کافی سالوں سے مجھے اب یہ سننے کو۔ملتا ہے کہ“تم بے حس ہو گئی ہو۔ تمہیں کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا۔”
اور میں کہہ دیتی ہوں، ہاں ، ہو گئی ہوں میں ایسی ہی ، ایسا ہی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں اب بہت سی باتیں اپنے قریب ترین لوگوں کو بھی نہیں بتاتی، اور اس کی صرف ایک وجہ ہے۔ جن چیزوں کو آپ بدل نہیں سکتے، ان کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ اور جن کا کچھ نہیں ہو سکتا، ان پر آپ کچھ بھی کر لیں، کچھ نہیں ہوتا۔ تو انہیں بتا کر، شور مچا کر، تماشا لگا کر آپ نہ صرف اپنا بلکہ دوسروں کا وقت بھی ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔اپنی بات کروں تو میں بہت شکر گزار ہوں۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں میں خوش قسمت ہوں، اور میں مانتی بھی ہوں۔ ہاں البتہ میں نے اپنی زندگی کو ایک جنگ کی طرح لڑا ہے، یہ بھی اتنا ہی سچ ہے۔ لیکن بہت جوانی میں ہی کچھ ایسے سبق سیکھ لیئے تھے جنہوں نے بہت کچھ وقت سے پہلے ہی سکھا دیا۔ جیسے یہ کہ جو ہونا ہے، وہ ہو کر ہی رہنا ہے۔
پیار کی بات کریں تو آپ کسی سے جتنا مرضی پیار کر لیں، اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ کی محبت اسے بدل دے گی، تو یہ جھوٹ ہے۔ خواہ مخواہ کی ٹینشن ہے۔آپ سمجھتے ہیں کہ لوگوں سے تعلق بنائیں گے تو وہ وقت پر کام آئیں گے اور پھر وقت پڑنے پر سب غائب ہو جاتے ہیں ۔ اور پھر میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اگر آپ محنت کرتے ہیں تو اللّٰہ ایسی ایسی جگہوں سے لوگ آپ کی مدد کو بھیج دیتا ہے کہ بات سمجھ سے ہی باہر ہو جاتی ہے۔آپ کو لگتا ہے زیادہ لوگ ہوں گے تو زیادہ ساتھ ہو گا۔ حالانکہ آپ دیکھیں گے کہ زندگی کے سب سے مشکل موڑ پر ایک دو لوگ ہی ساتھ کھڑے ہوں گے۔ کئی بار سگے ماں باپ بھی ساتھ نہیں دے پاتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ برے ہیں۔ مطلب صرف اتنا ہے کہ ایک عمر کے بعد آپ کی زندگی آپ ہی کی ذمہ داری ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر بار آپ کی بے بی سٹنگ کے لیئے کوئی موجود ہو۔اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ کوئی اپنی مشکلوں کا ذکر مجلس میں کرے تب ہی وہ مشکلیں ہوں۔ جب زندگی سب کی ایک ہی پلاٹ پر لکھی گئی ہے کہ مسائل آئیں گے، ہر موجودہ مسئلہ ختم ہونے کے بعد نیا تیار ہو گا، اور ہر بندے نے اپنے حصے کے غم خود جھیلنے ہیں، تو پھر آپ یہ کیسے سوچ لیتے ہیں کہ جس کا دکھ کبھی دکھا نہیں، وہ کبھی تھا ہی نہیں!
فرق بس اتنا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ ان باتوں کا علم بھی رکھتے ہیں اور زبان سے اظہار بھی کرتے ہیں، لیکن ان پر یقین نہیں رکھتے۔ اور پھر اسی پیمانے پر اگلے کو جج بھی کر لیتے ہیں۔ جبکہ میرے اور آپ جیسے جو لوگ ان باتوں کی حقیقت جان جاتے ہیں، وہ چیزوں کو جتنا ممکن ہو اپنے تک ہی رکھتے ہیں۔اسی لیے اگر میں کبھی بہت پریشان ہوں اور مجھے پتا ہو کہ اس مسئلے کا کوئی حل نہیں، تو میں پہلے خود اس پریشر کو ہضم کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ رو کر، چپ رہ کر، یا بہت زیادہ بول کر، کسی نہ کسی طرح کوشش ہوتی ہے کہ نارمل میٹر پر واپس آ جاؤں، تاکہ سچائی مجھے خود نظر آنے لگے۔ کہ کہیں میں اوور تھنکنگ تو نہیں کر رہی، یا شاید کوئی حل نکلتا ہو، وغیرہ وغیرہ۔ خیر اگر بالکل ہی بس ہو جائے تو نارمل ہونے کے بعد اپنے کسی ایک دوست سے بات کر لیتی ہوں کہ یار یہ تو مصیبت ہی بن گئی ہے۔ اور نتیجہ بس یہی نکلتا ہے، اچھا یار دفع کرو، زندگی ہے، مت سوچو، بس۔اور پھر ایک بار پھر یقین ہو جاتا ہے کہ جو سہنا ہے وہ سہنا ہی ہے، اور جو ہونا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔ اور جب زندگی آپ کو بار بار ایسی صورتحال سے گزارتی ہے، تو آپ خود کو صدمے سے بچانے کے لیے ڈسٹریکٹ کرنے لگتے ہیں۔ کئی بار جان بوجھ کر denial میں چلے جاتے ہیں، کیونکہ وہ آسان مرحلہ ہوتا ہے کہ بھئی کچھ ہوا ہی نہیں۔ ایک مضبوط انسان شاید آپ سے زیادہ محسوس کرتا ہو۔ بس اسے پتا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں رونے پیٹنے یا جذبات کے شدید اظہار سے بدلتی نہیں، اس لیئے وہ وقت کے ساتھ خود کو کسی نہ کسی طرح ایسے کھینچ لیتا ہے کہ سب نارمل لگے!
یہ زندگی بس ایسے ہی ہے۔۔وقت کبھی پیچھے نہیں پلٹتا نہ وقت کو پلٹنا آتا ہے وقت تو بس کھسکتا ہے ریت کی طرح پھلستا جاتا ہے اور بآلآخر انسان لقمہء اجلمکا شکار ہو جاتا ہے ۔۔جب یہ طے ہے کہ جو اس دنیا میں آیانہے اس نے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے اور چلے جانا ہے تو پھر کاہے کا شور ، کاہے کا وایلا ۔۔ بس اپنے حصے کا کام اچھے سے کرو
اپنے حصے اور اپنے وجود سے اس دنیا میں خیر تقسیم کریں گو کہ ہم کچھ بدلنے کی طاقت نہیں رکھتے لیکن اپنے پیچھے آنے والوں کے لیئے اپنوں قدموں کو خوشبودار بنا کر بدلاو کے نشانات چھوڑ سکتے ہیں کہ جب ہم نہ رہیں تو ہم سے جڑے لوگوں کےلیئے ہمہارا نام اک فخر کی طرح ہو ۔۔گو کہ ہمہیں فرق نہیں پڑتا کہ پیچھے رہ جانے والے کیا کرتے پھرتے ہیں لیکن کائنات کی بقاء کو فرق پڑتا جس کا ہم حصہ بنتے ہیں۔۔اس لیئے لوگوں کو جج نہ کیا کریں۔ ان کے لیئے دعائیں کیا کریں، خوش رہیں اور خوش رہنے دیں۔۔!

