کراچی (کامرس رپورٹر) گلشن اقبال، گلستان جوہر، اسکیم 33 )رئیل اسٹیٹ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین و امیدوار قومی اسمبلی این اے 235 محمد اشرف میمن نے کہا کہ نیسلا ٹاور کا فیصلہ دیر سے آئے مگر درست آئے کی مثل ہے تاہم یہ فیصلہ اُن الاٹیز کے دکھوں اور مالی و ذہنی نقصان کا مداوا نہیں، جو برسوں تک غیر یقینی صورتحال کا شکار رہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے مقدمات میں غلط فیصلوں اور غیر ضروری تاخیر کی ذمہ داری بھی متعین ہو، تاکہ مستقبل میں کسی بھی شہری کو اسی طرح کے نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انھوں نے عدالتی نظام کے بارے میں
کہا کہ عدالتی نظام میں ایسا مؤثر نظام ہونا چائیے کہ آئندہ اس قسم کے فیصلے نہ ہوں اور احتساب ہونا چاہیے کہ ہر سطح پر قانون کے مطابق اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کیے جائیں، تاکہ عوام کا انصاف پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔انھوں نے مزید کہا کہ نیسلا ٹاور کے منہدم طرز جیسے فیصلوں کی وجہ سے بیرون ملک سرمایہ کاری کا اعتماد خراب ہوتا ہے ہمارے رئیل اسٹیٹ ڈیلرز سالوں محنت کر کے انویسٹرز کو متوجہ کرتے ہیں اور اس طرز کے غلط فیصلے ہماری سالوں کی محنت کو برباد کر دیتے ہیں..انھوں نے سندھ حکومت، سٹی گورنمنٹ سمیت ٹاؤنز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی کاانفراسٹرکچر برباد کرنے میں ان سب کا ہاتھ ہے ۔کرپشن ، لوٹ مار اور سسٹم کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں ہورہی انھوں نے اسکیم 33 کی زمینوں پر سرکاری مشینری کے غلط استعمال پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ سوسائٹیوں پر ایڈمنسٹریٹر تعینات کر کے جعلی فائلوں کے زریعے بھی انویسٹرز کا اعتماد خراب ہوتا ہے سوسائٹیوں کی زمینوں پر گوٹھ بنادئیے گئے ہیں اور اس پر کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوتی اس وقت یہ انصاف کے نام نہاد مہرے کہاں سو رہے ہوتے ہیں۔۔انھوں نے آرمی چیف سے کراچی سے سسٹم نامی معاملات کے خاتمے اپیل بھی کی ہے اور کہا کہ ہم کاروباری طبقہ اس سسٹم کے خاتمے کےلئے ان سے ہر قسم کے تعاون کےلئے تیار ہیں ۔۔