اسلام آباد( نمائندہ خصوصی):دنیا بھر میں خواتین اور بچیاں روزانہ تقریباً 250 ملین گھنٹے پانی جمع کرنے میں صرف کرتی ہیں جو مردوں اور لڑکوں کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے، یہ عدم مساوات خواتین اور بچیوں کی تعلیم، صحت اور آمدنی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔یہ اہم انکشافات پانی سے متعلق تین بین الاقوامی اشاعتوں میں سامنے آئے جن کا منگل کو یہاں مشترکہ طور پر اجرا ءکیا گیا۔ یہ تقریب عالمی یومِ آب کی توسیعی سرگرمیوں کا حصہ تھی جس کا انعقاد اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو)، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے مشترکہ طور پر کیا۔تقریب میں پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر )، گلوبل کلائمیٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر (جی سی آئی ایس سی )، اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن سائنس فاؤنڈیشن (ای سی او ایس ایف ) اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں یونیسکو واٹر چیئر برائے انٹیگریٹڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ (آئی ڈبلیو آر ایم ) نے بھی تعاون
کیا۔تقریب میں پیش کی گئی اقوام متحدہ کی عالمی آبی ترقیاتی رپورٹ 2026 کے مطابق دنیا بھر میں اب بھی 2.1 ارب افراد محفوظ طریقے سے پینے کے پانی کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ 3.4 ارب افراد کو محفوظ صفائی کی سہولیات میسر نہیں۔ مزید برآں 1.7 ارب افراد کے گھروں میں بنیادی حفظانِ صحت کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کے اندازوں کے مطابق تقریباً 55 فیصد آبادی محفوظ پینے کے پانی تک رسائی سے محروم ہے جبکہ دیہی علاقوں میں رہنے والی 58 فیصد سے زائد آبادی کو محفوظ صفائی کی سہولیات حاصل نہیں ہیں۔پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر نے کہا کہ پانی سے متعلق حل جامع، عملی اور مقامی علم و دانش سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں ۔یو این واٹر گلوبل اینالیسز اینڈ اسیسمنٹ آف سینی ٹیشن اینڈ ڈرنکنگ واٹر (GLAAS) 2025 رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانی کی دستیابی میں کمی کے ساتھ شہری علاقوں میں واٹر، سینی ٹیشن اور ہائجین (WASH) کے شعبے میں سرمایہ کاری کا خلا ء بڑھ گیا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں اس کمی میں نسبتاً کمی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی چاروں صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے مجموعی واٹر، سینی ٹیشن اور ہائجین بجٹ میں 2022 سے 2024 کے دوران 225 ارب روپے سے بڑھ کر 265 ارب روپے تک اضافہ ہوا، جو بظاہر 18 فیصد اضافہ ہے تاہم اسی عرصے میں مہنگائی کی بلند شرح کے باعث حقیقی معنوں میں یہ بجٹ 20 فیصد کمی کی عکاسی کرتا ہے۔تقریب کے دوران یونیسکو اور پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کی جانب سے ’’پاکستان میں آبی تحفظ کے حصول کے لیے سائنس، پالیسی اور عمل کے باہمی ربط (ایس ایس پی آئی) کے رہنما اصول‘‘ بھی پیش کئے گئے جن کا مقصد سائنس دانوں، پالیسی سازوں اور عملی ماہرین کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا ہے۔عالمی تھیم ’’پانی اور صنفی مساوات‘‘ کے تحت اقوام متحدہ کے اداروں نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی آبی بحران کے اثرات سب پر یکساں نہیں ہوتے ،جہاں محفوظ پینے کے پانی اور صفائی کی سہولیات میسر نہیں ہوتیں وہاں عدم مساوات بڑھتی ہے اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین اور بچیوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔تقریب میں حکومتی نمائندوں، اقوام متحدہ کے اداروں، محققین، ترقیاتی شراکت داروں، جامعات، سول سوسائٹی تنظیموں اور آبی شعبے کے ماہرین نے شرکت کی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور صنفی حساس آبی حکمرانی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔یونیسکو پاکستان کے نمائندے کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں تینوں رپورٹس کے اہم نتائج اور سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پانی کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی اور سماجی شمولیت کے باہمی چیلنجز سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔گول میز مباحثے میں ، اور نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے پانی کے تحفظ، صفائی، عوامی صحت، موسمیاتی موافقت اور پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 6 کے حصول کے لئے سائنس، پالیسی اور عمل کے درمیان مؤثر رابطے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔بعد ازاں ماہرین کے ایک پینل نے سائنسی شواہد کو مؤثر پالیسیوں اور عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے طریقوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سائنسی بنیادوں پر پالیسی سازی، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ آبی انتظام، بہتر آبی حکمرانی، اداروں کے درمیان تعاون اور پانی سے متعلق فیصلہ سازی میں خواتین کی زیادہ شمولیت وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی فرد ترقی کے سفر میں پیچھے نہ رہ جائے۔

