اقتباس ۔

"دنیا میں موجودہ طوفان کے کھُرے ہمیں ٹرمپ کی انتخابی مہم سے اٹھانے پڑیں گے ۔ سب سے پہلے تو ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے کہ اسپیس ایکس کا مالک ایلون مسک ٹرمپ کے ساتھ ساتھ ہے ۔ یہ صرف ایلون مسک نہیں تھا بلکہ وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا نمائندہ تھا ۔ امریکا میں انتخاب لڑ نا مالی طور پر ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ اس کے لیے ہر سیاسی جماعت چندہ جمع کرنے اور لابی کرنے کے لیے مختلف کمیٹیاں بناتی ہے جنہیں Political Action Committees یا PAC کہا جاتا ہے ۔ کہنے میں یہ PAC آزاد ہوتی ہیں اور سیاسی جماعت کا ان پر کنٹرول نہیں ہوتا ۔ تو ٹرمپ کی چندہ جمع کرنے والی PAC کی قیادت ایلون مسک کررہا تھا اور بے دریغ پیسے خرچ کررہا تھا ۔ جو فرد بھی امریکا کے انتخابات سے ذرا سی بھی دلچسپی رکھتا ، وہ جانتا ہے کہ امریکی انتخابات میں swinging states کی بڑی اہمیت ہے ۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جن کے ووٹ فیصلہ کن مانے جاتے ہیں ۔ ان swinging states میں ووٹوں کی خریداری کے لیے ایلون مسک نے منڈی لگائی ہوئی تھی کہ جو بھی ریپبلکن کو وو ٹ دے گا ، اسے 34 ڈالر دیے جائیں گے ۔ آخر میں یہ بولی سو ڈالر فی ووٹر تک پہنچ گئی تھی ۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال تھی جیسا کہ پاکستان میں اسمبلی میں وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر دیکھی جاتی ہے ۔ عرف عام میں اسے پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا ہے ۔ جب امریکا میں اس پر آواز اٹھائی گئی کہ یہ تو دھاندلی کے مترادف ہے تو کہا گیا کہ یہ تو ایلون مسک کا ذاتی فعل ہے اور ریپلکن کا اس میں کوئی قصور نہیں ۔

تو جناب جب ایلون مسک ڈالر لٹا رہے تھے تو یہ صرف ان کا پیسہ نہیں تھا بلکہ یہ PAC کا پیسہ تھا جس میں سارے ہی وہ لوگ شامل تھے جن کے کاروباری مفادات ہیں ۔ ان میں آئل اینڈ گیس انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بھی شامل تھے ، فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے بھی اور دفاعی ساز و سامان بنانے والی انڈسٹری کے لوگ بھی تھے۔ وغیرہ وغیرہ ۔ جب یہ سب لوگ دل کھول کر ٹرمپ پر سرمایہ کاری کررہے تھے اور ہر صورت میں ٹرمپ کی فتح بھی چاہتے تھے تو یقینا ان کے اپنے مقاصد بھی تھے ۔”

اس کے علاوہ بھی ووٹ حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ نے بے انتہا جھوٹ بھی بولے جن کی مدد سے اسے تارکین وطن اور نوجوانوں کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ۔

اب اس نتیجہ تک تو ہم پہنچ گئے ہیں کہ ٹرمپ خود سے کچھ نہیں ہے بلکہ یہ روتھس شیلڈ کی کٹھ پتلی ہے اور اس کی ڈور ہاؤس آف روتھس شیلڈ سے ہلائی جاتی ہے ۔ جب ڈگڈگی کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ پانی کی بلی بن جاؤ تو ٹرمپ پانی کی بلی بن کر دکھاتا ہے اور جب کہا جاتا ہے کہ بابو جی بن جاؤ تو یہ بابو جی بن جاتا ہے ۔

یہ جاننے کے بعد کہ ٹرمپ ازخود کچھ بھی نہیں ہے بلکہ یہ روتھس شیلڈ کا پالتو یا کٹھ پتلی ہے ، ہمارے لیے یہ جاننا بہت آسان ہوجائے گا کہ ایران پر حملہ کیوں کیا گیا ۔ اس کے لیے بس ہمیں ہاؤس آف روتھس شیلڈ کے عزائم جاننا ہوں گے ۔ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

پچھلی پوسٹ

حافظ نعیم الرحمن نے آزاد کشمیر بحران کے حل کے لیے سیاسی رابطے تیز کردیے

اگلی پوسٹ

صدرِ مملکت کا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا وینزویلا میں شدید زلزلوں سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اظہار افسوس

صدرِ مملکت کا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper