سالم کا شدت پسند تنظیم سے وابستہ ہونا کوئی اچانک یا جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک بتدریج پروان چڑھنے والا عمل کارفرما تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس کی ملاقات بی ایل اے کی خودکش بمبار سمعیہ قلندرانی سے اُس وقت ہوئی جب وہ University of the Punjab میں زیرِ تعلیم تھا۔ دونوں کے درمیان موبائل فون پر مسلسل رابطہ رہا، اور مبینہ طور پر سمعیہ نے ہی اسے تنظیم کے نظریات سے متعارف کرایا اور اس کی ذہن سازی میں کردار ادا کیا۔
اسی دوران سالم نے جامعہ کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر تربت واپسی اختیار کی، تاہم سمعیہ سے اس کا رابطہ منقطع نہ ہوا۔ 24 جون 2023 کو سمعیہ قلندرانی نے ضلع کیچ کے شہر تربت میں کمشنر روڈ پر خودکش حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق جبکہ دو اہلکار، جن میں ایک خاتون پولیس اہلکار بھی شامل تھیں، زخمی ہوئیں۔ واقعے کے بعد ہونے والی تحقیقات میں سمعیہ اور سالم کے درمیان روابط منظرِ عام پر آئے، جس کی بنیاد پر جولائی 2023 میں سالم کو حراست میں لیا گیا۔
دورانِ تفتیش اس کے بی ایل اے سے مبینہ روابط کی نشاندہی ہوئی، تاہم سالم نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سمعیہ سے اس کا تعلق محض ذاتی نوعیت کا تھا۔ اہلِ خانہ کی یقین دہانی اور سالم کے اس وعدے پر کہ وہ آئندہ ایسی سرگرمیوں سے دور رہے گا، اسے اگست 2023 میں رہا کر دیا گیا۔تاہم رہائی کے صرف ایک ماہ بعد، ستمبر 2023 میں، سالم نے پہاڑوں کا رخ کیا اور باقاعدہ طور پر تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی۔ بعد ازاں آپریشن “ہیروف 2” کے دوران وہ دیگر مسلح افراد کے ساتھ مارا گیا۔
یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورکس کس طرح تعلیمی ماحول، ذاتی تعلقات اور نظریاتی وابستگیوں کو استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وقتی تردیدیں اور زبانی یقین دہانیاں اُس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہوتیں جب تک ان کے ساتھ جامع نگرانی، بحالی اور فکری رہنمائی کا مربوط نظام موجود نہ ہو۔

