• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

اسماعیل ہانیہ کی پاسداران انقلاب کے قلب میں شہادت کا معمہ

نصرت جاوید

Mian Tariq Javeed by Mian Tariq Javeed
اگست 3, 2024
in کالمز
0
اسماعیل ہانیہ کی پاسداران انقلاب کے قلب میں شہادت کا معمہ
0
SHARES
4
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

عقل کا ضرورت سے زیادہ غلام ہوتے ہوئے سازشی تھیوریوں سے مجھے شدید الجھن ہوتی ہے۔ کبھی کبھار مگر کچھ ایسے واقعات ہوجاتے ہیں جن پر غور کرتے ہوئے "سازش” ڈھونڈنے کو مجبور ہوجاتا ہوں۔ بدھ کی صبح سے بھی ایسی ہی الجھن میں مبتلا ہوں۔ اسرائیل نے جارحانہ دیدہ دلیری سے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو ایران کے دارالحکومت کے ایک "محفوظ ترین” ریسٹ ہاٶس میں منگل اور بدھ کی درمیانی رات ایک جدید تر میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا۔ جس ریسٹ ہاٶس کو اسرائیلی میزائل نے نشانہ بنایا وہ "پاسدارانِ انقلاب” کے زیر انتظام ہے۔

پاسداران ایران ہی نہیں بلکہ عراق، لبنان، شام اور یمن کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں بھی اپنی "نظریاتی ریاست”کوہر اعتبار سے ناقابل تسخیر بنانے کی کاوشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ دیگر ممالک میں موجود حلیفوں کی بدولت ایران لبنان کے ساحل سے خلیج عرب تک پھیلے وسیع وعریض خطے کے حوالے سے سیاسی ہی نہیں فوجی اعتبار سے بھی طاقتور ترین ملک تصور ہوتا ہے۔ اس تناظر میں ایران نے جو اہمیت منوائی اسے اجاگر وبرقرار رکھنے میں پاسداران نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حماس کے سربراہ کی شہادت کے ذریعے اسرائیل نے درحقیقت پاسداران کے قلب تک اپنی رسائی ثابت کی ہے۔ اس کے زیر انتظام ریسٹ ہاٶس میں ہوا قتل پاسداران کے لئے اس تناظر میں نہایت خجالت وشرمندگی کا باعث ہے۔

اس امر پر غور کرتے ہوئے ذہن میں فطری طورپرسوال یہ اٹھتا کہ اگر اسرائیل واقعتا فقط اسماعیل ہنیہ ہی کی جان کے درپے تھا تو انہیں نشانہ بنانے کے لئے قطر پر توجہ کیوں نہیں دی گئی۔ حماس کے سربراہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ملک میں پناہ گزین تھے۔ ان کی وہاں قیام گاہ کا پتہ لگانا ناممکن نہیں تھا۔ وہاں مقیم ہوئے وہ اکثر غیر ملکی رہ نماٶں اور صحافیوں سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔ ایران میں پاسداران کے مرکز تک رسائی کے حامل اسرائیل کو یقینا قطر میں بھی ان کے ٹھکانوں کا بخوبی علم ہوگا۔ حماس کے سربراہ کو مگر قطر میں نشانہ بنانے سے گریز سے کام لیا گیا۔

بنیادی وجہ مذکورہ گریز کی یہ ہوسکتی ہے کہ قطر کی بدولت اسرائیل ہی نہیں بلکہ اس کے امریکہ جیسے دوست بھی وہاں مقیم اسماعیل ہنیہ سے مذاکرات کے لئے روابط استوار کرتے تھے۔ گزشتہ کئی دنوں سے امریکہ مصر کی مدد کے ذریعے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جاری جنگ میں”وقفے” کی کوشش کررہا تھا۔ خفیہ مذاکرات کے ذریعے اسرائیل کو اس امر پر مائل کیا جارہا تھا کہ وہ جنگ بندی کے وقفے کے دوران اسرائیل کی جیلوں میں قید حماس کے سرگرم کارکنوں کو ان یرغمالیوں کے بدلے رہا کردے جو 7 اکتوبر 2023ء کے روز حماس نے اسرائیل کے اندر گھس کر گرفتار کئے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ بندی کے دوران غزہ کی پٹی میں خوردونوش کی اشیاء کے علاوہ ادویات کی فراہمی کے منصوبے بھی تھے۔ امید یہ بھی باندھی جارہی تھی کہ اگر عارضی جنگ بندی کا عرصہ طویل ہوجائے تو معاملات کامل جنگ بندی کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

گزرے اتوار کے دن تک اسرائیل مختصر جنگ بندی کے حصول کی خاطر ہوئے مذاکرات میں حصہ لے رہا تھا۔ حالیہ مذاکرات اٹلی کے شہر روم میں ہورہے تھے۔ ان کی معاونت کیلئے امریکی سی آئی اے کا سربراہ بھی اس شہر میں موجود تھا۔ سوال اٹھتا ہے کہ مذکورہ مذاکرات کے ہوتے ہوئے بھی اسرائیل نے حماس کے سربراہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ہوئے میں اس حقیقت کو اپنے ذہن سے نکال نہیں پایا ہوں کہ 24جولائی کے دن اسرائیل کے وزیر اعظم نے امریکی پارلیمان سے خطاب کیا تھا۔ بائیڈن حکومت کے رویے سے وہ مطمئین نہیں۔ ٹرمپ کو اپنا دوست شمار کرتا ہے۔ اسے امید تھی کہ اگر بائیڈن نومبر کے صدارتی انتخاب میں امیدوار کی صورت میدان میں کھڑا رہا تو اس کا یار ٹرمپ بآسانی جیت جائے گا۔

بائیڈن نے مگر صدارتی انتخاب کی ریس میں حصہ نہ لینے کا اعلان کردیا۔ اس کی جگہ کملاہیرس ٹرمپ کے مقابلے میں طاقتور امیدوار کی صورت ابھرتی نظر آئی۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے قیام امریکہ کے دوران اس نے غزہ میں جاری خونریزی کے بارے میں بھی فکرمندی کا اظہار کیا۔ محتاط زبان میں ہوا یہ اظہار بھی تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کو پسند نہ آیا۔ وہ غالباََ یہ سوچنے کو مجبور ہوا کہ اگر ہیرس ٹرمپ کو شکست دے کر وائٹ ہاٶس پہنچ گئی تو امریکہ اسرائیل کے ہر جارحانہ اقدام کا غیر مشروط انداز میں دفاع نہیں کرپائے گا۔

تہران میں پاسداران کے مرکز میں قائم ایک ریسٹ ہاٶس کو جدید ترین میزائل کی زد میں لاکر اسماعیل ہنیہ کی ٹارگٹ کلنگ کا حتمی مقصد لہٰذا حماس کے سربراہ کا قتل ہی نظر نہیں آرہا۔ اس کا واضح مقصد ایران کو اشتعال دلانا بھی ہے۔ ایران اپنے دارالحکومت میں نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری کے چند گھنٹوں بعد ایک "محفوظ ترین” ریسٹ ہاٶس میں ہوئے قتل کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ حماس کے سربراہ کی شہادت کے بعد وہ دنیا کو یہ دکھانے کو مجبو رہے کہ ایران اپنے دشمنوں کی ہر جارحانہ پیش قدمی کا فقط لفاظی سے نہیں بلکہ جدید ترین ہتھیاروں کی مدد سے بھی خاطر خواہ جواب دے سکتا ہے۔

مختصراََ حماس کے سربراہ کی تہران میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اسرائیل نے ایران کو کھلی جنگ کا چیلنج دیا ہے۔ ایران اس پر آمادہ ہوگیا تو امریکہ غیر جانب داری دکھانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس تناظر میں اگر کملا ہیرس نے تھوڑی نرمی دکھائی تو انتہائی ڈھٹائی سے اسرائیل کی ہر جارحیت کا دفاع کرتا ٹرمپ صدارتی انتخاب بآسانی جیت جائے گا۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے ہوئے ایٹمی معاہدے کو یک طرفہ طورپر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔ ایران سے تعلقات معمول پر لانے کی کاوشوں کو رعونت سے نظرانداز کرتے ہوئے اس نے طاقتور عرب ملکوں سے تعلقات کو مضبوط تر بنانے پر توجہ دی۔ اس کی کوشش ہی سے چند عرب ملک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کو آمادہ ہوئے۔ سعودی عرب نے مگر اس ضمن میں عجلت نہ دکھائی۔

دریں اثناء ٹرمپ کی معیادِ صدارت ختم ہوگئی اور بائیڈن انتظامیہ بعداز کرونا معاشی مسائل سے نبردآزما ہونے اور روس۔یوکرین جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی تگ ودو میں مصروف ہوگئی۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ آئندہ صدارتی انتخاب سے قبل ایران کو اس کے ساتھ کھلی اور بھرپور جنگ کو اْکسایا جائے تاکہ ٹرمپ اور ہیرس واضح الفاظ میں اعلان کرسکیں کہ وہ ممکنہ جنگ میں کس کے ساتھ ہیں؟

پچھلی پوسٹ

اگست 2019 کے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے سنگین نتائج کے بارے میں سفارتکاروں کو بریفنگ

اگلی پوسٹ

تحریک آزادی میں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،مشعال ملک

Mian Tariq Javeed

Mian Tariq Javeed

Next Post
تحریک آزادی میں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،مشعال ملک

تحریک آزادی میں کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،مشعال ملک

Please login to join discussion

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper