یہ ضرار ہاشم خان ہیں،ان معنوں میں پاکستان کے غیرسرکاری بیورو کریٹ کہ یہ براستہ سی ایس ایس بیورو کریسی میں داخل نہیں ہوئے،یہ پرائیوٹ سیکٹر میں تھے شریف حکومت کو خیال سوجھا کہ بوڑھے دماغ شہباز اسپیڈ کا ساتھ نہیں دے پارہے تو انہوں نے "یوٹیلیٹی اسٹور” کے بجائے کسی بڑے” کیش اینڈ کیری” کا رخ کیا اور پرائیویٹ سیکٹر سے ضرار ہاشم خان کو بھاری تنخواہ پر وفاقی سیکرٹری لے لیا، خان صاحب،اس سے پہلے پی ٹی سی ایل میں ‘گروپ چیف بزنس سلوشنز آفیسر’ خدمات انجام دے رہے تھے، جہاں وہ بی ٹو بی (B2B) اور بی ٹو جی (B2G) کسٹمرز کے لیے آئی سی ٹی پورٹ فولیو کی ترقی کے ذمہ دار تھے،دوبارہ پڑھیئے گا سیلانی نے کیا لکھا ہے
"بی ٹو بی (B2B) اور بی ٹو جی (B2G) کسٹمرز کے لیے آئی سی ٹی پورٹ فولیو کی ترقی کے ذمہ دار۔۔۔”
اور ان کا عہدہ کیا تھا چیف بزنس سلوشنز آفیسر۔۔۔۔یہ بزنس سلوشنز افیسر بھی یاد رکھیے گا اور ساتھ لے کر پڑھتے چلے جایئے۔یہاں انہوں نے بزنس کی راہ میں مشکلات ایسے حل کیں کہ پی ٹی سی ایل کے چیئرمین ہوگئے اس سے پہلے جناب کویت میں سعودی ٹیلی کام میں گیارہ برس گزار چکے تھے کویت میں ان کی ذمہ داری "ٹیکنالوجی اسٹریٹجی” کی تھی یہ کمپنی کے موبائل، فکسڈ لائن، اور آئی سی ٹی (ICT) انفراسٹرکچر کے لیے طویل المدتی تکنیکی حکمتِ عملی تیار کرتے تھے، جس میں پورے کویت میں نیٹ ورک کوریج کو بڑھانے، نئے ٹاورز لگانے اور جدید ترین آلات نصب کرنے کی نگرانی کی زمہ دار بھی یہی صاحب تھے،ٹاور کھڑے کرنے کے زمہ دار کون تھے ۔۔۔۔۔ ہاشم ضرار خان
اب آ جائیں اس بیہودہ قانون پر جسے پیش کرنے کے بعد خواجہ آصف کی وزیر بھتیجی، شزہ فاطمہ کی سوشل میڈیا پر بھد اڑائی جا رہی ہے ۔۔۔۔ کویت میں کھمبے گاڑنے اور پی ٹی سی ایل کے ٹاور کھڑے والی اس عظیم شخصیت کے سامنے جب اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والی موبائل فون کمپنیوں نے اپنی مشکلات کا زکر آٹھ آٹھ آنسو بہا کر کیا ہوگا تو ان کا ردعمل کیا رہا ہوگا ؟ یقیناً ان کا دل بھی پسیج گیا ہوگا ۔۔۔۔ کلائنٹ کے مسائل حل کرنے کا تو انہیں پرانا تجربہ تھا جانتے تھے کہ دو دو ٹکے کے لوگ کس طرح تنگ کرتے ہیں۔۔۔۔انہیں وفاقی سیکرٹری کی گھومنے والی کرسی ملی تو وزارت میں انقلابی سوچ آگئی،شزہ فاطمہ صاحبہ بے شک نام نہ بتائیں لیکن لوگ جان گئے ہیں کہ کھمبے کھڑے کرنے کے احکامات نادرشاہی کے سامنے حرف انکار کرنے والے کے لئے پانچ کروڑ تک کے جرمانے کی سزا کس نے رکھوائی ہوگی ۔۔۔کس نے مشورہ دیا ہوگا کہ کسی کے بھی گھر کی بیل بجا کر کہہ دیا جائے کہ چھت سے چارپائیاں اور مرغیوں کے دڑبے پرے کرو، ہم نے موبائل فون کا ٹاور کھڑا کرنا ہے اب بھلے اس گھر کا لونڈا صبح سویرے ، شلواریں دھو دھو کر چھت پر ڈالتا ہو کہ اماں ابا کو رحم آجائے اور وہ بھی سہرہ باندھ کر گھوڑی چڑھ جائے ،اس کمپنی نے اسکے ارمانوں پر اس جگہ ٹاور کھڑا کرنا ہی کرنا ہے،جہاں اس نے دولہن بیاہ کر لانے کے لئے کمرہ بنانا تھا وہاں لوہے کا ایک مینارہ اور جنریٹر ہونا ہی ہونا ہے۔۔۔ لطیفہ تو یہ کہ یہ لطیفہ قانون ،اپنی قومی اسمبلی نے پاس بھی کردیا تھا وہ تو بھلا ہو پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان اور سینئر صحافی روف کلاسرہ کا جس نے رولا اتنا رولا ڈالا کہ بلاول بھٹو کو قانون کے خلاف آرڈر جاری کر نے پڑے کہ جیالے سینیٹرز اس قانون کی حمایت نہیں کریں گے،اب کہا جارہا ہے کہ اس بل کی نوک پلک سنواری جائے گی اور خدا کرے کہ خواجہ آصف کے مطابق فرشتوں کی موجودگی میں یہ نوک پلک درست نہ ہو ورنہ خاکیوں کی کون سنے گا،اک بات اور ضرار ہاشم خان صاحب کو ان کی خدمات پر ستارہ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے اب ستارے کے بعد چن چڑھانا تو بنتا ہی ہے بھلا چاند کے بغیر ستارے کسے اچھے لگتے ہیں؟
سیلانی دیکھتا چلاگیا

