اسلام آباد(نمائندہ خصوصی):دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں امن، مذاکرات اور پائیدار حل کےلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں رواں ہفتے بھی جاری رہیں۔ جمعہ کو یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے دو مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ترجمان نے کہا کہ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون، خطے اور عالمی صورتحال خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی تازہ پیش رفت اور پاکستان کی جانب سے کشیدگی میں کمی اور امن کے فروغ کےلئے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، دونوں جانب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دیرپا امن اور استحکام کےلئے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد موثر راستہ ہیں۔ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی امن کے فروغ اور سفارتی ذرائع کے ذریعے مسائل کے حل کےلئے اپنے ہم
منصبوں سے مسلسل رابطے میں رہے۔ نائب وزیراعظم نے قطر کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے، انہوں نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور خطے کی بدلتی صورتحال اور جاری کثیرالجہتی سفارتی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے بھی گفتگو کی جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر بات چیت ہوئی۔ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی رواں ہفتے ایران کے دو اہم دورے کئے، انہوں نے 16 مئی اور بعد ازاں 20 مئی کو ایران کا دورہ کیا جہاں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔ ترجمان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حالیہ ڈرون حملوں کی مذمت کی اور دونوں برادر ممالک سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ایسی تنصیبات کو کسی بھی صورت میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
