اسلام آباد۔ ( کرائم رپورٹر)محرم الحرام کے مقدس مہینے میں سیاسی مہروں نے محض الیکشن کے چکر میں آزاد کشمیر کو خونریز تعطل (Deadlock) میں دھکیل دیا ہے۔ ایک طرف ن لیگ کی قیادت خطے کو انتخابی اکھاڑہ بنا کر ملک دشمنی کر رہی ہے اور سوشل میڈیا پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تو دوسری طرف آزاد کشمیر (AJK) میں سڑکوں کی بندش کی وجہ سے غریب کشمیریوں کے گھروں میں راشن اور خوراک بالکل ختم ہو رہی ہے۔ان سنگین حالات میں مشعال حسین ملک کی طرف سے ہاتھ جوڑ کر فیلڈ مارشل سے فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔ سر! آپ پہلگام (معرکہِ حق) کے غازی ہیں، آپ نے رضیہ سلطان کو بیٹی کہا اور یاسین ملک کو ہیرو مانا۔ اللہ کے بعد اب آپ ہی اس بحران کو حل کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ کشمیری اپنی پاک فوج کے ساتھ ہیں، ہمارا یہ خون کا رشتہ "مودی کے یاروں” کی سیاسی سازشوں سے نہیں ٹوٹ سکتا۔مشعال حسین ملک کی طرف سے بحران کے فوری حل کے لیے دو طرفہ پکار
حکومت کے لیے محرم کے احترام میں آزاد کشمیر کے لیے راشن، کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی سپلائی لائنز کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔مظاہرین اور JAAC کے لیے: انسانی جانوں کے تحفظ، بچوں کو بھوک سے بچانے اور خطے میں امن کی خاطر دھرنے ختم ک کے فوری اور پرامن طور پر منتشر (Disperse) ہو جائیں اور میز پر بیٹھ کر پرامن مذاکرات (Peaceful Dialogue) کا آغاز کریں۔سیاسی چالوں اور انتشار کو شکست دینے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ہم سب ہوشمندی کا راستہ اختیار کریں۔پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن مشعال حسین ملک نے آزاد جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) میں جاری صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تعطل کا خاتمہ ہو اور ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی بحال کی جا سکے۔اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی بندش کے باعث خوراک، راشن اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے جس سے عوام خصوصاً غریب اور کمزور طبقات کو مشکلات کا سامنا ہے۔محرم الحرام کے مقدس مہینے کے تناظر میں مشعال حسین ملک نے ملکی قیادت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتے ہوئے فوری مداخلت کی جائے اور خطے کے مکینوں کو مزید مشکلات سے بچایا جائے۔انہوں نے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل بحال کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیتے ہوئے احتجاجی مظاہرین اور جومائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین سے بھی پرامن انداز میں دھرنے ختم کر کے تعمیری مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔مشعال حسین ملک کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کا تحفظ، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کی فلاح و بہبود سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کشیدگی اور افراتفری سے نکلنے کا واحد راستہ دانشمندی، تحمل اور مکالمہ ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آزاد کشمیر میں امن، استحکام،باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے فروغ کے ذریعے ہی موجودہ چیلنجز کا حل ممکن ہے اور متاثرہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔

