حیدرآباد۔(نمائندہ خصوصی)سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر تمام حجاج کرام اور عالم اسلام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی انسانیت کو ایثار، قربانی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہر شے نچھاور کرنے کا درس دیتی ہے۔ راول ہاؤس ٹنڈوجام میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عید کا یہ مبارک دن باہمی محبت، بھائی چارے اور یگانگت کے فروغ کا تقاضا کرتا ہے، لہٰذا تمام اختلافات کو بھلا کر خوشیوں کو مل جل کر منانا چاہیے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیراعظم شھباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ نفرتوں کے خاتمے اور رواداری کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔ 28ویں آئینی ترمیم محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہے اور حکومت سے اس ضمن میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی ہمیشہ سندھ کا حصہ
تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم نہیں ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے غریب اور مستحق خواتین کی معاونت کی جاتی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ عیدالاضحیٰ کے فوری بعد حیدرآباد میں لطیف آباد تا حیدر چوک روٹ کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں پانی کے مسائل کے حل کے لیے مقامی انتظامیہ بھرپور اقدامات کررہی ہے۔ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا آغاز حکومت سندھ نے کیا تھا اور اس پر کام مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی کاموں کی نگرانی کے لیے وزیراعلیٰ سندھ اور متعلقہ حکام ہر ہفتے دورے کرتے ہیں۔ اشیائے ضروریہ اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باعث بعض مشکلات کا سامنا رہا، تاہم حکومت نے کنٹریکٹر کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔منشیات کے خلاف جاری کریک ڈاؤن پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ منشیات ایک مہلک زہر ہے جو پورے خاندان کو تباہ کردیتا ہے، اسی لیے پولیس منشیات فروش عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کررہی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی تعاون کی اپیل کی تاکہ نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچایا جاسکے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ خواتین کو پنک اسکوٹیز فراہم کرنے کے ساتھ انہیں ڈرائیونگ لائسنس اور تربیت کی سہولیات بھی فراہم کررہی ہے۔ان کے مطابق اسکیم کے آغاز سے قبل صرف 150 خواتین کے پاس ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا جبکہ اب 25 ہزار خواتین لائسنس کے لیے درخواست دے چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تجاوزات کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہورہی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے شاہراہ بھٹو کے افتتاح کے بعد صوبے کی تقسیم سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض عناصر ترقیاتی منصوبوں کے مخالف ہیں۔
