یہ یکم مئی کی ہی ایک صبح تھی جب یار من جناب تنویر عباس نقوی کے بچھڑنے کی الم ناک خبر ملی ۔۔۔۔4برس ہوئے خبر لانے والے عزیز از جان دوست حافظ ظہیر اعوان بھی داغ مفارقت دے چلے۔۔۔جدائی کا زخم کب بھرتا ہے۔۔۔!اس عید الفطر سے ایک دن پہلے جناب تنویر عباس نقوی کی ہمشیرہ محترمہ ثمینہ سید بھی پرانا اچھرہ کے قبرستان میں اپنے اکلوتے بھائی کے پہلو میں جا سوئیں ۔۔۔اسی قبرستان میں نقوی صاحب کے والد گرامی جناب نذیر بخاری کا غم ناک جملہ کبھی نہیں بھولے گا کہ نقوی یہ تو میرے جانے کا وقت تھا اور چلا تو گیا ۔۔۔پھر وہ بھی چلے گئے۔۔۔باجی ثمینہ کی وفات پر نقوی صاحب کی والدہ سے تعزیت کے لیے گیا ۔۔۔اپنے تئیں ماں جی کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی ہمت ہے کہ ایک
بعد ایک صدمہ برداشت کررہی ہیں ۔۔۔ماں جی چھلک پڑیں اور جو کہا اس کا مفہوم یہ ہے کہ بیٹا کون سی ہمت ؟میں تو تنویر عباس کے جانے کے بعد ہی ٹوٹ گئی تھی ۔۔۔۔اب ثمینہ کے جانے کے بعد ایک بار پھرکرچی کرچی ہوگئی ہوں ۔۔۔۔ یہی بات کچھ مہینے پہلے حافظ ظہیر کی والدہ نے کہی کہ بیٹا جدائی کا غم کب بھولتا ہے۔۔۔۔ابھی کچھ دن پہلے حافظ صاحب کے والد گرامی تشریف لائے ۔۔مجھے گلے ملے تو دیر تک بغل گیر رہے ۔۔۔شاید وہ مجھ میں حافظ ظہیر کی ٹھنڈک ڈھونڈ رہے تھے ۔۔۔۔پھر نشست کے دوران جب حافظ صاحب کا تذکرہ ہوتا تو وہ اشک بار ہو جاتے ۔۔۔۔میں یہ منظر دیکھتا اور آنسو پی جاتا ۔۔۔۔بچھڑے ہوئے کب بھولتے ہیں۔۔۔۔جدائی کا زخم کب بھرتا یے۔۔۔۔۔!دعا کیجیے کہ اللہ کریم نقوی صاحب اور حافظ صاحب کے درجات بلند فرمائے ۔۔۔۔۔!!!!

