22لاکھ مربع میل کی ریاست مدینہ کے سربراہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا قول دنیا کے لیے حوالہ بن گیاکہ دریائے فرات کنارے بکری کا بچہ بھی پیاسا مرگیا تو عمر جواب دہ ہوگا۔۔۔۔رضی اللہ عنہ
مدینتہ الاولیا ملتان سے ایک خبر نے رلادیا ہے ۔۔۔دلخراش خبر یہ ہے کہ ایک بے بس والد اپنے بیٹے کو کفن کے بغیر ہی تدفین کے لیے قبرستان لانے پر مجبور ہو گیا۔۔۔۔
کراچی میں مقیم شاعر عابی مکھنوی نے تو دسمبر کی یخ بستہ راتوں میں سڑک کنارے ٹھٹھرتے بچے کا نوحہ لکھ کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یاد کیا تھا۔۔۔یہ ایک بے کفن جوان کا نوحہ ہے۔۔۔۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں
غربت کا یہ عالم ہو گیا کہ واقعی کلیجہ منہ کو آتا ہے
عابی کی نظم ہے :
میں آنکھیں جو ذرا کھولوں کلیجہ منہ کو آتا ہے
سڑک پر سرد راتوں میں پڑے ہیں برف سے بچے !!
دسمبر لوٹ آیا ہے
عمر (رض) اب بھی نہیں آیا
کسی کی بے رِدا بیٹی لہو میں ڈوب کر بولی
کوئی پہرہ نہیں دیتا مِری تاریک گلیوں میں
میں سب کچھ ہار بیٹھی ہوں درندوں کی حکومت میں !
عمر (رض) اب بھی نہیں آیا
ذرا آگے کوئی ماں تھی مُخاطب یُوں خُدا سے وہ !
مِرے آنگن میں برسوں سے فقط فاقہ ہی پلتا ہے
کوئی آہیں نہیں سُنتا مِرے بے تاب بچوں کی
میں دروازے پہ دَستک کو زمانوں سے ترستی ہوں
عمر (رض) اب کیوں نہیں آتا
عمر (رض) اب کیوں نہیں آتا
میں آنکھیں جو ذرا کھولوں
کلیجہ منہ کو آتا ہے !
سوال ہے کہ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی جواب دہ ہیں ۔۔۔۔نہیں نہیں ہر صاحب مسند سے باز پرس ہوگی ۔۔۔۔۔!!!

