کراچی ( پریس ریلیز ۔اسٹاف رپورٹر)جناح اسپتال کی انتظامیہ نےسوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں پھیلائے جانے والے الزامات بے بنیاد، من گھڑت اور جاری اصلاحاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم کوشش معلوم ہوتے ہیں۔ موجودہ
انتظامیہ نے ہمیشہ شفافیت، میرٹ اور احتساب کی پالیسی پر عمل کیا ہے اور اسی وجہ سے وہ عناصر پریشان ہیں جو ماضی میں نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے رہے۔یہ حقیقت ہے کہ کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ اسپتال کے تقریباً ہر
شعبے میں تکنیکی اور معاون عملے کی بھرتی مکمل طور پر شفاف طریقہ کار کے تحت کی گئی۔ تمام بھرتیاں باقاعدہ شفاف ٹینڈرنگ، اور مکمل SPPRA قوانین و ضوابط کے مطابق عمل میں لائی گئیں ہیں۔ اس اقدام کا مقصد صرف اور صرف مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، عملے کی کمی پوری کرنا، اور اسپتال کے نظام کو مؤثر بنانا تھا۔ شفاف
بھرتیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش دراصل میرٹ کے نظام کے خلاف ایک مہم ہے۔موجودہ انتظامیہ کی ایک تاریخی کامیابی مین اسٹور اور انوینٹری سسٹم کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے۔ ماضی میں ادویات کے ریکارڈ، اسٹاک اور ایکسپائری کی نگرانی دستی نظام کے تحت ہوتی تھی، جس سے بے ضابطگیوں کے امکانات موجود رہتے تھے۔ اب جدید
کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے دوا کے اسٹاک، اجرا، ایکسپائری، دستیابی اور تمام تفصیلات ایک کلک پر دستیاب ہیں۔ اس اقدام سے شفافیت، نگرانی اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور سرکاری وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ انتظامیہ نے کسی بھی بدعنوان یا غلط عمل میں ملوث عناصر کو تحفظ دینے کے بجائے ان کے
خلاف عملی کارروائی کی۔ ادویات کی چوری اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں اور قانونی و محکمانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ پہلی مرتبہ اسپتال کے اندر موجود مافیا اور غیر قانونی مفادات کے خلاف سنجیدہ اور مؤثر ایکشن لیا جا رہا ہے۔انتظامیہ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ اسپتال میں کرپشن، اقربا پروری،
چوری، ریکارڈ میں ردوبدل، اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال میں ملوث کسی بھی فرد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، چاہے اس میں کوئی بھی فرد شامل ہو۔بدقسمتی سے اصلاحات، احتساب اور شفافیت سے متاثر بعض عناصر اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں، مگر ایسے ہتھکنڈے اسپتال انتظامیہ کو عوامی خدمت، ادارہ جاتی بہتری اور اسپتال کے نظام کو مضبوط بنانے کے مشن سے نہیں روک سکتے۔

