اس وقت اینٹی کرپشن سندھ کے ہاتھوں گرفتار بی آر ٹی ییلو لائن منصوبے کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کے مبینہ اربوں روپے کے اسکینڈل کی صوبے بھر میں گونج سنائی دے رہی ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے انہیں لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے سے گرفتار کرکے کراچی منتقل کیا، جبکہ ان کے اور سابق ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جھامن داس کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق منصوبے کے ٹھیکیداروں کو تقریباً 8.5 ارب روپے کی ایڈوانس ادائیگیاں قواعد و ضوابط اور معاہدے کی شرائط کے برعکس کی گئیں۔ الزام ہے کہ ادائیگیاں مطلوبہ بینک گارنٹی کے بغیر کی گئیں جس کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔تاہم ضمیر عباسی کا نام پہلی بار خبروں میں نہیں آیا۔ ان کا پورا سرکاری کیریئر مختلف تنازعات، عدالتی مقدمات، ترقیوں اور تعیناتیوں کے باعث بحث کا موضوع بنتا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ضمیر عباسی نے 2006 میں نیب میں ملازمت اختیار کی۔ بعد ازاں 2008 میں انہیں ڈیپوٹیشن پر سندھ پولیس میں ڈی ایس پی کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ 2013 میں عدالت میں دائر درخواستوں اور عدالتی احکامات کے بعد مختلف اداروں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کو واپس ان کے اصل محکموں میں بھیجنے کا عمل شروع ہوا، جس کے نتیجے میں ضمیر عباسی دوبارہ نیب واپس چلے گئے اور 2016 تک وہاں خدمات انجام دیتے رہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیب میں تعیناتی کے دوران ان کے پاس ایک معروف سیاسی شخصیت اور ایک بااثر ڈاکٹر سے متعلق انکوائری آئی۔ بعض ذرائع کے مطابق اس انکوائری کے بعد انہوں نے سندھ حکومت میں تبادلے اور اہم انتظامی عہدے پر تعیناتی کی خواہش کا اظہار کیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔تاہم انہوں نے سندھ حکومت میں جانے کا خفیہ منصوبہ تیار کیا جس کو پایہ تکمیل تک مبینہ طور پر ڈاکٹر نے پہنچایا،اور 2016 میں ان کو 2003 کے کھاتے میں مبینہ طور پر سیکشن افسر بھرتی کروادیا جبکہ اس دور کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو سیکشن افسران بھرتی کے خواہشمند افراد کی درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 اگست 2003 تھی اور انورڈ رجسٹر میں خانہ خالی نہ ہونے کے باعث وہ درخواست 18 دسمبر 2003 کو جمع ہوئی اس کے باوجود ان کی تقرری کے احکامات بآسانی جاری کردیے گئے یہ ایک انوکھا کارنامہ تھا جو سر انجام دیا گیا تھا
بعد ازاں ناقدین کی جانب سے انہیں 2003 میں سیکشن آفیسرز کی بھرتی کے عمل سے منسلک کرنے کی کوشش کی گئی۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ درخواست جمع کرانے کی تاریخ اور انورڈ رجسٹر کے اندراج کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے، جن پر بعد میں مختلف فورمز پر اعتراضات سامنے آئے۔سال 2016 میں ضمیر عباسی کی بطور سیکشن آفیسر گریڈ 17 تعیناتی عمل میں آئی، جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ تقرری قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں ہوئی۔ اس کے بعد 2017 میں ان پر آؤٹ آف ٹرن پروموشن حاصل کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔
ذرائع کے مطابق ضمیر عباسی نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے درخواست دائر کی کہ ان کے ساتھ بھرتی ہونے والے دیگر افسران گریڈ 19 میں ترقی پا چکے ہیں، لہٰذا انہیں بھی اسی گریڈ میں ترقی دی جائے۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ درخواست پر حتمی فیصلہ آنے سے قبل ہی انہیں گریڈ 19 دے دیا گیا۔
سال 2022 میں ان کی تعیناتی ایک مرتبہ پھر قانونی تنازع کا شکار بنی۔ عدالت نے ان کی تعیناتی سے متعلق نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے سندھ حکومت اور دیگر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا۔ اس عدالتی کارروائی کے بعد ضمیر عباسی کچھ عرصے کے لیے منظر عام سے اوجھل ہو گئے، تاہم بعد ازاں وہ دوبارہ اہم سرکاری عہدوں پر نظر آئے۔
ضمیر عباسی سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ میں سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اس دوران بلدیاتی اداروں میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور ترقیوں کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے ان کا نام بارہا خبروں میں آیا۔ کراچی کی 178 یونین کونسلوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات بھی شروع کی گئیں، تاہم ناقدین کے مطابق ان تحقیقات کے نتائج نمایاں طور پر سامنے نہیں آ سکے۔
بعد ازاں وہ ایسے محکموں میں تعینات رہے جہاں مالی اور انتظامی اختیارات غیر معمولی اہمیت رکھتے تھے۔ ان میں لوکل گورنمنٹ، فوڈ، اینٹی کرپشن اور کراچی موبیلیٹی پروجیکٹ جیسے ادارے شامل ہیں۔ ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک متنازع سروس ریکارڈ رکھنے والے افسر کو مسلسل ایسے حساس اور مالیاتی طور پر اہم محکموں میں کیوں تعینات کیا جاتا رہا۔اب بی آر ٹی ییلو لائن منصوبے میں مبینہ اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کے مقدمے نے ان کے پورے سرکاری کیریئر کو دوبارہ بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے ان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
اب تمام نظریں اینٹی کرپشن کی تفتیش پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ تحقیقاتی ادارہ اس کیس میں کس حد تک حقائق سامنے لانے، مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے ذمہ داران کا تعین کرنے اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی مکمل تصویر عوام کے سامنے رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے، یا پھر ماضی کی طرح یہ معاملہ بھی فائلوں اور انکوائری رپورٹس تک محدود رہ جائے گا۔

