ایک دور وہ تھا جب پاکستان کی خواتین رہنماؤں کا نام دنیا بھر میں احترام سے لیا جاتا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ جیسے لیڈرز جب ایوان میں آتی تھیں، تو نہ صرف ان کی گفتگو شائستہ اور بصیرت سے بھرپور ہوتی تھی، بلکہ ان کا پہناوا اور انداز بھی ان کے بلند مرتبے اور خاندانی وقار کا عکاس ہوتا تھا۔ ان کا دوپٹہ، ان کا اندازِ تکلم اور ان کی سنجیدگی پارلیمان کے تقدس کو چار چاند لگا دیتی تھی۔
اور پھر آیا ‘نیا دور’۔۔ جہاں قیادت کا معیار، لباس کا وقار اور گفتگو کی شائستگی سب کچھ ماضی کا قصہ بن کر رہ گیا ہے!
آج اسمبلی کا فلور کم اور کسی ڈرامے کا سیٹ زیادہ لگتا ہے، جہاں ایسی خواتین لیڈر آگئی ہیں جن کے رویے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ پارلیمان میں ہیں یا کسی عام محلے میں۔
یقین نہیں آتا؟ خود ہی دیکھ لیں۔۔
کہیں کوئی بی بی اسمبلی میں کھڑی ہو کر صوبہ مانگ رہی ہیں، لیکن ان کا منہ گٹکے سے بھرا ہوا ہے! گٹکے کا منہ میں رکھ کر صوبہ مانگنا ایوانِ اقتدار کے وقار کے کس قدر منافی ہے۔۔ صوبہ ملے نہ ملے، گٹکا تو سلامت رہے! آخر کو ‘صوبہ’ بھی گٹکے کی ایک ‘ورائٹی’ تو نہیں؟
اور دوسری طرف، صوبائی وزیر صاحبہ ہیں جو ایم کیو ایم سے ایسے الجھ رہی ہیں جیسے نئی نویلی دلہن ساس سے تکرار کر رہی ہو۔۔
ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ ‘ٹوں ٹوں’ کرتی نظر آتی ہیں۔۔۔ کیا عوامی مسائل پر بات کرنے کا یہی طریقہ ہے؟ کیا اسمبلی کے تقدس کا خیال صرف محترمہ بے نظیر جیسی رہنماؤں تک ہی محدود تھا؟
لگتا ہے اب لیڈر بننے کے لیے سیاستدان ہونا نہیں، بلکہ گٹکا منہ میں رکھ کر ‘منہ پھٹ’ بننا یا سسرال میں لڑنے کا تجربہ ہونا زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔۔ اور لباس کا وقار تو جیسے اب کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔
سیاست اب خدمت کا نام نہیں، بلکہ گٹکے، ‘ٹوں ٹوں’ اور غیر سنجیدہ رویوں کا ایک دلچسپ امتزاج بن گئی ہے!


