کوئٹہ ( نمائندہ خصوصی)ایمان پاکستان ٹرسٹ کی چیئرپرسن ۔بلوچستان عوامی پارٹی ویمن ونگ کی سربراہ اور رکن صوبائی اسمبلی محترمہ فرح عظیم شاہ نے بجٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں اس ایوان میں صرف اعداد و شمار، ترقیاتی منصوبوں اور مالی تخمینوں کی بات کرنے نہیں کھڑی، بلکہ ان لاکھوں غریب، محنت کش، بے روزگار نوجوانوں، سفید پوش خاندانوں، کسانوں، مزدوروں اور محروم طبقات کی آواز بن کر کھڑی ہوں جو مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے ہاتھوں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔جب ایک ماں اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی پوری نہ
کر سکے، جب ایک نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم ہو، جب ایک مزدور سارا دن محنت کے باوجود اپنے گھر کے اخراجات پورے نہ کر سکے، تو ایسے میں بجٹ کے بڑے بڑے دعوے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔
اسی لیے آج میں حکومت سے یہ سوال کرتی ہوں:”تم اپنی خواہشوں پر ٹیکس لگا کے کبھی میرے غریب کو جینے کا آسرا دے دو۔”محترم اسپیکر صاحب!بجٹ کا اصل مقصد صرف آمدن اور اخراجات کا حساب کتاب نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ ایک کامیاب بجٹ وہی ہوتا ہے جو غریب کے چولہے کو روشن کرے، نوجوان کے ہاتھ میں روزگار دے، کسان کی زمین کو آباد کرے اور طالب علم کے خوابوں کو حقیقت میں بدل دے۔بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، مگر یہاں کا نوجوان آج بھی روزگار کی تلاش میں دربدر ہے۔ یہاں کے کسان بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، خواتین ترقی کے مواقع کی منتظر ہیں اور دور دراز علاقوں میں عوام صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں کے لیے ترس رہے ہیں۔میں حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ:نوجوانوں کے لیے روزگار اور ہنر مندی کے خصوصی پروگرام متعارف کروائے جائیں۔تعلیم اور صحت کے شعبوں کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔غریب اور متوسط طبقے کو مہنگائی سے بچانے کے لیے خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے۔بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے۔خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے مزید وسائل اور مواقع فراہم کیے جائیں۔کسانوں اور مزدوروں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔محترم اسپیکر صاحب!آج عوام کو نعروں کی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہیں ایسے فیصلے درکار ہیں جو ان کے گھروں میں خوشحالی، ان کے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور ان کے مستقبل میں امید پیدا کریںمیں اس ایوان کے ذریعے حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ایسا بجٹ پیش کرے جو صرف کاغذوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لائے۔ ایسا بجٹ جو امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرے، محروم طبقات کو سہارا دے اور بلوچستان سمیت پورے پاکستان کے عوام کی توقعات پر پورا اترے۔آخر میں ایک بار پھر یہی کہوں گی:”تم اپنی خواہشوں پر ٹیکس لگا کے کبھی میرے غریب کو جینے کا آسرا دے دو،یہ بجٹ محلوں کی نہیں، جھونپڑیوں کی امید بننا چاہیے۔”

