• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

ڈیجیٹل کرنسی : انسان کی مکمل غلامی حصہ اول

مسعود انور

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
جنوری 24, 2026
in کالمز
0
ڈیجیٹل کرنسی : انسان کی مکمل غلامی   حصہ اول
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

آج کل دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسی کا شور ہے ۔ پاکستان نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل کرنسی کے دور میں داخل ہورہا ہے ۔ اس کے لیے معاہدے کیے جارہے ہیں اور کرپٹو کرنسی سمیت ہر قسم کی ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت دی جارہی ہے ۔ اس کے کیا اثرات ہوں گے ۔ اس بارے میں کم ہی لوگ علم رکھتے ہیں ۔

ڈیجیٹل کرنسی کے بارے میں گفتگو سے قبل تھوڑی سی جانکاری موجودہ کاغذی کرنسی کے بارے میں کہ اکثر لوگ اس کے بارے میں بھی نہیں جانتے ہیں ۔ اس کے بعد ہم ڈیجیٹل کرنسی کے بارے میں بات کریں گے ۔ ابتدائے زمانہ میں اشیاء کے لین دین کے لیے بارٹر سسٹم سے کام لیا جاتا تھا یعنی اگر کسی فرد کو گندم کی ضرورت ہے تو وہ اسے اپنے پاس موجود بھیڑ کے ذریعے دوسرے فرد سے حاصل کرسکتا تھا ۔ اس میں دقت کی بناء کی دھاتی نظام آیا یعنی سونے اور چاندی کے سکے تبادلے کا ذریعہ ٹھیرے ۔ یہ بارٹر سسٹم کے مقابلے میں انتہائی آسان اور قابل عمل تھا ۔ یعنی آپ کے پاس اگر ایک تولہ سونا ہے تو آپ اسے چار حصوں میں تقسیم کرکے بھی کام کرسکتے ہیں اور ان کی مجموعی مالیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مگر ایک بکری کو چار حصوں میں تقسیم کرکے کام نہیں چلایا جاسکتا ۔ یا اگر کسی کے پاس کوئی قیمتی قالین ہے تو اسے کئی حصوں میں تقسیم کرنے کا مطلب اس کی مالیت میں بھاری نقصان ہے یا کسی خوبصورت بلوریں جام کو تقسیم کرنے کا مطلب مکمل نقصان ہے ۔ یہ دھاتی نظام ایک طویل عرصے تک چلتا رہا تاآنکہ اطالوی تاجر اور مہم جُو مارکو پولو نے تقریبا سات سو برس قبل چین کا سفر کیا ۔ اس نے وہاں پر کاغذی کرنسی کا استعمال دیکھا جو اس کے لیے بالکل نئی چیز تھی ۔ چین کے سفر سے واپسی پر اس نے اس کا تذکرہ یورپی اشرافیہ سے کیا اور یوں یہودیوں کے دماغ میں دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک اچھوتے خیال نے جنم لیا ۔ بغیر محنت سے کمائی ہوئی خیالی اور ہوائی دولت کے ذریعے لوگوں کی حقیقی دولت پر قبضہ ۔

انسان کی حقیقی دولت یا تو مال مویشی ہوتے ہیں یا پھر اجناس ۔ یہی انسان کی بنیادی ضرورت ہے ۔ باقی سب چیزوں کی مالیت ہوائی ہے ۔ اگر مال مویشی یا اجناس نہ ہوں تو تصور کریں کہ کیا ہوگا ؟ خوبصورت آرٹ ورک ، ہوائی جہاز ، اسلحہ ، بہترین مواصلاتی نظام وغیرہ وغیرہ سب کچھ موجود ہے مگر کھانے کو کچھ بھی دستیاب نہ ہو تو لوگ ایک وقت کی غذا کے لیے اپنا سب کچھ دینے کو تیار ہوجائیں گے ۔یہی وجہ ہے کہ جائیداد کو real state کہا جاتا ہے ۔ یعنی حقیقی دولت قابل کاشت زمین ہے جہاں پر زراعت ہوتی ہے یا چراہ گاہیں جہاں پر مال مویشی چرتےہیں ، اس سے ان کی افزائش بھی ہوتی ہے اور تعداد میں اضافہ بھی ۔ انسان کی بنیادی ضروریات ہیں کیا ؟ یہی کہ رہنے کے لیے ایک ایسا ٹھکانہ جہاں پر وہ موسم کی سختیوں سے محفوظ رہ سکے ، پیٹ بھرنے کے لیے مناسب غذا ، استعمال کے لیے صاف پانی اور مناسب لباس ۔ اس کے علاوہ سب کچھ احمقانہ باتیں ہیں جنہیں پوری دنیا کو غلام بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔

بے شک سونا ، چاندی یا تانبہ تخلیق نہیں کیا جاسکتا مگر محنت کرکے اچھی فصل پیدا کی جاسکتی ہے جو اصل دولت ہے ۔ اسی طرح دیگر چیزوں کی مثال ہے ۔ یعنی دولت محنت سے تخلیق ہوتی ہے اور محنت کرنے والے مزدور ہی ہمیشہ دولت کے تخلیق کار رہے ہیں ۔ مگر موجودہ دور میں دولت سے جو بھی کوئی چیز خریدتا ہے ، اُ س پر محنت کوئی اور کرچکا ہوتا ہے ۔ مزدور یا کسان کے لیے دولت ان کی خون پسینے کی کمائی ہے مگر کاغذی کرنسی چھاپنے میں کوئی محنت صَرف نہیں ہوتی اور کرنسی نوٹ چھاپنے والے کو مزدور یا کسان کی یہ دولت بِلا کسی محنت کے حاصل ہو جاتی ہے ۔ اسی لیے کاغذی کرنسی کو ہوا سے دولت تخلیق کرنا کہا جاتا ہے اور اصطلاحا اسے Fiat Currency کہا جاتا ہے ۔ یعنی بینک جو دولت قرض کے طور پر دیتے ہیں ، اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا ۔ بینکوں کے ذریعے دولت کی اس تخلیق کے عمل کو Fractional Reserve Banking کہا جاتا ہے ۔

اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو کاغذی کرنسی کی تخلیق سے قبل دنیا میں خوشحال اور غریب ممالک کی تقسیم آج کے دور سے یکسر مختلف تھی ۔ متحدہ ہندوستان آج سے ڈھائی تین سو برسوں پہلے تک دنیا کے خوشحال ترین ممالک میں سب سے اوپر تھا کہ یہاں پر قابل کاشت زمین وافر مقدار میں موجود تھی ، ہر طرح کا موسم تھا جس سے متنوع زرعی پیداوار خطیر مقدار میں موجود تھی اور محنت کرنے والے ہاتھ بھی موجود تھے ۔ جس کی وجہ سے یہاں پر دولت تخلیق ہورہی تھی اور دیگر ممالک سے تاجر سونا اور چاندی لے کر یہاں آتے اور یہاں کی مصنوعات اور اجناس لے کر اپنے اپنے ملکوں کو جاتے ۔ یوں پوری دنیا سے سونا اور چاندی متحدہ ہندوستان میں مرتکز ہورہا تھا ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال چین کی بھی تھی ۔ ارجنٹائن جہاں پر ہندوستان اور چین کی طرح زرعی پیداوار تو خوب نہ تھی مگر وہاں پر چاندی کی کانیں خوب موجود تھیں ۔ لاطینی زبان میں چاندی کو Argentum کہتے ہیں اور اسی بناء پر اس کا نام ارجنٹائن ہے۔ ایک وقت تھا کہ ارجنٹائن کا شمار دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل تھا ۔ اسی طرح شام ، مصر اور شمالی افریقا کے دیگر ممالک کا شمار امیر ترین ممالک میں ہوتا تھا ۔ پھر کاغذی کرنسی کا دور آیا ۔ کاغذی کرنسی کو کنٹرول کرنے والے بینکار چونکہ یورپ اور امریکا میں بیٹھے ہوئے تھے ، اس لیے حقیقی دولت پیدا کرنے والے ممالک بدحال ہوتے چلے گئے اور وہ ملک جہاں پر کچھ بھی پیدا نہیں ہوتا تھا ، وہ خوشحال ہوتے چلے گئے ۔ دولت کی بناء پر انہوں نے ایشیا اور افریقا کے ذہین ترین افراد کو اپنے ملک میں منتقل کرنا شروع کردیا جسے عرف عام میں brain drain کہا جاتا ہے ۔ اور یوں ان ممالک میں ایجادات کا ایک سلسلہ بھی شروع ہوگیا ۔

مارکو پولو نے چین میں جاری کاغذی کرنسی کے بارے میں لکھا تھا کہ چین کی سلطنت کے بہترین خاندان تباہ و برباد ہوگئے ہیں اور عوام کے معاملات کو کنٹرول کرنے والے نئے لوگ آگئے ہیں اور ملک قتل و غارتگری اور انتشار کا شکار ہوگیا ہے ۔

کاغذی کرنسی کو دھاتی کرنسی سے تبدیل کرنے کے لیے قانونی کرنسی (legal Tender ) کے قوانین بنائے گئے، یہ درحقیقت price control کی ابتدا تھی ۔ یعنی ٹکسالوں پر اجارہ داری (Mintage monopoly ) قائم کی گئی۔ اس طرح کرنسی پر سے عوام کا عمل دخل ختم ہوگیا ۔ یونٹ آف اکاؤنٹ (Unit of account ) اختیار کیا گیا یعنی سکوں کے وزن کے بجائے ایک نام ( ڈالر، ریال ، پاؤنڈ ) کو معیار مقرر کیا گیا ۔
ابتدا میں دیگر دھاتوں کو ترک کرکے دو دھاتی نظام نافذ کیا گیا ۔ یعنی متوازی نظام کے بجائے ان کی نسبت مقرر کی گئی ۔ مقرر نسبت ناکام ہونے پر گولڈ اسٹینڈرڈ اپنایا گیا اور چاندی ترک کردی گئی۔ ساتھ ہی کاغذی رسید کو معروف کردیا گیا ۔ بعدازاں سونے کو بھی ترک کردیا گیا یعنی رسید کے بدلے سونا واپس کرنا (convertibility ) کو ختم کردیا گیا اور کاغذی رسید ہی کرنسی کہلائی ۔

فی ایٹ کرنسی یا کاغذی کرنسی کی وجہ سے ہمیشہ کرنسی کی قوت خرید گرتی ہے جس سے مہنگائی اور غربت جنم لیتی ہے ۔ اگرچہ حکومت مہنگائی کا الزام منافع خور تاجروں پر ڈالتی ہے مگر مہنگائی کی اصل وجہ کاغذی کرنسی پیدا کرنے والے بینکار ہوتے ہیں ۔ ایک بات اور دیکھنے کی ہے کہ فی ایٹ کرنسی کی وجہ سے صرف عوام ہی قرضدار نہیں ہوتے بلکہ ان سے زیادہ حکومتیں قرضدار ہوتی ہیں ۔ آج کے دور میں دیکھیے تو امریکا ، برطانیہ ، چین جاپان سمیت کون سی حکومت ہے جو بھاری قرض تلے دبی ہوئی نہیں ہے ۔

کاغذی کرنسی کے ذریعے کس طرح انسانوں کو کنٹرول کیا گیا ، آزاد قوموں کو غلام بنانے کے لیے کون سے حربے آزمائے گئے اور اب ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے کس طرح انسانوں کی اس جزوی غلامی کو مکمل غلامی میں تبدیل کیا جارہا ہے ۔ اس پر مزید گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایل عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔
[12:27 PM, 1/22/2026] KHABRAIN :

پچھلی پوسٹ

پندرہ فروری تک بلدیاتی قانون واپس نہ لیا گیا تو پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ کا اعلان کریں گے، حافظ نعیم الرحمن

اگلی پوسٹ

زیورخ:وزیراعظم محمد شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
زیورخ:وزیراعظم محمد شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

زیورخ:وزیراعظم محمد شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper