پاکستان میں توانائی کا بحران کوئی عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل قومی حقیقت بن چکا ہے۔ برسوں سے عوام لوڈشیڈنگ، بڑھتے ہوئے نرخوں، غیر شفاف معاہدوں اور ناقص منصوبہ بندی کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ ہر آنے والی حکومت توانائی اصلاحات کے وعدے کرتی ہے، مگر زمینی حقائق کم ہی بدلتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جب بجلی کے بل عوام کی قوتِ برداشت سے باہر ہو گئے تو ایک غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ پہلی بار عوام نے ریاست کی طرف دیکھنے کے بجائے خود مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔یہ حل سولر انرجی کی صورت میں سامنے آیا۔
سولر سسٹم لگانا نہ تو آسان فیصلہ تھا اور نہ ہی سستا۔ یہ کسی سرکاری سبسڈی، خصوصی رعایت یا سہولت کے تحت نہیں ہوا۔ متوسط اور نچلے متوسط طبقے نے اپنی زندگی کی جمع پونجی، بچت، حتیٰ کہ قرض لے کر اپنے گھروں، دکانوں اور صنعتوں پر سولر پینل نصب کیے۔ مقصد واضح تھا: مہنگی بجلی سے نجات، لوڈشیڈنگ سے آزادی اور ایک قابلِ بھروسا متبادل نظام۔
یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ریاست کو سکھ کا سانس لینا چاہیے تھا۔ عوام خود بجلی پیدا کر رہے تھے. قومی گرڈ پر بوجھ کم ہو رہا تھا درآمدی ایندھن کی ضرورت گھٹ رہی تھی، قیمتی ڈالر بچ رہے تھے اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی آ رہی تھی۔ اس پس منظر میں نیٹ میٹرنگ کو ایک مثبت، عملی اور دور اندیش پالیسی کے طور پر پیش کیا گیا۔
نیٹ میٹرنگ کا تصور سادہ اور منصفانہ تھا۔ اگر کوئی صارف دن کے وقت اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے تو وہ اضافی بجلی قومی گرڈ کو دے دیتا ہے۔ رات یا ضرورت کے وقت وہی صارف گرڈ سے بجلی حاصل کرتا ہے۔ مہینے کے آخر میں دونوں کا فرق نکالا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر بل بنتا ہے۔ یہ کوئی خیرات نہیں تھی اور نہ ہی کسی پر بوجھ۔ یہ ایک حسابی شراکت داری تھی جس میں ریاست اور شہری ایک دوسرے کے مددگار تھے۔اس پالیسی کے فوائد صرف سولر صارفین تک محدود نہیں تھے۔ اس سے بجلی کی ترسیل کا نظام بہتر ہوا، گرڈ پر دباؤ کم ہوا ایندھن کی درآمد میں کمی آئی زرِمبادلہ بچا اور قابلِ تجدید توانائی کو فروغ ملا۔ یہ وہ تمام اہداف تھے جن کا ذکر ریاست خود اپنی پالیسی دستاویزات، ماحولیاتی وعدوں اور عالمی فورمز پر کرتی رہی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ فائدے میں تھا تو پھر مسئلہ کہاں پیدا ہوا.
حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے بعد نیٹ میٹرنگ اپنی اصل روح کھو چکی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ریاست ایک طرف صارف کو بجلی تقریباً چالیس روپے فی یونٹ میں فروخت کرتی ہے جبکہ دوسری طرف اسی صارف سے اس کی پیدا کردہ بجلی محض گیارہ روپے فی یونٹ میں خریدنے پر آمادہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔ یعنی مہنگی خرید پر بھی ٹیکس اور سستی فروخت پر بھی ٹیکس۔
یہ محض قیمتوں کا فرق نہیں بلکہ ایک بنیادی اخلاقی اور معاشی تضاد ہے۔ اگر بجلی ایک ہی ہے تو اس کی قیمت دو کیوں؟ اگر سرمایہ شہری کا ہے زمین اس کی ہے چھت اس کی ہے سسٹم اس کا ہے اور رسک بھی وہی لے رہا ہے تو فائدہ یکطرفہ کیوں ہے؟ اگر مقصد واقعی توانائی بحران کا حل تھا تو پھر عوام کو بددل کیوں کیا جا رہا ہے.یہاں نیٹ میٹرنگ ایک شراکت داری نہیں رہی بلکہ ایک ایسا یکطرفہ انتظام بن چکا ہے جس میں نقصان ہمیشہ صارف کا ہے۔ محنت تمہاری، سرمایہ تمہارا، خطرہ تمہارا، مگر منافع کسی اور کے حصے میں۔یہ مسئلہ صرف پیسوں تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ ریاستی سوچ اور رویے کا ہے۔ پیغام بالکل واضح ہے اگر تم خود مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرو گے تو تم پر اضافی ٹیکس اور پابندیاں لگیں گی۔ یہ وہ طرزِ فکر ہے جو کسی بھی معاشرے میں خود انحصاری، جدت اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔
یہ معاملہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کرتا ہے۔ آج سولر کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے، کل پانی، گیس، انٹرنیٹ یا تعلیم کے شعبے میں بھی یہی منطق اپنائی جا سکتی ہے۔ جو بھی عوام خود بہتر کرنے کی کوشش کرے گا، اسے ریونیو لاس قرار دے کر دبایا جائے گا۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر خود مختار قدم نقصان نہیں ہوتا بعض اوقات یہی قدم پورے نظام کی بچت بن جاتا ہے۔آئینی طور پر بھی یہ پالیسی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا ریاست ایک ہی شے کے لیے شہریوں کے درمیان امتیازی نرخ مقرر کر سکتی ہے؟ کیا ماحول دوست اقدامات کی حوصلہ شکنی آئین میں دیے گئے مساوات اور منصفانہ سلوک کے اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے کیا پالیسیوں میں اس قدر اچانک اور یکطرفہ تبدیلی عوامی اعتماد کے منافی نہیں.
ماحولیاتی تناظر میں یہ تضاد اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا شکار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے گرین انرجی کے وعدے کرتا ہے اور کلائمیٹ فنانس کا مطالبہ کرتا ہے۔ مگر عملی طور پر جو واحد قابلِ عمل سبز حل عوام نے خود اپنایا اسی کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ دوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے.
ریاست اور عوام کے درمیان سب سے قیمتی اثاثہ اعتماد ہوتا ہے۔ جب عوام دیکھتے ہیں کہ ان کی نیت پر شک کیا جا رہا ہے، ان کی سرمایہ کاری کو نقصان میں ڈالا جا رہا ہے اور پالیسیاں بغیر مشاورت کے بدل دی جاتی ہیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ دوبارہ نظام پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور جب اعتماد ختم ہو جائے تو نظام صرف کاغذوں میں چلتا ہے۔
حل موجود ہیں اگر نیت ہو۔ نیٹ میٹرنگ کو لاگت کے مطابق ضرور بنایا جا سکتا ہے، مگر منصفانہ طریقے سے۔ ٹیکس پالیسی واضح اور یکطرفہ نہ ہو۔ پہلے سے سولر لگانے والے صارفین کو تحفظ دیا جائے۔ عوام کو دشمن نہیں بلکہ شراکت دار سمجھا جائے۔ یہ کوئی ناممکن مطالبات نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔
یہ تحریر سولر کے حق میں نہیں بلکہ انصاف کے حق میں ہے۔ یہ ریاست کے خلاف نہیں بلکہ غلط پالیسی کے خلاف سوال ہے۔ اگر عوام کو اپنے ہی وسائل بہتر استعمال کرنے پر سزا دی جائے گی تو پھر مسئلہ صرف بجلی کا نہیں رہے گا بلکہ ریاستی سمت کا ہو گا۔یہ معاملہ سوشل میڈیا کے شور تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ یہ ایک سنجیدہ پالیسی، معاشی اور آئینی سوال ہے جسے عدالت میں جانا چاہیے۔ کیونکہ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل خاموش رہنا واقعی جرم بن جائے گا۔

