کراچی پولیس میں ایک بار پھر بڑی ہلچل کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ شہر کے تھانیداروں کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں، جہاں ایک طرف نان کوالیفائیڈ اور مبینہ کرمنل ریکارڈ رکھنے والے افسران کے لیے عہدے بچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب یہ معاملہ محکمہ پولیس کی ساکھ اور کارکردگی کا بھی امتحان بن چکا ہے۔
حالیہ صورتحال کی بنیاد اس پالیسی پر ہے جو سابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن کے دور میں متعارف کرائی گئی تھی۔ اس پالیسی کے تحت واضح کیا گیا تھا کہ کوئی بھی ایسا افسر جس کے پاس مطلوبہ تعلیمی قابلیت نہ ہو یا جس کا ریکارڈ مشکوک ہو، اسے ایس ایچ او جیسے اہم عہدے پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے کو مزید تقویت سندھ ہائی کورٹ کے احکامات سے ملی، جہاں عدالت نے نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ اچھے کردار کے حامل افسران کی تعیناتی پر زور دیا۔اسی تناظر میں پولیس ہیڈ آفس میں خصوصی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا، جن کا مقصد ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو پیشہ ورانہ مہارتوں اور جدید پولیسنگ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ ان ورکشاپس میں شرکت کو لازمی قرار دیتے ہوئے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن دی گئی، جس کے بعد غیر تربیت یافتہ افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا عندیہ دیا گیا تھا۔اب جبکہ ڈیڈ لائن سر پر ہے، کراچی رینج میں بے
چینی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شہر کے کئی تھانوں میں ایسے افسران تعینات ہیں جو نہ صرف گریجویٹ نہیں بلکہ ان کے خلاف مختلف نوعیت کے الزامات بھی زیر گردش ہیں۔ ایسے میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا واقعی ایک بڑی صفائی مہم شروع ہونے والی ہے یا پھر یہ احکامات بھی ماضی کی طرح کاغذی کارروائی تک محدود رہیں گے؟یہ معاملہ اب موجودہ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کے لیے ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔ ان کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو وہ اپنے پیشرو کے احکامات پر سختی سے عملدرآمد کروا کر محکمہ پولیس میں میرٹ، شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کو یقینی بنائیں، یا پھر روایتی دباؤ اور مصلحتوں کے تحت اس معاملے کو نظرانداز کر دیا جائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی واضح طور پر یہ ریمارکس دیے ہیں کہ پولیس افسران کی تقرریاں محکمہ کا اندرونی معاملہ ضرور ہیں، مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ میرٹ کو نظرانداز کیا جائے۔ عدالت نے آئی جی سندھ کو ہدایت دی تھی کہ ایسے افسران تعینات کیے جائیں جن کا ریکارڈ شفاف اور رویہ پیشہ ورانہ ہو۔اگر اس پالیسی پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد ہوتا ہے تو یہ کراچی پولیس
کے لیے ایک مثبت اور تاریخی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف پولیسنگ کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ مزید یہ کہ اس اقدام سے پولیس پر لگنے والے سیاسی مداخلت اور پولیٹائزیشن کے الزامات میں بھی واضح کمی آ سکتی ہے، کیونکہ میرٹ پر تعیناتیاں خود بخود اس تاثر کو ختم کرتی ہیں کہ تقرریاں سفارش یا دباؤ کے تحت ہو رہی ہیں۔
اسی کے ساتھ ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اہل افسران جو باقاعدہ ٹریننگ اور ورکشاپس مکمل کر کے امتحانات پاس کر چکے ہیں لیکن اب تک سائیڈ لائن پر ہیں، ان کے لیے بھی مواقع روشن ہوں گے۔ اگر میرٹ کو بنیاد بنایا گیا تو یہی افسران آگے آکر تھانوں کی کمان سنبھال سکتے ہیں، جو نہ صرف نظام کو بہتر بنائیں گے بلکہ ایک پروفیشنل پولیسنگ کلچر کو فروغ دیں گے۔
تاہم اگر 31 مارچ کی ڈیڈ لائن محض ایک رسمی کارروائی ثابت ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف محکمہ پولیس بلکہ پورے نظام انصاف پر پڑ سکتے ہیں۔ کیونکہ ایک ایسے شہر میں جہاں جرائم کی نوعیت پیچیدہ اور چیلنجز سنگین ہوں، وہاں نااہل یا مشکوک ریکارڈ کے حامل افسران کی تعیناتی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتی۔اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آنے والے دنوں میں جاوید عالم اوڈھو کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ کیا واقعی کراچی کے تھانوں میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی، یا پھر یہ خطرے کی گھنٹی بھی وقت کے ساتھ خاموش ہو جائے گی؟ یہ فیصلہ نہ صرف پولیس فورس بلکہ شہر کے مستقبل کا رخ بھی متعین کرے گا۔

