دنیا جیسے ہی 2026 میں داخل ہو رہی ہے، عالمی سیاست تیزی سے بدلتے ہوئے طاقت کے توازن، ٹیکنالوجی کے مقابلے اور نئی معاشی صف بندیوں کے زیر اثر ہے۔ ایسے ماحول میں امریکہ کی قومی سلامتی سے متعلق حکمتِ عملی نہ صرف واشنگٹن کی ترجیحات کو واضح کرتی ہے بلکہ اس بات کا بھی عندیہ دیتی ہے کہ عالمی نظام کس سمت آگے بڑھ رہا ہے۔ اس نئے منظرنامے میں بھارت امریکی نقطۂ نظر میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر ابھرتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ پاکستان کو زیادہ تر جوہری استحکام، بحرانوں کے انتظام اور انسدادِ دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی کسی جذباتی یا نظریاتی بنیاد پر نہیں بلکہ عالمی طاقت کی سیاست، امریکہ چین مقابلے، بھارت کی بڑھتی ہوئی معیشت اور افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد بدلی ہوئی ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کے لیے اس صورت حال کا تقاضا تصادم نہیں بلکہ دانشمندانہ موافقت ہے۔پاکستان کے لیے یہ بدلتی دنیا خطرہ بھی ہے اور سبق بھی۔ بھارت کو ٹیکنالوجی، تجارت، سمندری سلامتی اور خطے کی جغرافیائی معیشت میں مستقبل ساز ریاست کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کا کردار زیادہ تر اس وقت یاد آتا ہے جب کسی بحران کو سنبھالنے یا کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت ہو۔ اس حقیقت سے آنکھیں بند کرنے سے حقیقت نہیں بدلتی — اسے تسلیم کرنا ہی قومی ردِعمل کے لیے پہلا قدم ہے۔ اس کا ایک اہم اثر یہ ہے کہ بھارت کی جدید ٹیکنالوجی، سائبر صلاحیتوں، خلائی نظام، ڈرونز اور دفاعی شراکت داریوں تک رسائی خطے میں روایتی توازن کو مزید بدل سکتی ہے۔ معاشی اصلاحات کے بغیر پاکستان کی سفارتی گنجائش بھی سکڑ سکتی ہے، اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانا مستقبل میں ایک اسٹریٹجک کمزوری بن سکتا ہے۔ ساتھ ہی، امریکہ اور بھارت کی قربت پاکستان کے لیے چین کے ساتھ تعلقات کو مزید حساس بنا دیتی ہے—جسے تدبر اور توازن سے سنبھالنے کی ضرورت ہے، نہ کہ کسی ایک بلاک سے مکمل وابستگی کے ذریعے۔
اسی لیے 2026 پاکستان کے لیے بالغ اور سنجیدہ حکمتِ عملی کا سال ہونا چاہیے۔ قومی سلامتی اب محض عسکری طاقت پر نہیں ٹکتی۔ اس کی بنیاد معیشت کی مضبوطی، اداروں کی ساکھ، ذمہ دار سفارت کاری اور ٹیکنالوجی کی تیاری پر ہے۔ خارجہ پالیسی کو جذبات کے بجائے مفادات کے تابع ہونا ہوگا۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کا مطلب انحصار نہیں، بلکہ انسدادِ دہشت گردی، موسمیاتی چیلنجز، تعلیم، تجارت اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں حقیقت پسندانہ تعاون ہونا چاہیے۔ اسی کے ساتھ چین کے ساتھ شراکت اہم رہے گی، مگر پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، آسیان ممالک، افریقہ اور یورپ کے ساتھ بھی اپنی معاشی اور تعلیمی روابط بڑھانے ہوں گے، تاکہ تعلقات محض سیکیورٹی پر نہیں بلکہ منڈی، توانائی، زراعت اور صنعت پر استوار ہوں۔
اصل قوت معاشی خودمختاری ہے۔ جب تک ٹیکس نیٹ وسیع نہیں ہوگا، سرکاری ادارے اصلاحات سے نہیں گزریں گے، برآمدات مسابقتی نہیں بنیں گی اور توانائی پالیسی مستحکم نہیں ہوگی — کوئی بھی قومی بیانیہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ دفاعی شعبہ بھی صرف روایتی ہتھیاروں کے انبار کے بجائے مقامی پیداوار، سائبر اور خلائی تحفظ، ڈرون اور کاؤنٹر ڈرون نظام، درست نشانہ بنانے والی صلاحیت اور ذمہ دار تحقیق پر منتقل ہونا چاہیے۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ بات چیت کے منظم طریقہ کار کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے — یہ دراصل جنگ کے خطرے کو کم کرنے کی ذمہ دار ریاستی سوچ ہے۔ سرحدی اعتماد سازی، انسانی بنیادوں پر رابطے، محدود تجارتی کھڑکیاں اور پسِ پردہ رابطے بحرانوں کو ٹھنڈا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ پاکستان کو اپنا عالمی بیانیہ بھی ازسرِنو تشکیل دینا ہوگا۔ دنیا کے سامنے خود کو ایک ذمہ دار جوہری ریاست، تعمیری علاقائی شراکت دار، امن مشنز کا قابلِ اعتماد حصہ، تجارت و رابطہ کا کوریڈور اور دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ قوت کے طور پر پیش کرنا ناگزیر ہے۔ آج کے دور میں تاثر ہی پالیسی کو شکل دیتا ہے — اور یہی تاثر قومی سلامتی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
امریکی حکمتِ عملی کا موجودہ رجحان بظاہر بھارت کے حق میں دکھائی دیتا ہے، مگر پاکستان کو اس سے باہر نہیں دھکیلا جا رہا۔ دنیا اب اہمیت کو نئے پیمانوں سے تولتی ہے — جو ممالک جدت لاتے ہیں، اپنی معیشت سنبھالتے ہیں، پیش بینی کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں اور اپنی آبادی میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، وہی وزن حاصل کرتے ہیں۔ 2026 میں پاکستان کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ ہم دوسروں کی نظر سے خود کو دیکھتے رہیں گے، یا اصلاحات کے ذریعے اپنی حقیقت بہتر بنائیں گے۔ راستہ واضح ہے: جذبات کے بجائے حقیقت پسندی، وقتی ردِعمل کے بجائے ادارہ جاتی نظم، اور ایسی طویل المدتی سوچ جو معیشت، سکیورٹی، سفارت کاری اور ٹیکنالوجی — سب کو ایک متحد قومی حکمتِ عملی میں جوڑ دے۔ اگر پاکستان اس سمت بڑھتا ہے تو وہ بدلتی دنیا کے مطابق ڈھلنے کے بجائے اپنی جگہ خود بنا سکتا ہے اور مستقبل میں باوقار کردار ادا کر سکتا ہے۔

