اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ معلومات چھپا کر ایک سے زیادہ پاسپورٹ حاصل کرنا ،رکھنا پاکستانی قانون کے تحت قابل سزا جرم ہے اور اس پر قید اور قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ہفتہ کو ایف آئی اے حکام نے اے پی پی کو بتایا کہ اس طرح کے معاملات عام طور پر اس وقت سامنے آتے ہیں جب افرادملک بدری کے ریکارڈ، ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شمولیت یا امیگریشن کی سابقہ خلاف ورزیوں اور سفری پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پہلے سے جاری پاسپورٹ کی موجودگی کو چھپا کر ایک ہی شناخت یا مختلف شناخت کے تحت دوسرا پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ ایکٹ 1974 کی دفعہ 6(1)(j) کے تحت حقائق کو چھپا کر ایک سے زیادہ عام پاسپورٹ حاصل کرنا ایک جرم ہے جس کی سزا تین سال تک قید یا جرمانہ ہے۔انہوں نے وضاحت کی
کہ محدود مستثنیات موجود ہیں جیسا کہ صرف مناسب اجازت اور مکمل سرکاری ریکارڈ کے ساتھ سرکاری یا سفارتی پاسپورٹ کے ساتھ ایک عام پاسپورٹ کا ہونا وغیرہ ۔ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل افراد کو دوسرا پاسپورٹ حاصل کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے جبکہ جدید بائیو میٹرک سسٹم اور نیشنل ڈیٹا بیس ایسی کوششوں کا پتہ لگانے کو آسان بنا دیتے ہیں۔انہوں نےخبردار کیا کہ شناختی دستاویزات کا غلط استعمال یا جعلی ذرائع سے پاسپورٹ حاصل کرنا مستقبل میں پاسپورٹ کے اجراسے انکار کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ اگر ان کا پاسپورٹ گم ہو جائے، چوری ہو جائے یا خراب ہو جائے تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کریں اور کوئی اور دستاویز حاصل کرنے کے لیے حقائق کو چھپانے کے بجائے طے شدہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے نیا پاسپورٹ حاصل کریں۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ سفری پابندیوں اور امیگریشن کے مسائل کو قانونی ذرائع سے حل کریں اور قانونی نتائج سے بچنے کے لیے پاسپورٹ کے ضوابط پر سختی سے عمل کریں۔

