جس کی وجہ سے سندھ حکومت کو ورلڈ بینک، کراچی کی عوام اور ایف ڈبلیو او کے سامنے ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب سندھ حکومت نے ضمیر عباسی کے خلاف کارروائی کرنا چاہی تو اینٹی کرپشن سندھ کے ماتحت عملے نے ضمیر عباسی کو خبر کردی، جس کے بعد وہ کراچی سے فرار ہوگیا۔ضمیر عباسی کو فرار کروانے کے پاداش میں ڈی جی اینٹی کرپشن امتیاز علی ابڑو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نیز اس نااہلی کے سبب اینٹی کرپشن کا قلمدان سنبھالنے والے منسٹر محمد بخش مہر سے بھی یہ قلمدان واپس لیا جا رہا ہے۔بی آر ٹی کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی پر الزام ہے کہ اس نے یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی منصوبے سے17ارب روپے کا غبن کیا اور کان سے کان ملا کر کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔ تین ماہ پہلے جب پہلی بار سوشل میڈیا پر کراچی کے معروف صحافی ارباب چانڈیو نے یونیورسٹی روڈ کو پچھلے چار سال سے کدائی کر کے چھوڑ دینے کی خبر وائرل کی تو حکومتِ سندھ، عالمی بینک اور دیگر اداروں کو معاملے کی سنگینی کا ادراک ہوا۔ حکومتِ سندھ نے غیر جانبداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او (FWO) کو معاہدہ دے دیا اور انہیں پابند کیا کہ پروجیکٹ کو 90 دنوں میں مکمل کیا جائے۔
اور جب FWO نے پروجیکٹ کا کام سنبھالا اور وزیرِ اعلیٰ سندھ اور سندھ کی اہم شخصیات کو بریفنگ دی گئی تو وہاں یہ راز فاش ہوا کہ سابقہ پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی وزیرِ اعلیٰ سندھ اور دیگر اہم شخصیات کو پروجیکٹ کے متعلق جھوٹی بریفنگ دیتے رہے۔ جب ارباب چانڈیو کی خبر کے بعد چار سالوں سے کُنڈر (خستہ حال) کی صورت اختیار کرنے والے پروجیکٹ کے بارے وزیر اعلا سندھ نے ضمیر عباسی سے پوچھ گچھ کی تو ضمیر عباسی نے پھر جھوٹ بول کر پورا ملبہ ٹھیکیدار پر ڈال دیا اور ٹھیکیدار سے سندھ حکومت کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دِلوا دی۔
سندھ ہائی کورٹ میں جب یہ پٹیشن جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس نثار بھمبرو کے سامنے پیش ہوئی تو دونوں جسٹس صاحبان بہت سمجھدار ہیں، انہوں نے ٹھیکیدار کی ایک نہ سنی اور حکومتِ سندھ کے خلاف کوئی آرڈر جاری نہ کیا۔ورلڈ بینک، FWO کے بعد جب سندھ حکومت گہرائی میں گئی تو اسے معلوم ہوا کہ یہ ساری جگ ہنسائی ضمیر عباسی کے دھوکے (bluff) اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ سندھ حکومت نے پہلے تو FWO کو کنٹریکٹ دے کر اس غفلت اور غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کی، اور دوسرا یہ کہ ضمیر عباسی کو اینٹی کرپشن کے کیس میں گرفتار کر کے 17 ارب روپے وصول (recover) کرانے کی کوشش کی جائے تاکہ عوام، ورلڈ بینک، FWO اور سوشل میڈیا کو تسلی دی جا سکے۔مگر حکومتِ سندھ کی یہ منصوبہ بندی اینٹی کرپشن نے لیک کر دی اور ضمیر عباسی کراچی سے فرار ہو گیا۔ اینٹی کرپشن نے کراچی میں ضمیر عباسی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا، لیکن ضمیر عباسی ہاتھ نہیں آیا۔
ضمیر عباسی کون ہے؟ اور کیسے اتنی بلندی پر پہنچا؟
ضمیر عباسی اصل میں گمبٹ شہر، ضلع خیرپور کا رہنے والا ہے۔ یہ پہلے نیب میں 2006 میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقرر ہوا تھا اور کچھ سال نوکری کرنے کے بعد سیاسی سفارش پر دسمبر 2008 میں ڈیپوٹیشن پر سندھ پولیس میں مساوی عہدے (گریڈ 17) پر ڈی ایس پی لگ گیا۔جب ضمیر عباسی ڈی ایس پی سکھن تھا تو میری اس سے ملاقات اس وقت ہوئی جب یہ ہائی کورٹ کی طرف سے ایک انکوائری میں میرے پاس پیش ہوا۔ دیکھنے میں یہ اتنا معصوم اور بھولا (Innocent) لگتا ہے کہ اس پیارے کو دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں، مگر بعد کے حالات اور اس کی اڑان دیکھ کر پتہ چلا کہ اس جیسا شارپ، شاطر، ہوشیار، چرب زبان اور چکر باز شخص آپ کو نہیں ملے گا۔ ضمیر عباسی ہمیشہ منفی سوچ رکھنے والا اور دوسروں کے نقصان کا سوچنے اور کرنے والا انسان ہے۔سال 2013 میں سپریم کورٹ نے ایک درخواست پر دوسرے محکموں میں ڈیپوٹیشن پر مقرر افسروں کو ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا، اور اسی طرح عباسی اپنے اصل محکمے نیب میں واپس چلا گیا۔ وہاں جاتے ہی ڈاکٹر عاصم کا کیس ضمیر عباسی کو تفتیش کے لیے دے دیا گیا۔ تفتیش کے دوران ڈاکٹر عاصم کو ضمیر عباسی نے کوئی فائدہ دیا یا نہیں، مگر ضمیر عباسی کو فائدہ یہ ہوا کہ…
ضمیر عباسی نے بڑی ہوشیاری سے ایک درخواست سندھ حکومت کو دی کہ 2003 میں گریڈ 16 (سیکشن افسر) کی بھرتی کے لیے درخواست دی تھی۔ درخواست دینے کی آخری تاریخ 20 اگست 2003 تھی، مگر ضمیر عباسی نے جعلسازی سے 18 دسمبر 2003 کو اپنی درخواست جمع کروا دی۔ ڈاکٹر عاصم صاحب بہت اچھے آدمی ہیں، انہوں نے 2016 میں پرانی درخواست (2003) کی بنیاد پر ضمیر عباسی کو سندھ سیکرٹریٹ میں گریڈ 16 میں سیکشن افسر مقرر کروا دیا۔ ضمیر عباسی نے نیب کی گریڈ 17 کی نوکری سے استعفیٰ دے کر سندھ سیکرٹریٹ میں گریڈ 16 میں جوائن کر لیا اور سیکشن افسر بن گیا۔جب کہ 2003 میں سیکشن افسر کا امتحان پاس کرنے والے 2016 تک گریڈ 18 میں پروموٹ ہو چکے تھے، ضمیر عباسی نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن لگائی کہ مجھے بھی اپنے بیچ میٹس کے ساتھ سینئرٹی دی جائے اور گریڈ 18 میں پروموٹ کیا جائے۔ چمتکار یہ ہوا کہ سندھ ہائی کورٹ کے بغیر کسی آرڈر کے، صرف پٹیشن داخل کرنے کی بنیاد پر ضمیر عباسی گریڈ 18 میں پروموٹ ہو گیا۔ یعنی پہلے بغیر کسی امتحان کے گریڈ 16 میں نوکری، اور بعد میں بغیر کسی ہائی کورٹ کے آرڈر کے، 2003 کی سینئرٹی کے ساتھ 2016 میں گریڈ 18 میں ترقی۔
ضمیر عباسی جب نیب میں تھا تو اس بات میں مشہور تھا کہ وہ اپنی طرف سے نیب کا جعلی کال اپ نوٹس بنا کر کسی افسر کو نیب آفس بلا لیتا اور بعد میں اُسی افسر کو گھر بلا کر ڈیل کر لیتا اور ان سے کروڑوں روپے لے لیتا۔ نیب میں تعیناتی کے دوران ضمیر عباسی نے ایک ٹھیکیدار سے 25 کروڑ روپے انکوائری ختم کرنے کے لیے لے لیے۔ ضمیر عباسی نے اُس ٹھیکیدار کا کام نہیں کیا اور ٹھیکیدار نے نیب میں شکایت کر دی۔ اب تک نیب میں ضمیر عباسی کے خلاف چار انکوائریاں چل رہی ہیں۔نیب انکوائریوں میں یہ سامنے آیا ہے کہ ضمیر عباسی نے ضلع قمبر اور گمبٹ کے کچھ شناختی کارڈ ہولڈرز کے نام پر اربوں روپے (ٹرانسفر) کر کے ترقی اور دبئی بھیجے ہیں۔۔ ضمیر عباسی نے اُس ٹھیکیدار کا کام نہیں کیا اور ٹھیکیدار نے نیب میں شکایت کر دی۔ اب تک نیب میں ضمیر عباسی کے خلاف چار انکوائریاں چل رہی ہیں۔
نیب انکوائریوں میں یہ سامنے آیا ہے کہ ضمیر عباسی نے ضلع قمبر اور گمبٹ کے کچھ شناختی کارڈ ہولڈرز کے نام پر اربوں روپے (ٹرانسفر) کر کے ترقی اور دبئی بھیجے ہیں۔یہ ہے ایک افسر کی کرپشن کی کہانی جو 2006 سے شروع ہوتی ہے۔ گذشتہ 20 سالوں میں صرف ایک ہوشیار اور پکڑائی نہ دینے والے افسر نے تقریباً 50 ارب روپے کی کرپشن کر کے اثاثے بنا لیے ہیں جن کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ہے ہمارا پیارا پاکستان!
