انسانی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ دنیا کی بیشتر جنگیں مردوں نے شروع کیں، مگر ان کے نتائج عورتوں اور بچوں نے سب سے زیادہ بھگتے۔ عورت جو زندگی کو جنم دیتی ہے، اس کی فطرت میں تخریب نہیں بلکہ تخلیق ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے اکثر کہا جاتا ہے کہ عورت کو جنگ پسند نہیں ہوتی، وہ امن چاہتی ہے، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ایک زندگی کو پیدا کرنے میں کتنا درد، صبر اور محبت شامل ہوتی ہے۔عورت کے وجود میں ایک خاص حساسیت اور احساس ہوتا ہے۔ وہ جب ایک بچے کو اپنے وجود میں نو مہینے تک پالتی ہے تو اس کے اندر زندگی کے لیے ایک گہرا احترام پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے انسان صرف ایک سپاہی یا دشمن نہیں ہوتا بلکہ کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی اور کسی بچے کا باپ ہوتا ہے۔ یہی احساس اسے جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرنے کی طرف مائل کرتا ہے۔
اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو زیادہ تر جنگوں کے فیصلے اقتدار، طاقت اور توسیع کی خواہش کے تحت کیے گئے۔ یہ وہ ذہنیت ہے جو اکثر مردانہ طاقت کے تصور سے جڑی رہی ہے۔ اگر فطرت تخلیق کی اصل طاقت مرد کو دیتی اور اسے دردِ زہ اور پرورش کے تجربے سے گزارتی، تو شاید وہ بھی زندگی کی قیمت کو اسی شدت سے محسوس کرتا جس طرح ایک ماں کرتی ہے۔ ممکن ہے تب دنیا میں جنگوں کی تعداد کم ہوتی، کیونکہ جو شخص زندگی کو اپنے جسم سے پیدا کرتا ہے وہ اسے تباہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عورتیں کمزور ہیں۔ درحقیقت عورت کی طاقت تخلیق، برداشت اور محبت میں ہے۔ وہ زندگی کو آگے بڑھاتی ہے، خاندان کو جوڑتی ہے اور معاشرے کو نرم انسانی اقدار کی طرف لے جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں امن کی تحریکوں میں عورتوں کی آواز نمایاں رہی ہے۔آج کے دور میں جب دنیا مسلسل تنازعات اور جنگوں کے خطرات سے دوچار ہے، تو عورتوں کی آواز اور بھی اہم ہو جاتی ہے۔ عورتیں صرف گھروں کی نگہبان نہیں بلکہ معاشرے کی اخلاقی سمت متعین کرنے والی قوت بھی ہیں۔ جب عورت امن کی بات کرتی ہے تو وہ صرف ایک نظریہ پیش نہیں کرتی بلکہ اپنے تجربے اور اپنی فطرت
کی گواہی دیتی ہے۔آخرکار یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تخلیق دینے والی عورت دراصل زندگی کی محافظ ہے۔ اس کی خواہش جنگ نہیں بلکہ امن ہے، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ہر تباہی کے بعد دوبارہ زندگی کو سنبھالنے کا بوجھ بھی اسی کے کندھوں پر آتا ہے۔ شاید اسی لیے دنیا کو آج سب سے زیادہ ضرورت اس آواز کی ہے جو زندگی کو بچانے اور انسانیت کو جوڑنے کی بات کرتی ہے۔ایک محبت بھرا پیغام ان تمام عورتوں کے نام جنہوں نے حمل کے درد سہہ کر انسان کو جنم دیا،جن کے ہاتھوں سے نوالے انسانی بچے کہ پہلی خوراک بنے،سرمہ آنکھوں میں ڈال کر اس معصوم کی معصمیت بحال رکھنے کی کوشش کی ۔ بال بناتے ہوئے پہلی مرتبہ جن کے ہونٹ ہمانسانی بچے کی جبینوں کو روشن کرتے رہے،کہرے کی راتوں میں کہانیاں سنا کے وعظ کرنے والی ان بوڑھی عورتوں کے نام جن کی آواز کمزور مگر نصیحت مضبوط تھی،جینے کا ڈھنگ،سلیقہ بتانے والیوں کے نام،ان کے نام،ان استانیوں کے نام جنہوں نے ریاضی،سائنس اور انگریزی کی تعلیم کے ساتھ اصول و آداب سکھائے،
عاصمہ جہانگیر کے نام،
بلقیس ایدھی کے نام،
ثمینہ بیگ کے نام اور ان تمام عورتوں کے نام جو ڈریں نہیں۔
ایک معافی نامہ ان خواتین کے نام جن سے ہم نے بچوں کی کھیپ مانگی،جن کی منشاء کے خلاف ان کے جسم چھوئے گئے،
جن کی جائیداد ماں جائے لے اڑے،جن کی محبت کسی دستار کے پیچوں میں بند ہوگئی،انا کی تسکین جن کے چہروں پر تیزاب گردی
تلک لے گئی،اس عورت کے نام جو بیٹی کی پیدائش سے قبل نہیں جانتی کے اس کے ولدیت کے خانے میں ایدھی،چھیپا یا سیلانی کس کا نام آئے گا،گھڑی کی سوئی جن کے کردار طے کرتی رہی،نور مقدم کے نام،کوٹ رادھا کشن کی شمع کے نام،تیزاب گردی کی شکار شہناز بیگم کے نام،زینب کے نام اور ان تمام کے نام جن کے پاس سنانے کو بس کہانیاں ہیں۔
یہ۔عالمی دن ان تمام عورتوں کے نام
جنہوں نے مردوں کو نیچا دکھانے کے بجائے ، اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کی جنہوں نے مردوں عورتوں سے مقابلے میں زندگیاں جہنم بنانے کے بجائے دنیا کو جنت بنانے کی کوشش کی جنہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ چل کر کامیابی کی سیڑھیاں چڑھیں
ان تمام عورتوں کو مبارک جنہوں اپنے حقوق لینے کے لئیے کسی کو ذلیل کرنا مناسب نہ سمجھا ان تمام عورتوں کو جنہوں نے اپنے آپ کو خوب صورت دکھنے کے لئیے وقت نکالا ان تمام عورتوں کو جنہوں نے شوھر ، بیٹے ، بھائی کی کامیابی کے لئیے ان کو حوصلہ دیاان تمام عظیم عورتوں کو ، جنہوں نے یہ جان لیا کہ ھمارا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ، بلکہ ھمارا مقابلہ اپنے آپ کو کل سے بہتر بنانے کا ھے ان تمام عورتوں کو جنہیں گھر کو جنت بنانے ، برتن دھونے ، کھانا بنانے یا کوئی کام کرنے میں کبھی ھتک محسوس نہ ھوئیان تمام عورتوں کو جنہوں نے مشکل وقت میں رونے دھونے اور بد دعائیں دینے کے بجائے ، مشکل سے نکلنے کے راستے نکالے۔ کائنات کے حسین ترین ، نازک ترین، اور شوخ ترین مخلوق کو بھی یہ عالمی دن بہت بہت مبارک ہوں ۔۔
یہ مخلوق ماں کی روپ میں ہوں یا بیٹی ،
بہن یا بیوی ہر روپ میں یہ ہر رنگ میں ہر انداز میں نرالی ہے ۔۔
یہ ماں ہے تو جنت ہے ۔۔
یہ بیوی ہے تو جزو ایمان ہے ۔
یہ بہن ہے تو قربانی ہے۔
یہ بیٹی ہے جگر گوشہ ہے۔
الغرض ہر طرح سے رب کا انوکھا شاہکار ۔
میری فرینڈلسٹ میں شامل تمام خواتین کو بھی عورتوں کا یہ عالمی دن مبارک ہو ۔۔ آپ سب میرے لیئے انتہائی قابل قدر، قابل عزت و تکریم ہو ۔۔۔ایک دن نہیں پورا مارچ ان تمام خواتین کے نام۔ اٹھیئے۔آیئے اپنا دن خود منایئے ،جیسے۔کہ آج میں نے منایا۔
میں خود اپنے لیئے اپنی بہو کے لیئے ،اپنی بیٹی کے لیئے اور اپنے لیئے خوبصورت پھولوں کے گلدستے اور کیک لائی ۔۔اور اپنے گھر کی تمام خواتین کے ساتھ ساتھ خاندان کی خواتین ،دوستیں اور تمام خواتیں کو ان کے عورت ہونے پر ۔ان کو دل کی گہرئیوں مبارک باد دیتی ہوں۔۔۔
کیونکہ مردوں کی یہ دنیا عورتوں کی وجہ سے ہی خوبصورت ہے ،
وہ کہتے ہیں نہ کہ ،
"وجود زن ہے تصویر کائنات میں رنگ "

