نیک اور صُالح اوُلادیں، ایسی ہوتی ہیں کہ،بعد مرنے کے بھی، وہُ زندہ رکھتی ہیں،مثال،”ڈاکٹر خاورجمیل”کی ہے، کہ اُنہوں نے اپنے مرحوُموالد،کیجنڈ "ڈاکٹرجمیل جالبی” کے نام کو نہ صرف زندہ رکھا ہوُا ہے،بلکہ اُنکے ادبی کارناموں کو بھی ہمیشہ کیلئے،محفوظ کرنے کے سلسلے کو بھی،جاری رکھا ہوُاہے،خاورجمیل کا یہ ہی کام بہُت بڑاہے،کہ اُنہوں نے”جامعہ
کراچی” کے اندر اپنے خرچسے،اپنے والدِ مرحوُم سابق "وائس چانسلر”جامعہ کراچی،ڈاکٹرجمیل جالبیکی یاد میں،”ڈاکٹرجمیل جالبی ریسرچ لائبریری”قائم کی ،جہاں ریسرچ کےمتلاشی آتے ہیں،اور،علم کے اس بہتے چشمہ سے فیضیاب ہوتے ہیں،اس ریسرچ انسٹیٹیوُٹ لائبریری کی”کوآرڈینیٹر پبلیکیشن اینڈ میڈیا” مُحترمہ گُلنازمحموُد،جو،ان دنوں کینیڈا،بیٹے کے پاس آئ ہوئ ہیں،اُور میں بھی اس وقت اتفاق سے،کینیڈا آیا ہوُا ہوں،اُنہوں نے ایک دوست کے حوالے سے اس بات کا ذکر کیا کہ،وہ،کینیڈا میں بھی،کراچی کی طرح، مرحوم جمیل جالبی کی 97 ویں سالگرہ اورنئی آنے والی کتاب
"افکارِ جالبی”کی روُنمائ کی تقریب مُنعقد کرنا چاہ رہی ہیں،میں نےتعاون کا وعدہ کرلیااور اسطرح کینیڈا کےعلمی و ادبی ادارہ”اربابِ قلم”جسکے فیصل عظیم ڈائریکٹر ہیں،اُنکے تعاون سےآج 13 جوُن،2026، کو”ہملٹن شہر” میں مرحوم جمیل جالبی کی 93 سالگرہ، اور اسکے ساتھ ہی،آنے والی کتاب”افکارِ جالبی” کی روُنمائ کی، پُروقار اور،علم کے نوُر سے بھرپور تقریب مُنعقد ہوئ،جس میں نامورشخصیات،”اُردوُ سائنیس بوُرڈ”کےسابق چیئرمین ڈاکٹرخالداقبال یاسر، پروُفیسرڈاکٹر رفیع مُصطفیٰ،بیگم و جناب مُنیرسامی،اسلامیہ کالج کے پرنسپل،مُحمد رفیع،بیگم وجناب
ابرارحسن،ڈاکٹرشمیم آذر”اربابِ قلم”کے فیصل عظیم،شاعر و ادیب جناب اظہرانور،مُحسن اظہر،اور دیگر نے شرکت کی،شُرکاۓ محفل نے کراچی کے ساتھ ساتھ، کینیڈا میں بھی اس تقریب کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوۓ،ڈاکٹرجمیل جالبی کی ہر جہت پر کُھل کر بات کی اور اُنکو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوۓ اُنکے بیٹے ڈاکٹر خاور جمیل کو "افکارِ جالبی” کے اجراء پردلی مُبارکباد بھی پیش کی،شُرکاء نے ڈاکٹرجمیل جالبی کی اُردو سے مُحبت اورعقیدت کا
بھی ذکر کرتے ہوۓ، کہا کہ،ڈاکٹر جمیل جالبی کی یہ خواہش تھی کہ،اُردو کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا جاۓ،ڈاکٹرخالداقبال یاسر نے بھی تقریر کرتے ہوۓ مغفرت کی دعُا بھی کروائ،”کوآرڈینیٹر”گُلناز محمود نے تمام شُرکا کاشُکریہ ادا کرتے ہوۓ،”ڈاکٹرجمیل جالبی کی 97ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا،مہمانوں کی تواضع "عشایئہ”سے کی گئی،اور ایک ایک کتاب بطور تُحفہ پیش کی گئی،”اربابِ قلم” کے فیصل عطیم کو”اُردوُلُغت” کی ضخیم حصّہ اوّل پیش کی گئی،تقریب سےقیصرمسعُودجعفری فیصل عظیم،مسزابرارحسن،مُحمد رفیع،رفیع مُصطفیٰ،مُنیرسامی پسرِخواجہ آشکار
حُسین،ڈاکٹرخالداقبال یاسر،ڈاکٹرشمیم آذر، نے بھی خطاب کیا،۰۰۰۰۰!!!
۔۔۔۔۔۔قیصرمسعُودجعفری۔۔۔۔

