جب سے اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں اور ایران نے جوابی کارروائیاں کی ہیں، پوری دنیا کی نظریں ان ملکوں کی ہار جیت سے زیادہ ایران کی ثابت قدمی اور کس کا کتنا نقصان ہوا ، پر لگی ہیں لیکن اس سے زیادہ دھیان سب کا اپنی اپنی
معیشت پر ہے ، پاکستان واحد ملک ہے جہاں ملکی معیشت کے ساتھ مسلسل بھرتی تجوریوں اور پھٹی جیبوں کے ساتھ ساتھ بڑھتے فاقوں اور ان میں ممکنہ نئے اضافوں پر ہے ، ایک بحث اور چلی کہ پاکستان نے پوری دنیا میں سب سے زیادہ تیل مہنگا کیوں کیا ؟ اس بحث میں ملک میں مسلکی بنیاد پر پر بھی حمایت اور مخالفت میں گفتگو ہوئی لیکن قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ معدودے چند کے ماسوا مجوعی طور پر اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نفرت بڑھی ہے اور ایران کے ساتھ ہمدردیوں میں اضافہ ہوا ہے ، اسے لوگ بھی جو ایران کے معاملے میں ،دلائل کو برطرف رکھتے ہوئے عرب ممالک کی ہر صورت حمایت اپنا فرض سمجھتے تھے، عرب ملکوں میں امریکی عسکری ٹھکانوں پر ایرانی کارروائیوں پر زیادہ دکھی نہیں اور یہ استفسار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ امریکیوں کے کتنے ٹھکانے تباہ ہوچکے ؟ کتنے باقی رہ گئے ؟ اور اسرائیل کو کتنا نقصان پہنچا ؟
گلوبل پِنڈ کی بیٹھک میں بھی یہ جنگ زیر بحث رہتی ہے، جہاں مذہب ، عقیدے ، مسلک کی نہیں بلکہ انسانیت اور حقائق کو فوقیت حاصل ہے،یہی یہاں کا نصب العین ہے۔کچھ دنوں سے اس بیٹھک میں ایران کے ساتھ ہمدردیوں کے باوجود ایران کی پاکستان کے بارے میں پالیسی کو بھی تقید کا نشانہ بنایا گیا ، اس بحث کا نکتہ یہ تھا کہ ایران کن کن معاملات میں پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کی صف بھاری کرتا ہے خاص طور پر ہندوستان کو کچھ معاملات میں پاکستان پر ترجیح دیتا ہے جس میں مسئلہ کشمیر سرِ فہرست ہے، اس پر اکثر بحث کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی اور اس امر پر اتفاقِ رائے نہ ہوپاتا کہ ایران مذکورہ معاملے میں پاکستان پر بھارت کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ یہ بحث کرنے والے کسی بھی صورت کسی بھی معاملے میں ایران کو غلط ماننا شائد گناہ تصور کرتے ہیں اور ان کے خیال میں اصل تاریخ اور حقائق وہی ہیں جو
صرف وہی جانتے ہیں۔ جب پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اچانک چیخیں نکلوانے والا ضافہ ہوا تو دیگر ممالک خاص طور پر اس جنگ کے بھارت پر پڑنے والے اثرات کے ساتھ ساتھ وہاں تیل کی ققیمتیں بھی زیر بحث آئیں اور بھارتی وزیراعظم آعظم نریندرا مودی کی پالیسی اور دورہ اسرائیل بھی زیر بحث آیا، اس دورے کے بعد بھارت کی عیاں ہونے والے خارجہ پالیسی میں اسرائیل ایران پرائے کی طرح سامنے آیا ، اس کی نشاندہی بھی ہوئی اور مودی منافقاہ پالیسی بھی سامنے لائی گئی۔ طے پایا کہ اس حوالے سے بھارت کے مودی میڈیا سے ہی یکطرفہ ٹریفک سے کچھ اخذ کیا جائے تو یہ باٹ واضح ہوگئی کہ ایران نے پاکستان پر بھارت کو ترجیح دی اور وقت پڑنے پر” یہود ہنود مسلمانوں کے دوست نہ ہونے“ پر ایک بار پھر مہر ثبت ہوگئی ۔
آیئے دیکھتے ہیں کہ بھارت کے اس جنگ کے بعد کیا حالات ہیں ؟
ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں سے خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال میں بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی منافقانہ پالیسیوں نے بھارت میں معاشی سماجی اور اب سیاسی عدم استحکام میں اضافے کی طرف سفر شروع کردیا ہے ، اس کی معیشت بڑی طرح تباہ ، انڈسٹری بند ہونا شروع ہوگئی ہے تو جہاں بھارت کے اندر لاکھوں افراد کی بے روزگاری کے سائے منڈلانے لگ ہیں وہیں پر خیلجی ممالک ایک کروڑ ہندوستانیوں کا مستقبل بھی داﺅ پر لگا محسوس کیاجانے لگا ہے ،اسی دوران مودی کو صیہونیوں کو ہندوستان میںبسانے کے انکشافات بھی سامنے آرہے جن پر بھارتی دانشوروں کا کہنا ہے کہ مودی ہندوستان کو یہودستان بنانا چاہتے ہیں۔بھارتی ذرائع ابلاغ کا مودی پالیسیوں کو جہاں بھارت کیلئے خطرناک قراردینے کا وایلہ کیا جارہا ہے تو وہیں پر بھارت میں سیاسی جماعتیں بھی مودی کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں اور مودی کی اسرائیل نواز پالیسی کے برعکس ایران کے سا تھ یکجہتی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ، مرکزی حکومت کے برعکس بھارت ک پجاب اسمبلی نے بیک زبان ایرانی قوم کے ساتھ یکجہتی کا اور طالبات و شہریوں کی شہادت پر تعزیت کا ااظہار بھی کیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے ہی سب سے پہلے ایرانی حملوں نے اسرائیل کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی بھی کی تھی۔
بھارتی معیشت پر اس جنگ کے منفی اثرات پربھارتی مودی میڈیا اس پر بلبلا اٹھا ہے ، عام بھارتی کی نظر میں مودی میڈیا کہلانے والے” این ڈی ٹی وی“ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی اخبارات کا کہنا ہے کہ صرف مودی کے اپنے آبائی علاقے
گجرات میںسو فیکٹریاں بند،دس لاکھ مزدوروں کے سر پر بے روزگاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اس ضمن میں خاص طور پر گجرات کی موبی سیرامکس انڈسٹری کا حوالہ دیا گیا ہے ، جو مائع پیٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی اور بو کے بغیر ، بے رنگ ، ہائیڈرو کاربن گیس(کیمیائی فارمو لاسی تھری، ایچ ایٹ) جسے پروپین گیس کہا جاتا ہے ، سے چلتی ہے۔ حیدر آباد کی اس انڈسٹری کے پاس یہ گیس مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے جو دھوئیںکے بغیر جلتی ہے ، ایندھن کے پر استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ گرمائش پیدا کرنے( اشیاءسکھانے سمیت) کیلئے استعمال ہوتی ہے اور مائع پیٹرولیم گیس بھی انتہائی محدود ہے ، ٹائیلز اور سینٹری ویئر کی یہ عالمی انڈسٹری موربی سرامکس اپنی پیداوار کا تیس فیصد سے زائد ایکسپورٹ کرتی ہے، اس کی حالت انتہائی پتلی ہوچکی ہے،جس کی پیداوار ب±ری طرح متاثر ہوئی ہے اور بیرونی آرڈرز منسوخ ہوئے ہیں ، اس صنعت سے چار لاکھ مزدور بلا واسطہ اور چھ لاکھ بلواسطہ منسلک ہیں۔،گیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے، بھارت میں گھریلو استعمال کا گیس سلنڈر ساٹھ اور کمرشل سلنڈر اب تک ساٹھ سے ایک سو پندرہ روپے مہنگا ہوچکا ہے اس وقت دیکھا جائے تو بھارت میں گیس کی قیمت پاکستانی روپے میں نوے روپے فی کلو مہنگی ہے۔ ان ذرائع اور معاش مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے روسی تیل ایک ماہ کے اندر صرف وہی منگوانے کی اجازت دی ہے جو اس وقت ٹینکروں پر لدا ہوا ہے ، اس سے آگے کی نہیں جبکہ روسی خام تیل دیگر ممالک کی نسبت تیرہ ڈالر فی بیرل سستا مل رہا تھا، ٰ بھارتی ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ بہار کی معروف بھاگل پور ریشم انڈسٹری ب±ری طرح متاثر ہوئی جس کے کپڑے کی مصنوعات امریکہ اور خلیجی ممالک میں بڑی ایکسپورٹ تھی اور اس کے اب تک کروڑوں روپے کے آرڈر منسوخ ہوچکے ہیں جو پاکستانی روپے میں ایک ارب روپے کے لگ بھگ بنت ے ہیں اور یہ سلسلہ رکا نہیں جبکہ بنگلہ دیش پہلے ہی اس کی ایکسپورٹ مارکیٹ پہلے ہوچکی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق
بھارتی سرمایہ کاروں کے نوحے بھی اپنے ہیں، جن کے اسٹاک ایکچینج میں صرف ایک ہفتے کے دوران ایک سو نوے ٹریلین روپے ڈوب چکے ہیں۔ قطر سے گیارہ ہزار چار سو کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن سو فیصد بن ہوچکی ہے جو بھارت کی گیس مارکیٹ کا پطہتر فیصد شیئر رکھتی ہے ، ، وسطی اور خلیجی ممالک سے دو طرفہ تجارت س بھی بھارت کو یومیہ لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے اور ان ممالک میں ایک کروڑ ہندوستانیوں سے آنے والا تیس سے چالیس ارب ڈالرزرِ مبادلہ اچانک رک گیا ہے جب وہاں گیس کی قیمتوں کی طرف دیکھتے ہیں اور بھارتی بڑھتی ہوئی ابتر حالت اور ہم پنے حالات کو دیکھتے ہیں تو جنگی حالات سے پیدا ہونے والی یہ صورت ِ حال ذرائع ابلاغ اور دانشوروں کی نظر میںباؓ باں ہورہی ہے ، اُن کے مطابق جنگ نے تباہی پھیلائی ہے، جسے دیگر ہمسائے اور خطے کے ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں لیکن بھارت کی منافقانہ پالیسیوں نے خود بھارت کو کہیں اور لا کھڑا کیاہے جسے بھارت کے لوگ تباہی کے دھانے سے تعبیر کرتے ہے ۔ مودی سرکار کی پالیسیوں خود بھارتی سیاستدان خود بھارتی قیادت اور عوم مودی منافقت بے نقاب کرتے ہیں۔ریاست اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادیو کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کوئی گروہ رکھے انداز میں چلائی جارہی ، حکومت ہر معاملے میں دوسری طرف دیکھ رہی ہے اور انہی کے اشاروں پر کام کررہی ہے جس سے ملک کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے۔ بھارتی پنجاب اسمبلی نے جہاں اسرائیلی اور امریکی حملوں سے ایران میں شہادتوں پر اسمبلی میں دو منٹ تک کھڑے ہو او رخاموشی اختیار کر شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ایران کے ساتھ یجہتی کا اظہار کیا ہے وہیں پر وزیراعلیٰ بھگونت مان کا کہنا ہے کہ کیا ہندوستان کو وائٹ ہاﺅس سے چلایا جارہا ہے ؟ اس سے پہلے دیگر بھارتی سیاستدان بھی مودی کی پالیسیوں کی نفی کرچکے ہیں اور مرکزی حکومت کی پالیسی کے برعکس اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں جنہیں مبصرین بھارت مں مودی کی طرف سے بڑھتا سیاسی عدم استحکام اور اختلاف رائے قراردیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ بھارت من مودی کی وجہ سے اندرونی انتشار پیدا ہورہا ہے ۔مودی کی طرف سے ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے کی مذمت نہ کرنے پر بھارتی دانشوروں کا کہا ہے کہ بدقسمتی سے ہندوستان کی قیادت ( حکومت) نے منہ سی لیا، جو ہندوستان کی متعین خارجہ پالیسی سے انحراف ہے جس کے دور رس نائج برآمد ہونگے ، ان کے مطابق یہ واضح ہوچکا ہے کہ ایران پر حملوں کی پلاننگ پہلے ہی ہوچکی تھی اور عملدرآمد مودی کے دورے کے بعد ہوا، جہاں مودی نے پارلیمان سے تمغہ لیا اور حماس کے حملوں کی مذمت تو کی لیکن اسرائیل کے ہاتھوں بربریت کا نشانہ بننے والے غزہ کے معصوموں پر لب کشائی نہیں کی ، اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ مودی صیہونیت کے چنگل میں پھنس چکے ہیں (اسرائیلی وفادار بن چکے ہیں)، ان دانشوروں کے مطابق ہندوستان کو اسرائیل ، اران معاملے پر شروع دن سے محتاط رہنے کی ضرورت تھی لیکن مودی کے عاقبت نا اندیش فیصلے ، اسرائیل کے دور ے اور اس کی غیر مشروط حمایت سے ہندوستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، بھارت اور ایران کے دیرینہ تعلقات سے آگاہ بھارتی دانشور ایران کا ساتھ نہ دینے پر مودی پر تنقید کرتے ہوئے ایران کی ثابت قدمی اور ایران کی اسرائیل پر سبقت کا زکر کرتے ہوئے ہتے ہیں کہ عرب ملکوں کو یہ بات سمجھ آچکی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ انہیں باہم لڑانا اور خود فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور جب ایران نے امریکی اڈوں پران پر عرب ممالک میں حملے کیے تو امریکہ ان کا کچھ نہیں کرسکا ، یہاں تک اسرائیل پر حملوں سے یہودیوں نے اسرائیل سے رختِ سفر باند لیا ہے ، یہودی اب اپنے لئے دبئی و بھی محفوظ نہیں سمجھتے ، اور دوسرے ملکوں میں پناہ لے رہے
ہیں ، اسرائیل کو خیر باد کرکے یہودی ہندوستان کو ’یہودستان ‘بنانے کا عزم لے کر ہمارے پیارے وطن بھارت میں پہنچ چکے ہیں مودی کے آبائی علاقے کے آس پاس راجستھان ، مہاراشٹرا ، ہریانہ اور دیگر ملحقہ علاقوں کویہودیوں نے اپنا مسکن بنالیا ہے جو یہ سمجھ گئے ہیں کہ اسرائیل تنہا رہ جائے گا اور ممکنہ طور پر مٹ جائے گا۔،
گلوبل پِنڈ کی بیٹھک سمجھتی ہے کہ مودی میڈیا جو نشندہی کررہا ہے وہ مکمل حکومتی کنٹرول میں رہتے ہوئے ر کے ہوئے پانی سے جو رساﺅ کی صورت میں جو بوند چھوڑتا ہے، وہپ بھارت کے حالات اور اسرائیل و امریکہ کی حالت بتانے کیلئے کافی ہیں ، بھارت ہی کے میڈیا نے نشاندہی کی تھی کہ اسرائیل کی ایران نے اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ بحث ابھی جار تھی کہ اسکرین پر وزیراعظم پاکستان محرم میاں محمد شہباز شریف نمودار ہوئے اور انہوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی نئی لہر کی خبر سنادی اور بیٹھک کے شرکاءاف اف کرتے اٹھنے لگے اور یوں یہ محفل ایک ایسے انداز میں ختم ہوگئی جیسے باہر طوفان آرہا ہو شرکاء کے نہتے بچے کھلے آسمان تلے سوئے ہوں ہوں جنہیں اس طوفان نے اپنے ساتھ اڑا لے جانا ہے ۔
