سرینگر۔(نمائندہ خصوصی):بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری عوام انتہائی مشکلات و مصائب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر جو وعدے کیے گئے تھے ، وہ پور ے کیے جائیں۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے آج سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی اصل قیمت کشمیری عوام ادا کر رہے ہیں جو تشدد ، سانحات اور نقصانات کے ایک کٹھن دور سے گزر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی سیاسی جدوجہد اس لیے تھی کہ ان کی آواز سنی جائے، ان کے جمہوری امنگوں کا احترام کیا جائے اور ان کے عزت نفس و وقار کو تسلیم کیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ میر واعظ عمر فاروق نے بھارت اور پاکستان پر زور دیاکہ وہ آپس میں بات چیت کریں، مسئلے کے حل کا کوئی راستہ نکالیں اور اس عمل میں جموں و کشمیر کے عوام کو بھی شامل کریں۔
انہوں نے اپنے والد شہید میرواعظ مولوی محمد فاروق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ہمیشہ مکالمے کے راستے پر عمل پیرا رہے۔حریت کانفرنس کے ایک اور سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے امام بارگاہ بڈگام میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے دوران جموں خطے کے علاقے سدرہ میں انسداد تجاوزات کی نام نہاد مہم کی آڑ میں مسلمان گجربکروال قبائلی برادری کے گھرو ں کی مسماری پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ انہدامی کارروائی کے نتیجے میں بیسیوں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں، جو نہایت غیر انسانی اور انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔ آغا سید حسن نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے کمزور اور پسماندہ طبقات میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے مسماری مہم فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں کوانسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے ۔ فوجی ضلع کولگام کے ایک گائوں میں تلاشی کی کارروائیوں کے دوران دس سے زائد نوجوانوں کو حراست میں لیکر قریبی جنگل میں ساتھ لے گئے اور ایک غار کی تلاشی میں انہیں بطور انسانی ڈھال استعمال کیا ۔اس دوران محمد جہانگیر نامی ایک نوجوان غار میں موجود ریچھ کے حملے سے شدید زخمی ہوا اور وہ اس وقت سرینگر کے صورہ ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں پیش آنے والے حول قتل عام کے دلخراش واقعے کو 36 برس بیت گئے لیکن متاثرہ خاندانوں کو آج تک انصاف نہیں مل سکا۔قابض فوجیوں نے21مئی کو سرینگر کے علاقے حول میں میر واعظ مولوی محمد فاروق شہید کے جنازے کے جلوس پر اندھا دھند گولیاں برسائی تھیں جس کے نتیجے میں 72سوگوار شہید جبکہ 2سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے ۔ یہ سفاکانہ قتل عام مقبوضہ علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین کارروائیوں میں سے ایک ہے ۔

