تحریر:منصور مغیری۔
نئے چیئرمین کے لیے بہت سارے نام زیرگردش ہیں، کچھ تو ممبر بھی ہیں کمیشن کے اور کچھ حال ہی میں گریڈ 21 اور 22 سے رٹائرڈ ہوئے ہیں یا ہونے والے ہیں ہیں۔۔سندھ پبلک سروس کمیشن جہاں ہر ہزاروں اہل امیدوار کئی سالوں سے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنی محنت کا پھل مل جائے تو ساری زندگی سکوں کے ساتھ خود بھی گزاریں اور ان کے اہل خانہ بھی معاشرے میں ایک مقام کے ساتھ رہیں۔۔۔غریب گھرانوں کے وہ بچے جن کا اوپر اللہ کے بعد زمین پر کوئی سہارا نہیں ہوتا ہے وہ اپنے جسم کو ،خواہشوں کو تکلیف سے گزارکر فیڈرل پبلک سروس کمیشن یا سندھ پبلک
سروس کمیشن کے۔ امتحانات میں قسمت آزماتے ہیں بہت کا قسمت ساتھ دیتا ہے اور انہیں محنت کا پھل مل جاتا ہے جبکہ جو رہ جاتے ہیں وہ پھر دیگر بہت سارے امتحانات میں شرکت کرکے روزگار حاصل کرلیتے ہیں یا کچھ کاروبار کی طرف توجہ دیگر اپنی زندگی گزارتے ہیں۔۔پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں گذشتہ 20 سالوں سے بہت سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ اہل امیدواران فیل اور نالائق و نااہل پاس ہوگئے۔۔۔اس معاملے میں مزید زیادہ خرابی گذشتہ گذشتہ
15سالوں سے نظر آنے لگی ہے۔۔چیئرمین سمیت ممبران پر بڑے بڑے الزامات لگے ہیں۔۔۔نورمحمد جادمانی کے دور میں تو عدالتوں نے نتائج ہی روک دیے ۔پھر سندھ حکومت نے 22 گریڈ کے رٹائرڈ بیوروکریٹ محمد وسیم کو چیئرمین لگایا۔۔محمد وسیم صاحب بحیثیت ایک انسان ایک اچھی شخصیت کے مالک ہیں اس کے دور میں امیدواروں نے اور ان کے رشتیداروں نے بہت بڑے الزامات لگائے۔۔خیر وہ آج رٹائرڈ ہوجائینگے اب وہ اپنے رب اور ضمیر کے آگے جوابدہ ہیں کہ وہ کتنا بہتر کام کرسکے۔۔۔
ایک معاملہ جو میں اپنے دوستوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ چلو ہم بہت خوش ہوتے ہیں کہ غریبوں کے بچے اس امتحانات کے ذریعے اپنا کیریئر بناتے ہیں اور میرٹ ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔۔۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ان غریبوں کے بچوں
نے امتحانات پاس کرنے کے بعد دیگر غریبوں اور پڑوسیوں کا کتنا خیال رکھا ہے ؟ کتنے فیصد ایسے افسران ہونگے جنہوں نے اپنے ماضی کو بھلایا نہیں ہوگا اور اپنے ظرف اور ضمیر کے مطابق کام کیا ہوگا یا کررہے ہیں؟؟ سندھ میں جو کرپشن اور بربادی ہے جس میں حکمرانوں کو تو سب گالیاں دے رہے ہیں ان کے سہولت کار بن کر کروڑوں اور اربوں روپے کمانے والے ان افسران سے کوئی پوچھتا ہے کہ تم کل کیا تھے آج کہاں پہنچ گئے ؟؟؛ چلو آپ نے ترقی کرلی مختلف وجوہات کی بناء پر اس سے تمہارے محلے،شہر، صوبے اور ملک کو کیا فائدہ ہوا۔۔؟؟ اتنے بڑے بڑے امتحانات پاس کرکے۔
مختلف مشکلاتیں دیکھ کر جب سینیئر حیثیت پر پہنچے تو تم نے حکمران وقت کے کتنے ایسے کام تھے جو غلط تھے تم نے انکار کیا ہو ؟؟ جو غلط کام اپنے وزیروں،مشیروں اور آقاؤں کےے کہنے پر کیے پھر وہ کسی غریب کا کام کرتے وقت کیوں کہتے تھے کہ یہ غلط کام ہے نہیں ہوگا۔۔۔۔؟؟ غریب کو نہ کرنا بہت آسان لیکن حکمرانوں کو نہ کرتےکیوں زبانیں بند رہتی ہیں؟؟!! تم سے پہلے والے بھی فرشتے نہیں تھے ،غلطی یا غلطیاں وہ بھی کرتے تھے، تھوڑا بہت پیسا انہوں نے بھی کمایا لیکن تم نے کسی غریب کی خاطر،کسی مظلوم کی خاطر ، وطن کی خاطر ،اس کے مظلوم عوام کی خاطر کس
معاملے پر انکار کیا جو اللہ کے آگے سرخرو ہوکر کہوگے کہ ہاں میں نے انکار بھی کیا تھا؟؟؟!! کوئی دوست مجھے بتاسکتا ہے کہ اس وقت پورے صوبے میں کتنے ڈی سی ،ایس پی،کمشنرز، ڈی آئی جیز، سیکریٹریز دیانتدار ہیں؟؟ ہوسکتا ہے کم دوست جانتے ہونگے۔۔مجھے پتا ہے کہ اس حال میں بھی کافی دیانتدار افسران موجود ہیں لیکن آپ کو اہم پوسٹنگز پر نظر نہیں ائینگے۔۔۔
یہ ایک لمبا چوڑا بحث ہے جو ہمارے باشعور افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے تعلق والے ان افسران سے ضرور پوچھیں کہ تم کل کیا تھے،آج کیا بن گئے ہو؟؟ تمہاری اس پوزیشن کا کتنے افراد اور اس دھرتی کو فائدہ پہنچا ہے۔۔۔؟؟ میں امید کرتا ہوں کہ ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔۔۔سندھ حکومت کو نئے چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن کی تلاش ہے ۔۔
اس تلاش میں کافی ناموں پر غور ہوا ہے اور کچھ پر نہیں ہوسکا ہے اگر سندھ حکومت اور خاص طور پر پیپلزپارٹی کی قیادت واقعی بھی اس ادارے کی ساکھ کو بحال کرنا چاہتی ہے تو اس ادارے میں بہت اچھی ساکھ والے بندے کو تعینات کردیں باقی وقت آنے پر سب کا پتا لگ جائے گا کہ کس نے اچھا کام کیا اور کس نے نہیں۔۔!!
اس وقت کچھ پولیس افسران کے ناموں پر غور ہو رہا ہے جس میں غلام نبی میمن صاحب، ڈاکٹر امیر شیخ صاحب، اے
ڈی خواجہ صاحب جبکہ سولین افسران میں پبلک سروس کمیشن کے ممبران رضوان احمد،صاحب غفران میمن صاحب، سمیت دیگر میں عثمان چاچڑ صاحب سابق چیف سیکریٹری کشمیر، ناہید شاہ درانی صاحبہ سابقہ فیڈرل سیکریٹری اور قائم علی شاہ کی بیٹی ،اقبال درانی صاحب سابق فیڈرل سیکریٹری کے ناموں سمیت کچھ اور نام بھی شامل ہیں۔۔۔دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری صاحب جو آج کل سندھ حکومت کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہ کونسے معتبر نام
کو چیئرمین لگوانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں پھر انہیں یہ کہتے ہیں کہ صرف 10 سے 15 فیصد سفارش کا ریشو رکھنا جیسے ماضی میں ہوتا رہا ہے باقی تمام کے تمام میرٹ رکھنا پھر دیکھو کہ کتنے حقداروں کو اپنے محنت کا صلہ مل جائے گا۔۔بعد میں ان افسران کے ظرف و ضمیر پر ہوگا کہ کس طرح اپنا حق ادا کرسکتے ہیں۔۔۔
