کابل(انٹرنیشنل ڈیسک):افغان رجیم کی اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ پیدا ہو گئی ہے اور امیرِ طالبان نے اپنے ہی کمانڈر کے خلاف آپریشن کا حکم دیا ہے۔ تفصیلات کےمطابق افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے معدنیاتی وسائل پر قبضے کی جنگ نے سنگین عسکری و سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی، افغان طالبان رجیم اور مقامی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنیات کی تقسیم پر اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ طالبان امیر ملا ہیبت اللہ نے مقامی کمانڈر جمعہ

خان فاتح کو باغی قرار دے کر ان کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دےدیا۔افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان سپیشل فورسز کا ایک بڑا قافلہ جمعہ خان فاتح کو گرفتار کرنے کیلئے بدخشاں کے ضلع شغنان روانہ ہو گیا ہے۔ کمانڈر جمعہ خان فاتح کی گرفتاری کیلئے ہمویز اور ٹرکوں سمیت 50 عسکری گاڑیوں پر مشتمل طالبان رجیم کا بھاری دستہ متحرک ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق کمانڈر جمعہ فاتح نے مقامی افراد کو طالبان رجیم کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور کانوں کا کنٹرول سنبھالنے کا حکم دے دیا ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس کےمطابق جمعہ فاتح نے طالبان رجیم کے خلاف باقاعدہ عسکری کارروائیوں کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے، کمانڈر جمعہ خان دعویٰ کر چکے ہیں کہ طالبان رجیم کے خلاف صوبہ بدخشاں میں 10 ہزار اور ضلع نسی میں 2500 جنگجو تیار ہیں۔دفاعی تجزیہ کاروں کےمطابق افغانستان کے ناراض کمانڈروں کی عسکری مزاحمت طالبان رجیم کے نظریاتی خاتمے کی شروعات ہے جو ملک کو دوبارہ شدید خانہ جنگی میں دھکیل دے گی۔ مبصرین کے مطابق افغان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں کیخلاف بڑھتی عسکری بغاوتیں مرکزی کمانڈ کے کمزور ہونے اور گہرے داخلی انتشار کا واضح ثبوت ہیں۔

