آج پاکستان کی اشرافیہ اپنا 79 واں ’’جشنِ آزادی‘‘ منا رہی ہے۔ آزادی کے ان لگ بھگ آٹھ عشروں میں ریاست عام آدمی کے لیے دو وقت کے نان و نفقہ کا بندوبست تو نہیں کر سکی، لیکن فاقہ مست عوام کو ’’جشنِ آزادی‘‘ کے ایک رواں، خوش نما تماشے میں ضرور دھکیل دیا ہے۔ اب یہ تماشا دھیرے دھیرے نشہ بنتا جا رہا ہے- ایک محتاط اندازے کے مطابق اس تماشے پر ہر سال کم و بیش 25 ارب روپے لٹا دیے جاتے ہیں۔
درحقیقت ملک میں قومی ترقی کا عالم یہ ہے کہ ہزاروں، لاکھوں بلند و بالا عمارتیں تو بن گئیں، مگر ان چکاچوند عمارتوں کے سائے تلے فٹ پاتھوں پر ہزاروں بھوکے، ناتواں انسان ٹانگوں میں سر دیے بے سدھ پڑے ہیں۔ ’’جشنِ آزادی‘‘ کے نام پر ہونے والے اس پرتعیش ہنگامے سے کچھ دیر کو ہی سہی، اگر ہم چھٹکارا پا لیں تو انہی اربوں روپے سے فٹ پاتھوں پر سسکتی ہوئی بے لباس زندگیوں کے لیے کچھ کیا جا سکتا ہے۔
اتنی خطیر رقم عام آدمی کی سماجی اور تعلیمی بھلائی پر خرچ کرنے کے بجائے بے تحاشا آتش بازی، بینڈ باجوں اور اللّوں تللّوں پر ضائع کر دی جاتی ہے۔ خدا خیر کرے، اس وقت بھی ’’جشنِ آزادی‘‘ کے نام پر گلیوں، سڑکوں اور بازاروں میں ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہے؛ جس پر کچھ لکھنا بھی شاید کارِ عذاب ثابت ہو سکتا ہے- کیا وطن سے محبت کا لازمی ثبوت یہ ہے کہ ہم ہر سال اربوں روپے چند گھنٹوں کی ہنگامہ خیزی، روشنی اور آتش بازی میں جلا دیں؟ یا کسی بھوکے بچے کا پیٹ بھر دینا، کسی پیاسے انسان تک پانی پہنچا دینا اور کسی نادار بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا بھی تو جشنِ آزادی کا نعم البدل ہو سکتا ہے-
آج میں نے پانچ سو اکانوے دن کی مسلسل بے روزگاری، جان لیوا سوگواری اور ہر لمحہ موت کی دہلیز پر دستک دیتی بیماری سے چھٹکارا پا کر اپنے جہان کی زندہ لاشوں کے بارے میں سوچنا شروع کیا تو درد کی ایک لہر میرے پورے وجود میں دوڑ گئی- میرے یار، میرا زمانہ مشکل کی اس گھڑی میں مجھ سے مکمل طور پر گریز پا اور لاتعلق رہاـ آزمائش کی اس بے رحم رت میں چند دوستوں کے سوا کوئی میرے قریب نہیں پھٹکاـ افسردگی کے ان طویل دنوں پر کچھ لکھنے کا ارادہ باندھا تو میرا تہتر سالہ بزرگ محبوب شاعر فینگ شوئے فینگ ( Feng Xui Feng) میرے رو بہ رو آ کھڑا ہوا ہےـ میں نوے کی دہائی میں فینگ شوئے فینگ کے شعری وصف کا بڑا قائل تھا٫ میری طرح زمانے بھر کے محبت اور عسرت کے مارے نوجوان بھی اس کے کلام پر جان چھڑکتے تھے ـ میں نوے کی دہائی میں نوائے وقت کراچی کا میگزین ایڈیٹر تھا تو ہم لوگ اکثر فینگ شوئے فینگ کی نظمیں چینی زبان سے اردو میں چھاپا کرتے تھے، ان تراجم کا اعزاز غالبا مقصود حسنی کو حاصل ہوا کرتا تھا ـ فینگ 1903ء میں چین کے صوبے ژجیانگ کے ایک چھوٹے سے قصبے “پی وو” کے شاداب پیڑوں میں گھرے کچے سے گھروندوں میں جدوجہد کے زمانے میں پیدا ہوا، انقلاب کی چاپوں سے جنم لینے والی سرمست ہواؤں اور فضاؤں نے اس کے قلب ونظر میں علم و ادب کی نیرنگیاں بھر دیں اور وہ کچی عمر ہی میں رومان پرور اور تبدیلی کی خوشبوؤں میں بسے پختہ شعر کہنے لگا٫ جوں جوں چین میں اشتراکیت کی تحریک نے انگڑائی لی، فینگ شوئے فینگ کی شاعری, دانش مندی اور اشتراکی ادب پر نقد و نظر کے قصے نگر نگر پھیلنے لگےـ اس نے عظیم چینی اشتراکیت پسند ادیب لو شون کے ادبی کاموں اور روسی ادب پر بھی خوب کام کیا لیکن میں اسے اس لئے عزیز رکھتا ہوں کہ وہ سچے انسانی جذبوں کا خوگر شاعر تھاـ
نوے کی دہائی میں فینگ شوئے فینگ کی ایک شہرہ آفاق نظم “بدقسمثی” کا ترجمہ نوائے وقت میگزین کے ادبی صفحہ میں شائع ہوا تھا، جو اپنی بھرپور لفظی غنائیت اور احساسی موسیقیت کے سبب آج بھی میرے دل و دماغ میں
محفوظ ہے، مجھے یہ نظم اپنی حقیقی تصنیفی ترتیب کے ساتھ تو یاد نہیں رہی البتہ اس کی تفہیم میری لگ بھگ ایک سال آٹھ ماہ کی بے روز گاری، سوگواری اور بیماری میں مجھ پر جو بیتی اس کی مکمل ترجمانی کرتی ہےـ یاروں دل داروں اور ذمانہ شناسوں کی قدر نا شناسیوں کا مرثیہ فینگ شوئے فینگ کی نظم “بدقسمتی” کی صورت میں پیش کر کے دل اور دماغ کا بوجھ ہلکا کیا جا سکتا ہے – اس حادثے نے مجھے جسمانی اور روحانی طور پر بہت نقصان پہنچایا ہےـ فینگ شوئے فینگ کی نظم کا مفہوم کچھ اس طرح تھا:
“بدقسمتی”
میں بدقسمتی پر ایک نظم لکھنے کو تھا
یہ سوچ کر میرے ہاتھ لرز اٹھے
میری انگلیوں میں دبکا قلم زمین پر گر گیا
میری آنکھوں سے آنسو امڈ پڑے
چند آنسو ہاتھ میں پکڑے کاغذ پر گر گئے
اور کاغذ بھیگ گیا
تو میں نے یہ جانا
آنسوؤں کی بھی اک زبان ہوتی ہے
کیا کوئی آنسوؤں کی زبان کو سمجھ پائے گا
نہیں، یہی تو بد قسمتی ہے
میں نے لیبیا کے صحرائے اعظم صحارا کے بطن سے جنم لینے والے جدید عربی ادب کے عظیم ناول نگار ابراہیم الکونی کی طرح صحرا کا فلسفی ہونے کا دعویٰ تو کبھی نہیں کر سکتا اور نہ ہی یہ میرا علمی و ادبی منصب بنتا ہے، لیکن مجھے دنیا کے ایک بہت بڑے دریا “ہاکڑا” کی بانہوں میں ہمکتی قدیم صحرائی تہذیب نے وجود بخش دیا تو مجھے بھی صحرا کا ایک بیٹا ہونے کی توقیر مل گئی ـ یوں میں نے صحرا میں جنم لیا تو میں بھی “ترینی بھر” (صحرائی ٹیکس گزار) ہو گیا ـ مظلوم خطے میں جنم لینے والے اپنے عہد کے دوسرے مرحوم بچوں کی طرح تھل، روہی، روہ ڈونگر کی مضطرب زندگی نے اپنے بدن پر سرسراتی ریت کی طرح کبھی مجھے چین سے نہیں رہنے دیا تو محراب والا احمد پور شرقیہ کا یہ روہیلا بیٹا بھٹکتا ہوا صحرا سے ساحل کی امان میں جا پہنچا- (جاری ہے)

