بیجنگ (نمائندہ خصوصی)پاکستان اور چین نے بنیادی قومی مفادات سے متعلق تمام امور پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان – چین شراکت داری کو عملی، نتیجہ خیز اور اعلیٰ معیار کے تعاون کے نئے مرحلے میں داخل کرنے پر اتفاق اور سی پیک کے اگلے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے اپنی توقعات اور عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پیر کو بیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق یہ ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے پس منظر میں منعقد ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم لی چیانگ کی جانب سے پرتپاک استقبال پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان-چین دیرینہ سٹرٹیجک تعاون پر مبنی شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان آہنی
دوستی باہمی اعتماد، سٹرٹیجک تعاون، امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے بنیادی قومی مفادات سے متعلق تمام امور پر مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے سی پیک کے اگلے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے اپنی توقعات اور عزم کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان-چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی، سٹرٹیجک، سکیورٹی اور عوامی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے اہم موقع کو پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی خیرسگالی کے عملی، عوام دوست اور مستقبل پر مبنی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔انہوں نے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے تبادلوں اور قریبی رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے سی پیک اور اس کےآئندہ مرحلے کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیاجس میں صنعتکاری، دوطرفہ روابط، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تبدیلی، صاف توانائی اور سماجی و اقتصادی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز ہوگی۔ وزیراعظم نے چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے اور پاکستان کے ترقیاتی فریم ورک ’’اُڑان پاکستان‘‘ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کو تیز کیا جا سکے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی قومی ترقی اور اقتصادی استحکام کے لیے چین کی مستقل حمایت کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان میں چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے خلائی سٹیشن پروگرام کے لیے پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب نئے اور سٹریٹجک شعبوں میں پاکستان چین تعاون کی بڑھتی ہوئی گہرائی کا مظہر ہے۔ فریقین نے قریبی رابطہ کاری برقرار رکھنے، طے شدہ منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے اور پاکستان – چین شراکت داری کو عملی، نتیجہ خیز اور اعلیٰ معیار کے تعاون کے نئے مرحلے میں داخل کرنے پر اتفاق کیا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹرمحمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر ریلوے حنیف عباسی، مشیرِ وزیرِ اعظم ہارون اختر اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی سید طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

