• پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
میاں طارق جاوید
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • Discover more at Rejestracja w Alfcasino jest prosta i szybka, a wpłaty i wypłaty realizowane są natychmiastowo, co zapewnia płynne i bezstresowe doświadczenie w świecie gier onli.

  • انٹرنیشنل افیئرز
    • چین
    • سعودی عرب
    • انڈیا
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دلچسپ
  • صحت
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • کھیل
  • بزنس
  • مضامین
  • کتاب
  • کالمز
  • ادب
    • شاعری
  • دنیا و آخرت
  • انٹرویوز
  • مقبوضہ کشمیر
No Result
View All Result
میاں طارق جاوید
No Result
View All Result
Home کالمز

سردار رحمٰن بلوچ کا 17واں یومِ شہادت تاریخ کے ایک ہنگامہ خیز باب کا کردار

تحریر: حبیب جان، لندن

mtariqnews_2026 by mtariqnews_2026
August 12, 2026
in کالمز
0
صدر آصف علی زرداری نے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) عطا کردیا
0
SHARES
4
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کچھ کردار تاریخ کی کتابوں میں جگہ پاتے ہیں اور کچھ اپنے عہد کے حالات پر ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں کہ ان سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے، مگر انہیں نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔ سردار عبدالرحمٰن بلوچ، جنہیں کراچی اور بالخصوص لیاری کی تاریخ میں رحمٰن بلوچ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، میرے نزدیک ایسے ہی کرداروں میں سے ایک تھے۔آج ان کے 17ویں یومِ شہادت پر جب میں ماضی کے اوراق پلٹتا ہوں تو ایک ایسا نوجوان نظروں کے سامنے آتا ہے جس کی شخصیت کو محض چند الزامات، مقدمات یا سرکاری فائلوں کے ذریعے سمجھنا ممکن نہیں۔ رحمٰن بلوچ کی کہانی دراصل اس عہد کے کراچی، لیاری، سیاست، محرومی، مزاحمت اور ریاستی پالیسیوں کی کہانی بھی ہے۔حالات و واقعات اور سرکاری مشینری کے رویّوں نے رحمٰن بلوچ کی زندگی کا راستہ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان پر جرائم اور قانون شکنی کے سنگین الزامات عائد ہوتے رہے، مگر میں نے جس رحمٰن بلوچ کو قریب سے دیکھا، وہ ایک نڈر، بہادر، غیرت مند اور وطن سے محبت کرنے والا نوجوان تھا۔وہ شاید زندگی کے اس فلسفے پر یقین رکھتا تھا کہ سو سال گیدڑ کی طرح جینے سے ایک دن شیر کی طرح جینا بہتر ہے۔یہ محض ایک جملہ نہیں، اس کی زندگی کے بہت سے فیصلوں کی ترجمانی کرتا ہے۔

کراچی اور طاقت کی سیاست

کراچی ہمیشہ سے پاکستان کی معاشی شہ رگ رہا ہے۔ بندرگاہ، صنعت، تجارت اور مالیاتی سرگرمیوں کے باعث اس شہر پر سیاسی بالادستی محض انتخابی سیاست کا معاملہ نہیں رہی بلکہ طاقت اور اثر و رسوخ کی ایک بڑی جنگ بھی رہی ہے۔ایک وقت تھا جب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کراچی کی سیاست میں غیرمعمولی طاقت رکھتے تھے۔ اس دور کی سیاست، ریاستی فیصلوں اور بین الاقوامی حالات کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ کراچی شدید سیاسی کشمکش کا مرکز تھا۔ایسے ماحول میں رحمٰن بلوچ نے اس سیاسی بالادستی کے مقابل مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔اس مزاحمت کی نوعیت اور اس کے نتائج کے بارے میں تاریخ اپنا فیصلہ کرتی رہے گی، لیکن میری نظر میں رحمٰن بلوچ نے کراچی، خصوصاً لیاری، میں طاقت کے یکطرفہ ارتکاز کے سامنے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ آسان راستہ نہیں تھا۔ اس راستے کی قیمت بھی تھی اور بالآخر اس نے اپنی زندگی سے یہ قیمت ادا کی۔وقت گزرنے کے ساتھ کراچی کی معاشی اور تزویراتی اہمیت مزید بڑھی۔ بعد میں CPEC جیسے منصوبوں نے پاکستان کے ساحلی اور تجارتی خطوں کی اہمیت کو ایک نئے تناظر میں دنیا کے سامنے رکھا۔ اسی لیے ماضی کے کراچی کی سیاسی کشمکش کو محض چند محلوں یا جماعتوں کی لڑائی سمجھنا میرے نزدیک تاریخ کو بہت محدود زاویے سے دیکھنا ہوگا۔وہ رحمٰن بلوچ جسے میں جانتا تھامیرے لیے رحمٰن بلوچ محض اخبار کی ایک سرخی یا کراچی کی سیاست کا ایک متنازع نام نہیں تھا۔مجھے یہ اعزاز حاصل رہا کہ عبدالرحمٰن بلوچ کے ساتھ ہمارے مراسم بھائیوں جیسے تھے۔ اسی قربت کی وجہ سے مجھے اس انسان کو بھی دیکھنے کا موقع ملا جو سیاسی نعروں، پولیس فائلوں اور اخباری خبروں کے پیچھے موجود تھا۔میں نے اس میں جرأت دیکھی، دوستی نبھانے کا جذبہ دیکھا، اپنی شناخت پر فخر دیکھا اور سب سے بڑھ کر پاکستان سے محبت دیکھی۔جب تک سردار رحمٰن زندگی کی سانس لیتا رہا، میں نے اسے پاکستان سے محبت کا دم بھرتے دیکھا۔یہ میری ذاتی گواہی ہے، اور سترہ برس گزرنے کے باوجود میرے حافظے میں آج بھی محفوظ ہے۔

ڈاکا صرف بندوق سے نہیں پڑتا

رحمٰن بلوچ کی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے میرے ذہن میں ایک بنیادی سوال ہمیشہ ابھرتا ہے: آخر ہم جرم کی تعریف کس طرح کرتے ہیں؟کیا صرف وہ شخص مجرم ہے جو ہاتھ میں بندوق لے کر قانون توڑتا ہے؟اگر قومی خزانے کو نقصان پہنچانا جرم ہے تو پھر اقربا پروری کیا ہے؟ رشوت ستانی کیا ہے؟ کمیشن خوری کیا ہے؟ سرکاری اختیار کا ناجائز استعمال کیا ہے؟ اور اگر سبسڈیز، ریبیٹس، SROs یا دوسری سرکاری مراعات کو مخصوص بااثر طبقات اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں تو عوام کے حصے کے وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کو کیا نام دیا جائے؟ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ایک ڈاکا سڑک پر پڑتا ہے تو فوراً دکھائی دیتا ہے، جبکہ دوسرا ڈاکا ایئرکنڈیشنڈ دفاتر، اقتدار کی راہداریوں اور سفید پوشی کے پردوں میں پڑتا ہے۔

ایک کے ہاتھ میں ہتھیار ہوتا ہے، دوسرے کے ہاتھ میں اختیار اور قلم۔

قانون کی نظر میں ہر جرم کا فیصلہ ثبوت اور عدالت کو کرنا چاہیے، لیکن معاشرے کو اپنے اخلاقی پیمانے بھی یکساں رکھنے چاہئیں۔ اگر ہم کمزور کے جرم پر پورا نظام حرکت میں لے آئیں لیکن طاقتور کی بدعنوانی پر خاموش رہیں تو انصاف کا تصور خود سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔تاریخ فیصلہ کرتی رہے گیمیں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ رحمٰن بلوچ کی زندگی تنازعات سے پاک تھی۔ ان کے بارے میں مختلف آرا تھیں، ہیں اور شاید آئندہ بھی رہیں گی۔ ان کی زندگی کے کئی پہلوؤں پر اختلاف کیا جاسکتا ہے اور تاریخ کو ان تمام پہلوؤں کا غیرجانب دارانہ جائزہ لینا چاہیے۔لیکن کسی انسان کی پوری زندگی کو صرف ایک سرکاری فائل، ایک مقدمے یا ایک سیاسی بیانیے میں قید کردینا بھی انصاف نہیں۔رحمٰن بلوچ اپنے عہد کے حالات کی پیداوار بھی تھا اور انہی حالات کے خلاف مزاحمت کرنے والا ایک کردار بھی۔میرے لیے تاریخ کا رحمٰن بلوچ اور میری یادوں کا عبدالرحمٰن ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ میں اسے اس شخص کے طور پر یاد کرتا ہوں جس کے ساتھ ہمارے بھائیوں جیسے مراسم تھے؛ ایک ایسا نوجوان جس میں خامیاں بھی انسانوں جیسی تھیں، مگر جرأت بھی غیرمعمولی تھی۔سترہ برس گزر گئے، وقت آگے بڑھ گیا، کراچی بدل گیا، سیاست کے کردار بدل گئے اور طاقت کے مراکز بھی تبدیل ہوگئے۔ مگر کچھ یادیں وقت کی گرد میں دفن نہیں ہوتیں۔آج سردار عبدالرحمٰن بلوچ کے 17ویں یومِ شہادت پر میں اپنے پرانے ساتھی، اپنے بھائی اور اپنی یادوں کے ایک ناقابلِ فراموش کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سردار عبدالرحمٰن بلوچ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پاکستان کو امن، اتحاد، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

Previous Post

نیب زدہ ملزم کے ہاتھوں ہزاروں ملازمین کی تقدیر کا فیصلہ! طاہر صغیر کا ایک اور تاریخ ساز شاہکار بے نقاب

Next Post

ایمریٹس نے مسافروں کیلئے 4 نئی سفری سہولیات متعارف کرا دیں،دبئی سفر کی تاریخ میں لامحدود مفت تبدیلی، ریفنڈ فیس میں کمی کا اعلان

mtariqnews_2026

mtariqnews_2026

Next Post
ایمریٹس نے مسافروں کیلئے 4 نئی سفری سہولیات متعارف کرا دیں،دبئی سفر کی تاریخ میں لامحدود مفت تبدیلی، ریفنڈ فیس میں کمی کا اعلان

ایمریٹس نے مسافروں کیلئے 4 نئی سفری سہولیات متعارف کرا دیں،دبئی سفر کی تاریخ میں لامحدود مفت تبدیلی، ریفنڈ فیس میں کمی کا اعلان

زمرہ کے لحاظ سے براؤز کریں۔

  • پاکستان
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • صحت
  • کھیل
No Result
View All Result
  • Hrajte své oblíbené kasinové hry kdykoli a kdekoli na svém chytrém telefonu nebo tabletu s Posido casino, které vám nabízí skvělou zábavu a příležitosti k výhře.

  • Εγγραφείτε εύκολα, πραγματοποιήστε γρήγορες καταθέσεις και απολαύστε ταχύτατες πληρωμές στο Vegashero, όπου η εμπειρία του online καζίνο σας περιμένει με συναρπαστική δράση.

  • صفحہ اول
  • انٹرنیشنل افیئرز
  • پاکستان
  • بزنس
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ‎
  • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • صحت
  • دلچسپ

© 2022 Develop by Newspaper