اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ) پاکستان مسلم لیگ قیوم الزامات کی سیاست کرنے کے لیے چالیس سال بعد دوبارہ سیاست کے میدان میں نہی آئی۔ ملک کی تمام بڑی جماعتوں کے سربراہان اور ان کے لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ خان عبدالقیوم خان کون تھے اور انکی اس ملک کے لیے کیا کیا خدمات رہی ہیں۔ اگر کسی کو نہیں معلوم تو پاکستان کی تاریخ اٹھا کر پڑھ لے۔مسلم لیگ قیوم کے ترجمان اور مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات فیصل انور نے بجٹ پر بات کرتے
ہوئے کہا کہ آج کے اس جدید دور میں بے شمار وسائل کے باوجود کونسا ایسا صوبہ ہے جو مفت تعلیم پر کام کر رہا ہے؟فیصل انور نے کہا کہ حکومت بجٹ میں تعلیم کے شعبے پر خصوصی پیکج کا اعلان کرے۔ اس پیکج میں تمام اساتذہ کے لیے بھی مراعات کا اعلان ہونا چاہیے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بجٹ میں اسٹیشنری (کتابیں، کاپیاں، پنسلین وغیرہ) پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ایسا مشورہ دینے والوں پر حیرت ہوتی ہے۔ بجٹ میں سٹیشنری پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا مقصد تعلیم کا قتل عام ہو گا۔ترجمان مسلم لیگ نے اپنے بیان میں کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں جہاں دو وقت کی روٹی اور گھر کا کچن چلانا مشکل ہو رہا ہے وہاں ہزاروں اور لاکھوں روپے کی فیسیں ادا کرنا مڈل کلاس اور لوئر کلاس کے طبقے کے لیے نا ممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے کیا کہ پرائیویٹ اسکول اور یونیورسٹیاں من مانی فیسیں لے رہی ہیں جن پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں، بجٹ سے پہلے ہی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں من مانہ اضافہ نا منظور ہے حکومت فوری ایکشن لے۔
مسلم لیگ قیوم کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ملک میں بنیادی تعلیم کا ایک نظام قائم کرے اور بارہویں جماعت تک تعلیم اور کتابیں مفت فراہم کرے۔ اگر حکومت نے بجٹ میں تعلیم کو ترجیح نہ دی تو مسلم لیگ قیوم عملی طور پر اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
فیصل انور نے کہا کہ ماضی میں بھی تعلیم دشمن پالیسیاں بنائی گئیں اور اب ایک بار پھر اس عمل کو دہرایا جا رہا ہے، جسے مسلم لیگ قیوم نا منظور کرتی ہے۔

