اسلام آباد ( نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ نوجوان نسل ملک کا سب سے بڑا سرمایہ، حکومت نوجوانوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معیاری تربیت فراہم کرے تو یہ ملک کا قرضہ اتار دیں گے۔ بھارت کی آئی ٹی برآمدات ڈھائی سو ارب ڈالر ، پاکستان کی صرف چار ارب ڈالر ہیں جو باآسانی پچیس ارب تک جاسکتی ہیں ، بنو قابل حقیقی گیم چینجر (Game Changer) ، جماعت اسلامی کو اقتدار ملا تو تعلیم مفت کردیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الخدمت فاؤنڈیشن اسلام آباد کے زیر اہتمام منعقدہ بنو قابل گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے الخدمت اسلام آباد کے صدر الطاف شیر، سیکریٹری طیب صدیقی نے بھی خطاب کیا جبکہ جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا ، سیکریٹری زبیر صفدر اور مرکزی سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی نے بھی شرکت کی۔تقریب میں آئی ٹی کورسز مکمل کرنے والے 1200 طلبہ و طالبات میں
میڈلز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے، نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو لیپ ٹاپ بھی دیے گئے۔ تقریب میں آئی ٹی شعبے سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے بھی شرکت کی۔ امیر جماعت اسلامی نے بنوقابل کے تحت یونیورسٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے تمام گریجویٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ نوجوان دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کے پاس اتنا بڑا ہیومن ریسورس (Human Resource ) موجود ہو، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہ سکتا، بشرطیکہ نوجوانوں کو مناسب تعلیم، تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں اور وفاق کا مجموعی تعلیمی بجٹ تقریباً دو کھرب روپے ہے، اس کے باوجود ملک میں پونے تین کروڑ جب کہ صرف پنجاب میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جو حکومتی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہےحکومتیں تعلیم کے شعبے میں صرف نمائشی منصوبے شروع کرتی ہیں، آئین پاکستان واضح طور پر ہر بچے کو مفت تعلیم کا حق دیتا ہے، پنجاب میں سکولوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ غریب بچوں کے لیے تعلیم کا معیار الگ اور امیروں بکے لیے الگ ہو۔ انہوں نے پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی نجکاری پر بھی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان اداروں کو تباہ کرنے کا ذمہ دار کون ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی اور اے آئی جیسے مستقبل کے شعبوں پر سنجیدگی سے کام نہیں ہو رہا، حالانکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر پاکستان معاشی طور پر مضبوط بن سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنو قابل پروگرام کے تحت اب تک 16 لاکھ سے زائد نوجوان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور لاکھوں طلبہ و طالبات مختلف کورسز مکمل کر کے گریجویٹ ہو چکے ہیں۔ بنوقابل کا کراچی سے آغاز ہوا تھا جو اندرون سندھ سے ہوتا ہوا پنجاب، کے پی اور بلوچستان تک پھیل چکا ہے، بنوقابل کے تحت ملک کے ستر شہروں میں مفت آئی ٹی تعلیم جاری ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکل چلانے والا ایک عام شہری بھی ہر لیٹر پٹرول پر تقریباً 125 سے 150 روپے تک ٹیکس ادا کر رہا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے کو مسلسل نچوڑا جا رہا ہے۔ حکومت نے غریب عوام سے پٹرولیم لیوی کی مد میں گزشتہ برس سترہ سو ارب اکٹھے کیے اور بارہ ماہ ہدف گیارہ ماہ میں ہی پورا کرلیا، عوام کا خون نچوڑ کر حکومت نے پٹرولیم لیوی سے اب تک مجموعی طور پر آٹھ ہزار ارب جمع کرلیے ہیں، دوسری جانب آئی پی پیز کو سالانہ دوہزار ارب اس بجلی کی مد میں جارہے ہیں جو وہ پیدا ہی نہیں کرتے، بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اللہ نے جماعت اسلامی کو موقع دیا نوجوانوں کی صلاحیتوں کو قومی ترقی کا محور بنایا جائے گا۔ جنریشن زی ملک کا مستقبل سنوارے گی، نوجوان نسل کی مثبت تربیت پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے دین اور ملک پر فخر کریں، پاکستان ہم سب کا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں بڑھتا ہوا غصہ دراصل اعتماد کے فقدان کا نتیجہ ہے، برسوں سے اقتدار سے چمٹے ہوئے عناصر نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔

