مجھے یاد ہے یہ نوے کی دہاٸی کے درمیانی سال تھے ۔ ان دنوں میں شام کے بعد پبلیکیشنز کے نام سے کتابیں شاٸع کرتا تھا۔ عدیم ہاشمی صاحب سے ملاقاتیں تسلسل سے جاری تھیں ، ایک دن انکا فون آیا اور انہوں نے بتایا کہ نیا مجموعہ فاٸینل ہوگیا ہے اور نام بھی ایسا سوچا ہے کہ سب کوپسند آ رہا ہے خاص طور پر نور علی نور اور اختر عثمان نے بہت پسند کیا ہے ۔ میں نے پوچھا کیا نام ہے تو بتایا کہ ،” اہتمام ” ۔ میں جوابا” خاموش ہوگیا تو کہنےلگے ۔۔۔ لگتا ہے آپ کوپسند نہیں آیا ؟ ۔ میں نے جوابا” ہنستے ہوے کہا کہ نیچے یہ بھی لکھنا پڑے گا کہ بمقام موچی دروازہ ، بوقت بعد از نماز عشاء ۔۔۔۔۔۔ جواب میں تھوڑے سے غصے اور ناراضی سے بولے کہ پھر آپ ہی رکھو نام ۔ میں نے کہا اگر میرا رکھا ہوا نام آپ کو پسند آ گیا تو سو روپۓ معاوضہ لوں گا اور 
نام نہ پسند آیا تو دو سو روپے جرمانہ ادا کروں گا۔ دوتین روز بعدلاہور آۓ اور آتےہی کہنے لگے دوسو روپے نکالو ۔۔۔ ایڈوانس ہی دے دو تو اچھا ہے ،تم نے میرا اتنا اچھا نام ایک تو ریجیکٹ کیا ہے اس پر مزید یہ کہ جلسہ منسوب کرکے دل سےہی اتار دیا ہے ۔ اب تم جو بھی نام تجویز کرو میں نے ریجیکٹ کر کے دو سو روپے تمہاری جیب سے نکلوانے ہیں شاید اسی سے ہی میرے غصے میں کچھ کمی آۓ ۔ بہتر یہی ہے پہلے ہی مجھے دے دو۔ ۔۔۔۔۔ میں نےہنستے ہوے دو سو نکالے اور میز پر رکھ دیے اور بولا کہ آپ کے اس تازہ شعری مجموعے کا نام ہو گا ، ” فاصلے اسے بھی ہونگے ” عدیم صاحب کا چہرہ پہلے حیرانی اور پھر بچوں جیسی خوشی سے چمک اٹھا ۔ اٹھ کر چلنے لگے ساتھ ساتھ بولتے جا رہے تھے بابا جی کمال ہوگیا ، کمال ہوگا واہ واہ یہی نام ہوگا ۔ میں نے کا حضور میرا سو رپیہ ۔۔۔ انہوں نے فورا” اپنی جیب سے پانچ سو روپے نکالے اور بولے انہیں پانچ کروڑ سمجھنا ۔ یہی نام ہوگا ڈن ۔ پھر ان کی کتاب ، ” فاصلے ایسے بھی ہونگے ” کے نام سے شام کے بعد پبلیکیشنزسے شاٸع ہوٸی ۔
اختر عثمان ایک دلچسپ اور پیارا انسان ہے ۔مجھے اس سے ہمیشہ ہمدردی رہی ہے ہے کہ اس بیچارے نے ساری زندگی مشکل الفاظ کی شاعری کرکے غالب اور میر انیس بننے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن دکھ کی بات یہ ہے اختر عثمان ہی نہ بن سکا۔ کم از کم اختر عثمان ہی بن جاتا تو اچھا ہوتا ۔ اب اسی نام ، ” اہتمام ” سے راول حسین کی کتاب پہلے سے موجود ہے ۔ ایک تو ان بیچاروں کی ویسے ہی دو چار کتابیں ہوتی ہیں اور مزید یہ کہ ان کو بھی نیا نام نہیں دے سکتے ۔ جو شاعر عباس تابش کی طرح اپنے شعری مجموعے کا نام ہی اوریجنل نہ رکھ سکیں تو نیا شعر کہاں سے لاٸیں گے ۔ ہوسکتا ہے اگر اختر عثمان افتخار عارف اور عباس تابش جیسے مفاد پرستی کی بنیاد پر ادب فروشی کرنے والوں کی چھایا چھتر تلے نہ بیٹھتا تو اسے اپنی کتاب کے لیے کوٸی نیا نام اور نیا شعر سوجھ ہی جاتا ۔
صحبت صالح ترا صالح کند صحبت طالح ترا طالح کند۔ وما علینا الا البلاغ ۔

