ملک کی سیاسی فضا میں اس وقت ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وفاقی حکومت نے گورنر سندھ کی تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نہال ہاشمی کو نیا گورنر سندھ تعینات کرنے کی سمری صدر پاکستان کو منظوری کے لیے ارسال کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد صوبے کی سیاست میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے، خصوصاً اس لیے کہ موجودہ گورنر کامران خان ٹیسوری کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے رہا ہے اور وہ حکومتی اتحاد کے تحت اس عہدے پر خدمات
انجام دے رہے تھے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے درمیان گزشتہ دنوں ہونے والی ملاقات میں سندھ کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر بعض وفاقی وزرا اور گورنر سندھ کے طرزِ عمل پر اپنے تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کیا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ کا مؤقف تھا کہ بعض بیانات اور سرگرمیوں سے صوبے کی وحدت اور ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے خاص طور پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات سندھ کی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری گورنر ہاؤس کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور وہاں سے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جنہیں صوبائی حکومت مناسب نہیں سمجھتی۔
زرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ سندھ
حکومت کے تحفظات کو دور کیا جائے گا اور اتحادی جماعتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت کی اہم اتحادی ہے اور معاشی استحکام کے لیے اس کا تعاون نہایت اہمیت رکھتا ہے۔اسی پس منظر میں نہال ہاشمی کواب گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ سامنے آیا جس کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف تبصرے شروع ہو گئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس سے پہلے یہ عہدہ ایم کیو ایم پاکستان کے پاس تھا اور اب مسلم لیگ (ن) نے اپنے ہی اتحادی سے یہ منصب واپس لے کر اپنے رہنما کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں گورنر سندھ کی تبدیلی کے بارے میں میڈیا
کے ذریعے معلوم ہوا ہے اور اس فیصلے سے قبل پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ پارٹی ترجمان کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان جلد اس معاملے پر اپنا لائحہ عمل طے کرے گی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کامران ٹیسوری کے حوالے سے خود ایم کیو ایم کے اندر بھی اختلافات موجود تھے۔ پارٹی کے بعض حلقے ان کے طرزِ سیاست سے نالاں تھے اور انہیں ہٹانے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ گورنر کی تبدیلی کے فیصلے کو بعض لوگ ایم کیو ایم کی اندرونی سیاست سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔کامران ٹیسوری جب گورنر سندھ بنائے گئے تو اس وقت بھی ان کی تقرری کو لے کر مختلف حلقوں میں تنقید سامنے آئی تھی۔ تاہم گورنر کی حیثیت سے انہوں نے کچھ ایسے اقدامات کیے جنہیں عوامی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا گیا۔ انہوں نے گورنر ہاؤس کے دروازے عام شہریوں کے لیے کھولے، نوجوانوں کے لیے آئی ٹی کورسز کا آغاز کیا اور گورنر ہاؤس کو سماجی سرگرمیوں کے لیے زیادہ فعال بنانے کی کوشش کی۔
اب جبکہ انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ سامنے آ چکا ہے تو سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ آیا ایم کیو ایم پاکستان
اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرے گی یا پھر اتحادی سیاست کے تقاضوں کے تحت خاموشی اختیار کرے گی۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر کامران ٹیسوری عملی سیاست میں مزید فعال ہو گئے تو وہ مستقبل میں ایک مضبوط سیاسی کردار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ گورنر سندھ کی تبدیلی کا یہ فیصلہ صوبے اور اتحادی سیاست پر کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔

