کراچی (نمائندہ خصوصی)اہلِ سنت والجماعت کراچی ڈویژن کی جانب سے محرم الحرام کے مقدس مہینے میں ہر سال کی طرح اس سال بھی عظمتِ صحابہ کرامؓ و اہلِ بیتِ اطہارؓ کے عنوان سے "عشرہ فاروقؓ و حسینؓ” منایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں آج سوک سینٹر کراچی سے مزارِ قائد تک ایک عظیم الشان "اتحادِ اُمت و امن واک "کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔واک میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، مشائخ عظام، دینی
مدارس کے طلبہ، تنظیمی ذمہ داران، نوجوانان اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث مکاتبِ فکر کے جید علماء و مشائخ کی شرکت نےاس واک کو اتحادِ امت، اخوتِ اسلامی اور باہمی ہم آہنگی کی عملی تصویر بنا دیا۔شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز، بینرز اور قومی پرچم اٹھا رکھے تھے جن پر اتحاد، امن، رواداری، عظمتِ صحابہؓ، حرمتِ اہلِ بیتؓ، استحکامِ پاکستان اور فرقہ واریت کے خاتمے کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ شرکاء نے ملک میں امن و استحکام، افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔اس موقع پر مرکزی صدر اہلِ سنت والجماعت پاکستان علامہ اورنگزیب فاروقی، کراچی ڈویژن کے صدر علامہ رب نواز حنفی، جنرل سیکریٹری علامہ تاج محمد حنفی، مولانا محی الدین شاہ الحسینی، مولانا عبدالرافع، مولانا عمر معاویہ، مولانا شکیل فاروقی، فضل خالق، قاری عبدالوہاب، مولانا حمید احمد، کامران فاروقی،، انجینئر اشرف میمن ، قاری عبدالشکور اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔مرکزی صدر اہلِ سنت والجماعت پاکستان علامہ اورنگزیب فاروقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ:”سیدنا عمر فاروقؓ عدل و انصاف کے عظیم ترین نمونہ اور سیدنا امام حسینؓ حق، صبر اور قربانی کے استعارہ ہیں۔ ان دونوں عظیم شخصیات کی تعلیمات امتِ مسلمہ کو اتحاد، اخوت اور استقامت کا درس دیتی ہیں۔ آج ملک جن داخلی و خارجی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ان حالات میں ہمیں نفرت، انتشار اور فرقہ واریت سے دور رہتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا، لاڑکانہ میں گزشتہ چار برس سے نصب ایک بورڈ کو محرم الحرام کے آغاز پر متنازع قرار دے
کر ہٹائے جانے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات اہلِ سنت کے حلقوں میں احساسِ محرومی کو جنم دے رہے ہیں اور انتظامیہ کو اس حوالے سے متوازن اور منصفانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ لاڑکانہ میں مذکورہ بورڈ گزشتہ چار سال سے نصب تھا جس پر "دامادعلیؓ و بتولؓ” کے الفاظ درج تھے۔ اس تمام عرصے میں نہ تو اس بورڈ کی وجہ سے کوئی امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا، نہ کسی قسم کا تنازع سامنے آیا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی مؤثر احتجاج دیکھنے میں آیا۔ تاہم محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی اچانک اسے متنازع بنا کر احتجاج شروع کیا گیا، جس کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر بورڈ ہٹوا دیا۔بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ اگر واقعی یہ بورڈ قابلِ اعتراض تھا تو گزشتہ چار برسوں کے دوران اس کے خلاف کوئی قانونی یا عوامی اقدام کیوں نہیں کیا گیا؟ اور اگر اس عرصے میں یہ کسی کے لیے مسئلہ نہیں تھا تو پھر محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی اسے تنازع کا موضوع بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟قائدین نے کہا کہ ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کے جذبات، احساسات اور مذہبی وابستگیوں کا یکساں احترام کیا جائے۔صدر اہلِ سنت والجماعت کراچی ڈویژن علامہ رب نواز حنفی نے کہا کہ:”محرم الحرام ہمیں صبر، تحمل، برداشت اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے۔ موجودہ ملکی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ تمام مکاتبِ فکر، سیاسی و مذہبی جماعتیں اور عوام الناس پاکستان کے استحکام، امن و سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔جنرل سیکریٹری کراچی ڈویژن علامہ تاج محمد حنفی نے کہا کہ:”عشرہ فاروقؓ و حسینؓ اتحادِ امت کا پیغام ہے۔ ہم تمام مسلمانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اشتعال انگیزی، نفرت انگیز بیانیے اور فرقہ وارانہ کشیدگی سے دور رہتے ہوئے محبت، اخوت اور رواداری کو فروغ دیں۔”اتحادِ اُمت و امن واک کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کے عوام امن، استحکام اور باہمی احترام کے خواہاں ہیں۔ ہم صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ دونوں سے محبت کرنے والے ہیں اور پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ عشرہ فاروقؓ و حسینؓ کے دوران کراچی سمیت ملک بھر میں اجتماعات، سیمینارز، کانفرنسز، دروس اور فکری نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا جن میں نوجوان نسل کو صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ کی سیرت، کردار، قربانیوں اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے گا۔۔لاڑکانہ میں بورڈ ہٹانے کا واقعہ انتظامیہ کی غیر متوازن پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، اہلِ سنت کے تحفظات دور کیے جائیں قائدین نے لاڑکانہ میں گزشتہ چار برس سے نصب ایک بورڈ کو محرم الحرام کے آغاز پر متنازع قرار دے کر ہٹائے جانے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات اہلِ سنت کے حلقوں میں احساسِ محرومی کو جنم دے رہے ہیں اور انتظامیہ کو اس حوالے سے متوازن اور منصفانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ لاڑکانہ میں مذکورہ بورڈ گزشتہ چار سال سے نصب تھا جس پر "دامادعلیؓ و بتولؓ” کے الفاظ درج تھے۔ اس تمام عرصے میں نہ تو اس بورڈ کی وجہ سے کوئی امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا، نہ کسی قسم کا تنازع سامنے آیا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی مؤثر احتجاج دیکھنے میں آیا۔ تاہم محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی اچانک اسے متنازع بنا کر احتجاج شروع کیا گیا، جس کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر بورڈ ہٹوا دیا۔بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ اگر واقعی یہ بورڈ قابلِ اعتراض تھا تو گزشتہ چار برسوں کے دوران اس کے خلاف کوئی قانونی یا عوامی اقدام کیوں نہیں کیا گیا؟ اور اگر اس عرصے میں یہ کسی کے لیے مسئلہ نہیں تھا تو پھر محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی اسے تنازع کا موضوع بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟قائدین نے کہا کہ ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کے جذبات، احساسات اور مذہبی وابستگیوں کا یکساں احترام کیا جائے۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فیصلے مکمل غیر جانبداری، انصاف اور قانون کے تقاضوں کے مطابق کریں، نہ کہ کسی مخصوص دباؤ یا احتجاج کی بنیاد پر۔انہوں نے کہا کہ احتجاج اور مؤقف کا اظہار ہر شہری کا آئینی حق ہے، لیکن اسی طرح دوسرے فریق کے جذبات اور مؤقف کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ یکطرفہ اقدامات نہ صرف احساسِ محرومی کو بڑھاتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔اہلِ سنت والجماعت کے قائدین نے حکومتِ سندھ اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کسی بھی طبقے میں ناانصافی یا امتیازی سلوک کا تاثر پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی امن، رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی اسی وقت ممکن ہے جب قانون سب کے لیے برابر ہو، انتظامیہ غیر جانبدار رہے اور معاشرے کے تمام طبقات کے حقوق اور احساسات کا یکساں احترام کیا جائے۔واک کے اختتام پر ملکِ پاکستان کی سلامتی، استحکام، معاشی ترقی، قومی یکجہتی، افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، علماء کرام اور تمام مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا کی گئی

