• پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

پاکستان کی اسٹیل ملز کی بحالی میں خاموشی کیوں؟

تحریر:عذرا ملک

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
فروری 16, 2026
in کالمز
0
پاکستان کی اسٹیل ملز کی بحالی میں خاموشی کیوں؟
0
SHARES
8
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

پاکستان اسٹیل ملز محض ایک صنعتی ادارہ نہیں بلکہ ایک خواب تھا، خود کفالت کا خواب صنعتی خود مختاری کا خواب اور قومی وقار کی علامت، کراچی کے ساحل پر قائم یہ عظیم منصوبہ اس سوچ کا اظہار تھا کہ پاکستان اپنی بنیادی صنعتوں میں بیرونی محتاجی سے نکل کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بھلائی میں طویل خاموشی کیوں ہے؟ کیوں ایک ایسا ادارہ جس نے ہزاروں خاندانوں کو روز گار دیا ، قومی خزانے کو سہارا دیا اور صنعتی ترقی کی بنیا درکھی وہ خوفناک اور افسوس ناک بے حسی اور ویرانی کا منظر پیش کر رہا ہے ، 1990 کی دہائی میں قائم ہونے والی پاکستان اسٹیل ملز سوویت تعاون سے تعمیر ہوئی ،اس کی پیداواری صلاحیت لاکھوں ٹن اسٹیل سالا نہ تھی ، جو ملک میں تعمیرات ، دفاعی صنعت اور انفراسٹکچر منصوبوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی، اپنے عروج کے دور میں یہ ادارہ منافع کما رہا تھا، ہزاروں افراد کو بر اوراست اور بالواسطہ روزگار فراہم کر رہا تھا، اسٹیل ملز کی رہائشی کالونی ایک مکمل حسین شہر کا منظر پیش کرتی تھی، جہاں تعلیم صحت اور دیگر سہولیات میسر تھیں لوگ اس کو کراچی کی جنت کہتے تھے، مگر پھر لٹیرے اور چوروں نے اس عظیم منصوبے کو آہستہ آہستہ خسارے ،بد انتظامی اور سیاسی مداخلت کی راہ پر ڈال کر یہ بادی کا شکار کردیا، پاکستان اسٹیل ملز کے مسائل اچھا تک پیدا نہیں ہوئے ، وقت کے ساتھ ساتھ اس ادارے کو سیاسی بھرتیوں، غیر پیشہ ورانہ انتظا میہ اور ناقص پالیسیوں نے کمزور کیا، ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی قومی ادارے کو میرٹ کی بجائے سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر چلایا جائے تو وہ بر پا ہوگیا، پاکستان اسٹیل ملز 1970 کی دہائی کی سب سے بڑی صنعتی سرمایہ کاری تھی، اس کی پیداواری صلاحیت تقر یونا 101 ملین ٹن سالا نہ کھی گئی جیسےوقت کے ساتھ ساتھ بڑھاپا بھی جا سکتا تھا، ایک وقت میں یہ ادارہ قومی خزانے میں اربوں روپے کا اضافہ کر رہا تھا، اور ہزاروں خاندانوں کے لیے رزق کا ذریعہ تھا، ہر نئی حکومت اپنے پیش رو کی پالیسیوں کو بدلنے میں مصروف رہی، اسٹیل ملز کے لیے کبھی نجکاری کبھی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور کبھی سرکاری تحویل جیسے آپشنز زیر غور آئے ، مگر اہل سر کاروں نے اور بےحس سیاسی فنکاروں نے اپنے مفادات کی خاطر کہیں مستقل مزاجی سے عمل نہ کیا نتیجہ، فیصلوں کی فائلیں چلاتی رہیں، خسارے بڑھتے رہے اور آخر کار بلیاں ٹھنڈی ہوتی رہیں جکاری کے بخار میں مبتلا حکمرانوں نے معاملہ مزید پیچیدہ کیا، 2006 میں نجکاری کا عمل عدالتی مداخلت سے روک دیا گیا، بعد ازاں اسٹیل کی نوعیت سے بے خبر کاغذی کاروائیوں کی مد میں اہل حکمران
جو اسٹیل سکیٹر اور اس کی اہمیت سے الف ب کا علم نہیں رکھتے تھے، یہ سوچتے رہے کہ اسے بیچ دیا جائے یا ریاستی کنٹرول میں بحال رکھا جائے مقصد یہ تھا کہ سونے کے انڈے دینے والی مرغی کو ذاتی قید میں کیسے رکھا جائے ؟ اسٹیل ملز پر اربوں روپے کے قرضے چڑھ چکے ہیں، ملازمین کی تنخواہیں ، پینشن اور واجبات ایک بڑا مسئلہ بنا دیئے گئے ہیں، حکومتوں کے لیے فوری بحالی ایک بھاری مالی بوجھ دکھائی دیتی ہے اس لیے خاموشی شاید ایک آسان راست محسوس ہوتی ہے، گزشتہ برسوں میں توجہ آئی ٹی ،سروس سکٹر اور درآمدی ماڈل کی طرف زیادہ رہی، بھاری صنعتوں کی بحالی کو شاید وہ سیاسی کشش نہ ملی جو فوری نتائج دینے والے شعبوں کو ملاتی ہے، فائلوں کی گردش منظوریوں کی تاخیر اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی نے مسئلے طول پکڑا دیا صعتی منصوبےسیاسی نعروں سے نہیں مستقل مزاجی اور تکنیکی حکمت عملی سے زندہ ہوتے ہیں ، جب مقامی اسٹیل پیدا نہیں ہوگا، تو در آمد بڑھیں گی ، اس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے ساتھ میں صنعت بند ہونے سے ہزاروں خاندان براہ راست متاثر ہوئے بالواسطہ طور پر ٹرانسپورے سپلائی اور دیگر صنعتیں بھی متاثر ہوئیں، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارو مدار اس کی بنیا دی صنعتوں پر ہوتا ہے، اسٹیل بنیادی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اکثر یہ سوال گردش کرتا ہے کہ کیا اتنےبرسوں بعد بحالی ممکن ہے؟ جواب ہے ہاں اگر ادارہ ہو ، اگر سیاست سے پاک بورڈ آف ڈائریکٹر ہوں سرمایہ کاری اور مہارت دونوں کا امتزاج ہو، اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہو اور نیت محنت اور ملک کے رقبے بڑے ادارے کے ساتھ وفا داری کی ہو تو سب چل سکتا ہے، جب ایک قومی ادارہ کھربوں روپے مالیت کی اہلیت لیے برسوں سے بند رکھا گیا ہو اوراس کی بحالی پر بھی نہ سنجیدہ مکالمہ ہو، نہ احساس ذمہ داری ملکی اسٹریٹجک ادارے کی کوئی صبح سے لے رہا ہو تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے، کیا یہ خاموشی نا اہلی کا نتیجہ ہے ؟یا پالیسی ترجیحات کا بدلتا دور خارجان، یا کسی بڑے صنعتی لابی کا اثر عوام کو صرف وعدوں سے نہیں واضح روڈ میپ سے مسلمین کیا جا سکتا ہے، پاکستان اگر واقعی صنعتی بنیا د ہوگا اسٹیل ملز کی بحالی صرف ایک ادارے کی بھائی نہیں، بلکہ ایک صنعتی سوچ کی بحالی ہے ، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ میں مسلسل جامع بحث ہو ماہرین معاشیات اور صنعت کاروں کو بٹھایا جائے اور ایک قابل عمل منصو بہ لایا جائے ، نو جوان کو روز گار چاہئے ، انجنیئر نگسکیٹر کے اور سکر میں مہارت رکھنے والے کاریگروں کو ، مزدوروں کو ، پڑھے لکھے طبقے کے ایڈ منسٹر یٹر ز کو، بزنس مین کو، نو جوانوں کی ڈھال بن کر ابھرنے والا ادارہ ، صنعت جو ماں کی چھاؤں کا تقدس رکھتی ہے اس کا فعال ہونا اشد ضروریہے، یہ معیشیت کو بنیا دے گی اور ریاست کو اپنی صنعتی شناخت واپس چاہیے ، پاکستان اسٹیل ملز کی بند بھیاں صرف لوہا نہیں پگھلاتی تھیں ، وہ قوم کے خوابوں کو شکل دیتی تھیں، آج ان بھٹیوں کی خاموشی ایک سوال ہے کیا ہم صنعتی خود مختاری سے دستبردار ہو چکے ہیں؟ یا پھر کسی پاکستان کے اس ادارے سے وفا کرنے والی مضبوط قیادت کے انتظار میں ہیں جو اس قومی اثاثے کو دوبارہ زندہ کرے؟ بحالی میں خاموشی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی یا تو فیصلہ ہوگایا تاریخ سوال پوچھتی رہے گی، پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی صرف اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ قومی وقار کا مسئلہ ہے۔

پچھلی پوسٹ

ممبئی:جیکولین فرنینڈس کو ویلنٹائن ڈے پر 30 کروڑ کاہیلی کاپٹر گفٹ

اگلی پوسٹ

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی سری لنکن وزیر کھیل سے ملاقات، کھیلوں کے فروغ پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی سری لنکن وزیر کھیل سے ملاقات، کھیلوں کے فروغ پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی سری لنکن وزیر کھیل سے ملاقات، کھیلوں کے فروغ پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper