عروسہ” میگا ہٹ ڈرامہ سیریل PtvDigital پر کچھ دن پہلے اپلوڈ کیا گیا جسکے Links میرے کرم فرماؤں نے مجھے بھیجے اور فیس بک فرینڈز نے Tag کیا. عروسہ سیریل میرے کیریئر کا دوسرا سیریل تھا، پہلا سیریل "با ادب با ملاحظہ ہوشیار” تھا جس میں میرا خواجہ سرا کا مختصر رول تھا لیکن عروسہ میں میرا بہت اہم رول تھا. مذکورہ دونوں سیریل 1991 میں ہی چھ ماہ کے فرق سے ریکارڈ ہوۓ. "عروسہ” سیریل کے مجھ سے جڑے دو دلچسپ واقعات ہیں جو میں آپ سے شئیر کرنا چاہوں گا. "عروسہ” سیریل میں میرا پرانے باعتماد گھریلو ملازم کا انتہائی اہم رول تھا. کہانی کے مطابق دو ادوار ہیں، پہلے دور میں سب جوان ہیں اور عروسہ ننھی بچی ہے، دوسرا دور بیس سال بعد کا ہے جس میں ہم سب
ادھیڑ عمر اور بوڑھے دکھائے جانے تھے. اور عروسہ جوان ہو جاتی ہے جو کردار مشی خان نے ادا کیا تھا۔اس رول کیلۓ میری کاسٹنگ کے حوالے سے مصنفہ فاطمہ ثریا بجیا کچھ تردد کا شکار تھیں، موقف یہ تھا کہ میں اسٹینڈاپ کامیڈی کے حوالے سے خاصی پہچان بنا چکا تھا اور کردار سیریس قسم کا تھا لیکن ڈائریکٹر قاسم جلالی صاحب نے میری ضمانت دی، انہیں مجھ پر بہت اعتماد تھا. ایک دن ایک بہت ہی سیریس سین کی ریکارڈنگ ہوئی جس میں میں (حنیف راجہ)، نیلوفر عباسی صاحبہ اور عشرت ہاشمی صاحبہ تھیں، کچھ رونے دھونے والا سین تھا جس کا مجھ پر انحصار تھا، بس اللہ نے وہ سین مجھ سے کچھ اس طرح کروادیا کہ سین ختم ہونے کے بعد اسٹوڈیو میں تالیاں بجیں اور بجیا نے گلے لگا کر
شفقت سے پیار کیا اور شاباش دی اور جلالی صاحب سے کہا کہ جلالی تمہارا انتخاب درست تھا. یہ الفاظ میرے لئے آسکر ایوارڈ سے بڑھ کر تھے. عشرت ہاشمی مرحومہ نے بھی بہت شاباش اور دعا دی، وہ نہایت اچھی انسان تھیں، اللہ غریق رحمت کرے، آمین. "عروسہ” میں میرے کردار کا نام گلو بھیا تھا لیکن دراصل اسکرپٹ میں نام کلو تھا جو مجھے پسند نہیں آیا. ایک دن سیریل کی ریہرسل ہو رہی تھی، ابھی ریکارڈنگز شروع نہیں ہوئی تھیں، تمام اداکار ڈائریکٹر قاسم جلالی صاحب کے کمرے میں جمع تھے، میں نے جلالی صاحب اور بجیا سے کہا اس کردار کا نام کلو سے کچھ اور کردیں. میری اس جرات پر بجیا اور جلالی صاحب نے ایک دوسرے کو دیکھا. اس وقت رائٹر اور ڈائریکٹر سے ایسی بات کرنا گویا بیک وقت گناہ صغیرہ و کبیرہ تکردینے کے مترادف تھا۔بجیا بولیں بیٹا اب تو میں اسکرپٹ مکمل کر چکی ہوں اب کچھ
نہیں ہو سکتا. میں نے کہا آپ صرف اتنا کیجیے کہ اسکرپٹ پر جہاں جہاں لفظ کلو لکھا ہے تو کلو کے کاف پر ایک چھوٹی سی لکیر ڈال دیں تو کاف ، گاف میں تبدیل ہو جائے گا اور یوں کلو، گلو بن جائے گا. میری اس تجویز پر جلالی صاحب اور بجیا ناراض ہونے کے بجائے زور سے ہنسے. بجیا نے منہ میں پان کی گلوری رکھتے ہوئے کہا بہت شیطان ہے بھئی یہ اور یوں جلالی صاحب اور بجیا نے میری تجویز مان لی. اسی سیریل کے حوالے سے میرے اعتماد میں اس وقت اور اضافہ ہوا جب جنگ اخبار کے مڈ ویک میگزین میں نامور صحافی اور نقاد تابندہ لاری صاحبہ نے میرے کام پر خصوصی آرٹیکل لکھا اور اس وقت کی میری عمر کی مناسبت سے میرے کام کو بہت پختہ قرار دیا. میرا سفر اللہ کے فضل و کرم سے آج بھی کا میابی سے جاری ہے، بس گذرے ہوئے سفر کا کچھ حصہ آپ کے ساتھ شئیر کیا. موجودہ و گذشتہ سفر اپنے کی اس سیریز "سفر جاری ہے” میں لیکر گاہے بہ گا ہے حاضر ہوتا رہوں گا۔

