سماج کا ایکسرے ہے اور "انسانی نفسیات کا ایم آر آئی” بھی۔لارکانہ کی ایمرجنسی میں میں نے "روڈ کے مکان” بھی دیکھے اور "روڈ پر آئے انسان” بھی۔ فرق صرف "قیمت” اور "قیمت لگانے والے” کا ہے۔ آئیے اس تلخ سچ کو میڈیکل، نفسیاتی اور معاشرتی عدسے سے دیکھتے ہیں۔1. "روڈ پر مکان” بمقابلہ "روڈ پر انسان” — دماغ کا دوغلا پن
نیورو سائنس کہتی ہے: انسان کا دماغ "چیزوں” اور "لوگوں” کو الگ خانوں میں رکھتا ہے۔
روڈ پر مکان/زمین روڈ پر انسان ;سماج کہتا ہے:”اس کی قیمت بڑھ گئی” سماج کہتا ہے: "اس کی اوقات ختم ہو گئی”
بیماری کا نام: "Object Empathy Disorder” — ہم بے جان چیزوں سے ہمدردی کرتے ہیں، جاندار انسان سے نفرت۔
مثال: لارکانہ میں اگر 4 مرلے کا پلاٹ مین روڈ پر ہو تو 2 کروڑ کا۔ مگر اسی روڈ پر 4 بچوں کا باپ بے روزگار بیٹھا ہو تو لوگ 10 روپے بھی سوچ کر دیتے ہیں۔ پلاٹ کی قیمت، انسان سے 20 لاکھ گنا زیادہ!
2. "روڈ پر آ جانا” — اس کی میڈیکل وجوہات اور جسمانی اثر”روڈ پر آنا” صرف غربت نہیں، "کُل معاشرتی ہارٹ اٹیک” ہے۔ اس کی 4 بڑی وجوہات:1. مالی ہارٹ اٹیک — Financial Myocardial Infarction
وجہ: کاروبار تباہ، قرض، بیروزگاری، سود۔جسم پر اثر: Chronic Stress → Cortisol ↑ → BP ↑ → Sugar ↑ → Stroke۔
لارکانہ کا 50 سالہ دوکاندار: "ڈاکٹر صاحب، لاک ڈاؤن میں دوکان بند ہوئی، قرض چڑھ گیا۔ اب روڈ پر پکوڑے لگاتا ہوں۔ لوگ پہچان کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ اس سے BP 190 ہو گیا ہے”۔2. سماجی فالج — Social Paralysisوجہ: طلاق، یتیمی، گھر سے نکالا جانا، عزت کا جنازہ۔جسم پر اثر: "Social Pain” اور "Physical Pain” دماغ کے ایک ہی حصے — Anterior Cingulate Cortex — میں محسوس ہوتے ہیں۔مطلب: جب لوگ "چچ چچ” کر کے گزرتے ہیں، تو مریض کو ایسا ہی درد ہوتا ہے جیسے کسی نے چاقو مارا ہو۔ فرق صرف اتنا کہ اس کا خون نظر نہیں آتا۔3. نفسیاتی کینسر — Learned Helplessnessجب انسان بار بار کوشش کے بعد بھی ناکام ہو، تو دماغ "مان” لیتا ہے: "میں کچھ نہیں کر سکتا”۔
میڈیکل نام: Major Depressive Disorder with Hopelessness۔علامات: نہانا چھوڑ دیتا ہے، داڑھی بڑھا لیتا ہے، خود سے باتیں کرتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں: "پاگل ہو گیا”۔ حقیقت: یہ "سماج کا دیا ہوا ڈپریشن” ہے۔4. روحانی انیمیا — Spiritual Hb Lowجب "توکل” ختم ہو جائے، "خود کشی کا خیال” Hb کی طرح گرنے لگتا ہے۔ WHO رپورٹ:* دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں 1 شخص خودکشی کرتا ہے۔ 90% کا تعلق "بے روزگاری + بے عزتی” سے ہوتا ہے۔یعنی "روڈ پر آنا” = "موت کے دہانے پر کھڑا ہونا”۔3. معاشرہ "روڈ والے انسان” سے نفرت کیوں کرتا ہے؟ —
3 نفسیاتی بیماریاں
1. Just-World Hypothesis — "جیسی کرنی ویسی بھرنی” کا زہر
لوگ سوچتے ہیں: "یہ روڈ پر ہے تو ضرور اس نے کوئی گناہ کیا ہوگا”۔ اس سے اپنے ضمیر کو مطمئن کرتے ہیں کہ "میں مدد نہ کروں تو گناہ نہیں”۔حقیقت: CMCH میں کینسر کا بچہ بھی آتا ہے اور نشئی بھی۔ دونوں بے قصور ہو سکتے ہیں۔2. Fear of Contagion — "غربت چھوت کی بیماری ہےدماغ سوچتا ہے: "اس کے پاس بیٹھا تو میری قسمت بھی خراب ہو جائے گی”۔ اس لیے 10 فٹ دور سے گزرتے ہیں۔میڈیکل سچ: غربت چھوت کی نہیں، "بے حسی چھوت کی” ہے۔ جو آج تماشہ دیکھ رہا ہے، کل وہ خود تماشہ بن سکتا ہے۔3. Cognitive Dissonance — "ضمیر کا شوراندر سے دل کہتا ہے "مدد کرو”، جیب کہتی ہے "پیسے بچاؤ”۔ اس ٹکراؤ — Dissonance — کو ختم کرنے کے لیے دماغ "اسے برا انسان ثابت” کر دیتا ہے۔ "یہ نشئی ہے، جھوٹا ہے” — تاکہ نہ دینے کا جواز مل جائے۔4. علاج کیا ہے؟Rx — برائے: وہ معاشرہ جو "انسان” کو "کوڑا” سمجھتا ہي1. Tab. Empathy 500mg — روزانہ صبح شام خوراک: روز 1 اجنبی سے "السلام علیکم چاچا، طبیعت کیسی ہے؟” پوچھو۔ آکسٹوسن بڑھے گا، نفرت گھٹے گی۔2. Cap. Zakat + Sadqa — مہینے میں 2.5%
یہ "سماجی انسولین” ہے۔ جیسے شوگر کے مریض کو انسولین نہ ملے تو Gangrene ہو جاتا ہے، ویسے ہی غریب کو زکوٰۃ نہ ملے تو معاشرے کو "غربت کا گینگرین”ہو جاتا ہے۔3. Syp. Dignity — ہر ملاقات میں 5mlکسی "روڈ والے” کو پیسے دو تو "بھیک” نہ کہو، "حق” کہو۔ ہاتھ اوپر سے دو، نیچے سے نہیں۔ عزت سے دو گے تو اس کا Cortisol کم ہوگا، BP نارمل ہوگا ـ4. Inj. Qanoon Sazi — حکومتی سطح پر”روڈ پر آنا” جرم نہیں، "روڈ پر لانا” جرم ہونا چاہیے۔تجویز: ہر شہر میں "Panah Gah + Skill Center” ہو۔ بھیک نہیں، ہنر دو۔ مچھلی نہیں، مچھلی پکڑنا سکھاؤ۔5. Physio: "اپنے آپ کو اس کی جگہ رکھو” Therapy — ہفتے میں 1 بار10 منٹ آنکھیں بند کرو، سوچو: اگر میرا بیٹا روڈ پر آ جائے؟ اگر میری بیٹی بھیک مانگے؟ دل دھڑکے گا؟ بس، وہی دل اس فقیر کا بھی ہے۔5. آخری بات — مکان اور انسان کا فرق1. مکان "روڈ” پر آئے تو "کمرشل” کہلاتا ہے۔انسان "روڈ” پر آئے تو "بے غیرت” کہلاتا ہے۔
فرق: مکان کی "جگہ” بدلی، انسان کی "قسمت” بدلی۔ جگہ پر انعام، قسمت پر لعنت — یہ کیسا انصاف؟
2. یاد رکھو:کعبہ کا غلاف بھی "کپڑا” ہے، اور فٹ پاتھ پر سونے والے کا کمبل بھی "کپڑا” ہے۔
کپڑے کی قیمت "مارکیٹ” لگاتی ہے، انسان کی قیمت "رب” لگاتا ہے۔
اور رب کے نزدیک "ٹوٹا ہوا دل” کعبے سے زیادہ قیمتی ہے۔
حدیث قدسی: "میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتا ہوں”ـ3. تو اگر کبھی "روڈ پر” کوئی ملے تو:
اسے "ٹکے کا” نہ سمجھو۔شاید وہ "اللہ کا ٹیسٹ پیپر” ہے — تمہارے لیے۔
اس میں فیل ہو گئے تو "کروڑوں کا مکان” بھی تمہیں "قبر کے گڑھے” سے نہیں بچا سکے گا۔
کیونکھ ـ”مکان کی قیمت زمین سے لگتی ہے، انسان کی قیمت آسمان سے لگتی ہے”۔
اللہ ہمیں "مکان” نہیں، "انسان” بننے کی توفیق دے۔ آمین
وَالسَّلَام

