پاکستانی معاشرہ ہمیشہ سے ستاروں، پیش گوئیوں اور غیب کی باتوں پر خاصی دلچسپی رکھتا ہے ، جب حالات مشکل ہوں، معیشت دباؤ میں ہو،سیاست انتشار کا شکار ہو اور عوام ذہنی تھکن میں مبتلا ہوں تو ایسے میں نجومیوں کی باتیں ، زائچے ، اور پیش گوئیاں ایک عجیب سی تسکین فراہم کرتی ہیں، انہیں حالات میں مصروف محترمہ سامعہ خان کی ستاروں پر کنند 2026 کے حوالے سے ان کی خوش گمان پیش گوئیاں عوامی گفتگو کا موضوع بنی ہوئی ہیں، ان پیش گوئیوں کے سائے میں ایک جملہ بار بار زبان پر آتا ہے، کہ اللہ لاج رکھے، سامعہ خان کا کہنا ہے کہ 2026 پاکستان کے لیے تبدیلی ،سنبھلا اور نئے امکانات کا سال ثابت ہو سکتا ہے، اُن کے مطابق ستاروں کی چال اس بات کی غماز ہے کہ سیاسی تھی میں کمی ، معاشی سمت میں بہتری اور عالمی سطح پر پاکستان کے لیے نسبتاً ساز گار فضا پیدا ہونے کے امکانات ہیں ، ایک ایسی قوم کے لیے جو کئی برسوں سے بحران در بحران سامنا کر رہی ہو، یہ باتیں یقیناً اُمید کی شمع روشن کرتی ہیں، مگر عقل یہ کہتی ہے کہ کیا صرف ستاروں پر کمند ڈال لینا کافی ہے، تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا تعلق محض ملکی نقشوں سے نہیں ہوتا اگر ایسا ہوتا تو محنت ، قربانی مدیر اور قیادت جیسے عوامل بے معنی ہو جاتے ستارے اگر اشارہ بھی دیں تو راستہ انسان کوخود بنانا پڑتا ہے،2026 کے حوالے سے خوش گمان ہو نا بری بات نہیں ، مگر خوش فہمی میں مبتلا ہو جانا خطر ناک ضرور ہے، پاکستان اس وقت جن مسائل سے دو چار ہے،وہ کسی ایک سال میں خود بخو دحل نہیں ہو سکتے ، مہنگائی، بے روزگاری، کمزو را دارے،عدم اعتما داور سیاسی عدم استحکام جیسے مسائل برسوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہیں، اگر 2026 واقعی بہتری کا سال بن سکتا ہے تو اس کے لیے پیشین گوئیوں سے زیادہ قومیعندم و عمل کی ضرورت ہے، ستارے راستہ دکھا سکتے ہیں مگر چلنا ہمیں خود ہو گا، اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، نجوم کو حتمی ہے مان لیا نہ دینی طور پر درست ہے اور نہ نقلی طور پر، ہاں انسان فطری طور ہر امید کا سہار ا ضرور لیتا ہے، یہی اُمید اگر دعا اور عمل کے ساتھ جڑ جائے تو مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے ،اس لیے عوام کا اجتماعیدعا ئیہ الفاظ ہے کہ “اللہ لاج رکھے “، اور ایک خاموش فریاد بھی ، پیشین گوئیاں اگر یہ احساس دلا دے کہ مایوسی میں ڈوبے رہنے کی بجائے آگے دیکھنا چاہیے تو ان کا مثبت پہلو ہے ، مگر اگر ہم نے یہ سوچ لیا کہ ستارے سب کچھ اپنی چال سے ٹھیک کر دیں گے تو یہ سوچ ہمیں مزید کمزور کر دے گی ، تاریخ ایسے معاشروں سے بھر پڑی ہے جو خوش کن پیشین گوئیوں کے سہارے بیٹھ گئے اور وقت ہاتھ سے نکل گیا، پاکستان کے نو جوان اس پوری صورت حال میں سب سے اہم کردارا دا کر سکتے ہیں اگر تعلیم، ہنر اور دیانت داری کو اپنا شعار بنا لیں تو 2026 ہی نہیں آنے والی کئی دہائیاں بہتر بن سکتی ہیں قوموں کی تقدیر نسل کے ہاتھ میں ہوتی ہے نہ کہ ستاروں کی گردش میں ، آخر کار بات وہیں آکر رکتی ہے، جہاں ایمان اور عقل ایک دوسرے سے ملتے ہیں ،اُمید رکھنا ضروری ہے، دعا کرنالازم ہے، مگر اس کے ساتھ محنت اور جد و جہد شرط اول ہےاگر 2026 کےستارے واقعی پاکستان کے حق میں ہیں تو اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں ، اور نہ مواقع تو ماضی میں بھی آئے ،مگر ہم نے اپنی غفلت سے انہیں گنوادیا، اس لیے 2026 میں ستارہ شناسوں کی ستاروں پر کمند اپنی جگہ ، اصل کمند ہمیں اپنے حالات پر ڈالنی ہوگی نیست، عمل اور اجتماعی شعور کو بدلنا ہو گا، باقی سب باتوں کے بعد دل کی گہرائی سے نکلنے والی صدارہ جاتی ہے جو اس قوم کا سرمایہ ہے ” اللہ لاج رکھے “

