اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے آزاد کشمیر کی صورتحال کے تناظر میں اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کے بعد سیاسی رابطوں کا آغاز کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سابق وزیراعظم اور سربراہ عوام پارٹی شاہد خاقان عباسی سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔ملاقاتوں میں آزاد کشمیر کے حالات، احتجاجی صورتحال، حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان پیدا ہونے والے تعطل اور بحران کے پرامن حل کے لیے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقاتوں کے بعد اطراف کے رہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندں سے مشترکہ گفتگو کی۔ ملاقاتوں کے دوران امیر جماعت اسلامی کے وفد میں نائب امیر میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی شامل تھے۔ پی ٹی آئی وفد سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر عبدالقیوم نیازی، سابق سپیکر آزاد کشمیر
اسمبلی خواجہ فاروق شامل تھے جب کہ قائد حزب اختلاف کے ساتھ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر اور ترجمان اخوندزادہ حسین یوسفزئی پر مشتمل تھا۔بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال پر پورا پاکستان تشویش میں مبتلا ہے، مسئلہ کشمیر ہمارے 80 سالہ قومی کاز (National Cause) سے جڑا ہوا ہے اور اسے کسی صورت نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اس وقت مکمل طور پر بند ہے، بہت سا خون بہہ چکا ہے، اب کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے تنازع مزید بڑھے۔ ایک راستہ یہ ہے کہ صورتحال کو مزید خراب کیا جائے، جبکہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ سنجیدہ لوگ آگے بڑھ کر جلتی پر پانی ڈالیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے گی، یہ کریڈٹ (Credit) لینے کا معاملہ نہیں، حکومت کو بھی اس پر آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن (Point of no return) تک پہنچ گئے تو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطے کے لیے ذمہ دار افراد پر مشتمل کمیٹی قائم کی ہے، جبکہ وہ وزیراعظم پاکستان اور دیگر قومی قیادت سے بھی رابطے کریں گے تاکہ صورتحال کو معمول پر لایا جاسکے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت اور احتجاج کرنے والوں کی پوزیشن مختلف ہوتی ہے لیکن مسئلے کی جڑ کو بھی پکڑنا ہوگا۔ لوگوں میں غصہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں اشیائے خورونوش اور ضروری سامان کی ترسیل فوری بحال کی جائے، کیونکہ متعدد ٹرک داخلے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کشمیر کے نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔بیرسٹر گوہر نے حافظ نعیم الرحمن اور جماعت اسلامی کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتیں متفق ہیں کہ کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل بحال ہونی چاہیے اور اپوزیشن جماعتیں صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کردار ادا کریں گی۔قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امن کو موقع نہ دیا گیا تو ایسی دراڑ پیدا ہوسکتی ہے جسے بھرنا مشکل ہوگا۔ ثالثی اسی وقت ممکن ہے جب دونوں فریق اس پر آمادہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے آئینی اور قومی فریم ورک میں رہتے ہوئے حل کیا جائے گا، اللہ کرے یہ کوشش بابرکت ثابت ہو۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں احتجاج کا حق موجود ہے، تاہم حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان خلا پیدا ہوچکا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کشمیری اس مقام تک کیوں پہنچے۔اپوزیشن رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر پورا پاکستان پریشان ہے، جماعت اسلامی کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں خوش آئند ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو پاکستان کے عالمی مؤقف کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مسئلے کے پرامن حل کے لیے سینیئر سیاستدانوں، حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز (Stakeholders) سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی ہے تاکہ آزاد کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے قومی قیادت اپنا کردار ادا کرے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امیر جماعت اسلامی اور وفد کو خوش آمدید کہا اور ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

