کاروبار اور وسائل پر اجارہ داری کی جنگ ہمیشہ سے ہے ۔ بات وہاں پر خطرناک ہوجاتی ہے جب اس میں خوں ریزی شامل ہوجائے ۔ ہم آج پھر اٹھارویں اور انیسویں صدی کے اُس دور میں واپس پہنچ گئے ہیں جب ولندیزی، ہسپانوی اور برطانوی ملٹی نیشنل کمپنیاں دنیا کے وسائل پر قبضے کی جنگ لڑ رہی تھیں ۔ایک وقت آیا تھا کہ ان کمپنیوں کے مالکان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ آپس میں لڑنے سے انہیں ہی نقصان ہوگا ۔ اس لیے انہوں نے آپس میں دنیا کا بٹوارا کرلیا تھا ۔ اس بٹوارے میں کیک کا بڑا حصہ روتھس شیلڈ کے حصے میں آیا تھا ۔ اس کے بعد وسائل پر قبضے کی یہ جنگ دوبارہ بیسویں صدی کے شروع میں لڑی گئی ۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم برپا کی گئیں ، ان دونوں جنگوں کے درمیان 1929 کی عظیم کساد بازاری بھی پیدا کی گئی ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دوبارہ بٹوارا ہوا۔ اس بٹوارے میں کچھ پرانے کھلاڑی میدان سے باہر ہوگئے اور کچھ نئے حصہ دار سامنے آئے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہونے والے بٹوارے کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس میں آقاؤں کی درجہ بندی بھی کی گئی تھی ۔ جس طرح سے کرکٹ بورڈ اب تمام کھلاڑیوں کو یکساں معاوضہ نہیں دیتا بلکہ اب سینٹرل کنٹریکٹ پر دستخط ہوتے ہیں اور کھلاڑیوں کو معاوضہ حصہ بقدر جثہ کے مطابق ملتا ہے ۔ کچھ یہی صورتحال بیسویں صدی کے آغاز سے لے کر دوسری جنگ عظیم کے بعد تک کی مدت میں سامنے آئی یعنی مرکزی بینک وجود میں لائے گئے ، ان مرکزی بینکوں کو فیڈرل ریزرو بینک آف
امریکا کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا اور فیڈرل ریزرو بینک آف امریکا کو بینک آف انگلینڈ کے ذریعے ۔ پھر بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ممالک کے درمیان ادائیگی کو کنٹرول کرنے کے لیے سوئفٹ کا نظام متعارف کروایا گیا ۔ یہ سب روتھس شیلڈ اور اس کے شراکت داروں کے تحت تھا تو یوں یہ درجہ اول کے کھلاڑی قرار پائے ۔ پھر کسی کو سونے ، کسی کو کسی اور دھات پر اجارہ داری دی گئی تو کسی کو ادویات سازی پر ، کسی کو پٹرولیم پر ، کسی کو بحری جہاز رانی پر ، کسی کو کیڑے مار ادویات پر تو کسی کو کھاد پر اجارہ داری دی گئی وغیرہ وغیرہ ۔ اور یوں پوری دنیا نے نئے آقاؤں کے تحت زندگی شروع کردی ۔ دیکھنے میں امریکی اور یورپی ممالک کے شہری آزاد تھے مگر عملی طور پر پوری دنیا میں صورتحال یکساں ہی تھی ۔
اب پھر سے بٹوارے کی نئی جنگ ہے ۔ وینزویلا دنیا میں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر رکھتا ہے ، دنیا میں موجود لیتھیم کا 60 فیصد ارجنٹائن ، بولیویا اور چلی کے مثلث میں پایا جاتا ہے ۔ اسی خطہ میں تانبہ اور سونے کے ذخائر بھی موجود ہیں ۔ اسی خطہ میں امیزون کے جنگلات بھی ہیں جنہیں دنیا کے پھیپھڑے کہا جا تا ہے اور اسی خطہ میں تازہ پانی کے دنیا کے 31 فیصد ذخائر موجود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا کے آقاؤں کی realignment ہو رہی ہے ۔ جب شیر بوڑھا ہو جاتا ہے تو نیا جوان شیر اسے للکارتا ہے اور پھر بوڑھے شیر کی نہ صرف راجدھانی نوجوان شیر کے قبضے میں آجاتی ہے بلکہ اس کا حرم بھی ۔ کچھ ایسا ہی انسانی بادشاہت کے کھیل میں بھی ہوتا ہے ۔ پرانے بادشاہ رخصت ہوں گے اور نئے بادشاہ کمان سنبھالیں گے ۔ یہ بات پھر سے سمجھ لیں کہ یہ امریکا ، روس یا چین کی جنگ نہیں ہے بلکہ ان ممالک میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جنگ ہے ۔ اس سے ان ممالک کے عوام یا سیاست دانوں کا کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ البتہ ان ممالک کے حکمراں ضرور ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہرکارے کے طور پر کام کرتے ہیں ۔
رہی یہ بات کہ جس طرح سے مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرکے نیویارک پہنچایا گیا ، یہ سب کچھ امریکا اور دنیا دونوں کے لیے نیا نہیں ۔ پانامہ کے جنرل نوریگا نے امریکا کو للکارا تھا اور اسی طرح انہیں جنوری 1990 میں اغوا کرکے امریکی ریاست میامی پہنچا دیا تھا ۔ نوریگا پر بھی یہی فرد جرم عاید کی گئی تھی جو مادورو پر عاید کی جارہی ہے ۔ نوریگا کو 40 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ بعد ازاں اچھے چال چلن کی بنیاد پر نوریگا کی سزا میں سے 17 برس کی تخفیف کردی گئی ۔ نوریگا کو 2010 میں فرانس منتقل کردیا گیا جہاں پر اسے منی لانڈرنگ کے الزامات پر سنائی گئی سزا کے سات برس قید میں گزارنے تھے مگر فرانس نے نوریگا کو 2011 میں ہی ملک بدر کرکے پانامہ منتقل کردیا جہاں پر وہ اپنی موت تک نظربند رہا ا ور 2017 میں نوریگا کی موت برین ٹیومر کے سبب ہوگئی ۔ عدالت میں سماعت سے قبل نوریگا پر ایک الزام یہ بھی آیا تھا کہ وہ سی آئی اے ایجنٹ تھا اور اس نے سی آئی اے اور امریکا سے 3 لاکھ 22 ہزار ڈالر وصول کیے تھے ۔ سماعت کے دوران نوریگا نے کہا کہ درحقیقت اس نے سی آئی سے ایک کروڑ ڈالر لیے تھے اور اسے یہ بتانے کی اجازت دی جائے کہ اس نے اس بھاری رقم کے بدلے سی آئی اے کے لیے کیا خدمات سرانجام دیں ۔ تاہم عدالت نے یہ کہہ کر نوریگا کو اس موضوع پر بات کرنے سے روک دیا کہ اس کا نوریگا پر لگائے گئے الزامات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ امریکا میں انصاف کی صورتحال اور آزاد عدالتی نظام کو ڈاکٹر عافیہ کیس سے بہ خوبی سمجھا جا سکتا ہے ۔
رہی یہ بات کہ وینزویلا روس کا اتحادی تھا ، یہاں پر چین کے بھی مفادات تھے تو یہ سب کیا کررہے تھے اور اب کیا کررہے ہیں ۔ اس کا آسان ترین جواب یہی ہے کہ یہاں پر پھر سے اسی طرح کی بندر بانٹ ہورہی ہے جس طرح سے دوسری جنگ عظیم کے بعد ہوئی تھی ۔ ایسے میں کسی پیادے کی قربانی سے کچھ نہیں ہوتا ۔یہ سب کرنے سے پہلے روس اور چین دونوں کو مطلع کردیا گیا تھا ۔ اب روس اور چین کی کسی اور طرح تلافی کردی جائے گی ۔ ویسے وینزویلا ایک آزاد ملک تھا جس پر امریکا کا
کوئی جغرافیائی دعویٰ نہیں تھا جبکہ تائیوان پر چین کا اور یوکرین پر روس کا جغرافیائی دعویٰ موجود ہے ۔ اگر یہی حرکت چین تائیوان میں اور روس یوکرین میں کرے تو اب کسی کو کیا اعتراض ہوگا سوائے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کے ۔ روس اور چین تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ہی ملک میں کارروائی کی ہے ۔ اور پھر عدالت کے ذریعے ویسے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کرلیے جائیں گے جس طرح سے امریکا نے ڈاکٹر عافیہ کیس اور نوریگا کیس میں حاصل کیے ۔ مادورو نہ تو پہلا کیس ہے اور نہ آخری ۔ ابھی اس طرح کے کلائمکس اور آئیں گے ۔ پہلے دنیا میں دسیوں برس میں کوئی تبدیلی آتی تھی ، پھر یہ تبدیلی ہر برس آنے لگی اور اب تو یہ معاملات مہینوں اور ہفتوں تک جا پہنچے ہیں ۔پاکستان میں جین زی کو اچانک بیدار کیا جا رہا ہے ۔ کیوں ؟ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار با ش۔


